بُک شیلف

حسان خالد / محی الدین  اتوار 10 اپريل 2022
جانیے دلچسپ کتابوں کے احوال۔

جانیے دلچسپ کتابوں کے احوال۔

دیوار گریہ کے آس پاس
(اسرائیل کا باتصویر سفرنامہ)
کاشف مصطفٰے باکمال سرجن اور امراض قلب کے ماہر کے طور پر عالمی سطح پر نامور ہیں۔ انہیں نیلسن منڈیلا کے معالج ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ راولپنڈی سے تعلق لیکن ایک عرصے سے جنوبی افریقہ کے شہر جوہنسبرگ میں مقیم ہیں۔

فطرتاً سیلانی مزاج ہیں، کہتے ہیں: ’’جب بطور Cardiothoracic Surgeon دوسروں کا دل ٹھیک کرتے کرتے اپنا دل بے قرار ہونے لگتا ہے تو سفر پر نکل پڑتا ہوں۔‘‘ ایک دنیا دیکھی لیکن پہلی مرتبہ سفرنامہ لکھنے کا خیال اس وقت آیا جب اسرائیل کا سفر پیش نظر تھا۔

اس تاریخی سرزمین میں گزرے اپنے شب و روز کا احوال انہوں نے اس خوبی سے بیان کیا ہے کہ قاری کے ذہن میں ایک فلم چل پڑتی ہے اور وہ اس کی دلچسپی میں کھو جاتا ہے۔

وہ مختلف مناظر کو ان کے تاریخی پس منظر کے ساتھ بیان کرتے ہیں، اپنے روحانی تجربات کا ذکر کرتے ہیں، سیاسی و سماجی حالات پر روشنی ڈالتے ہیں اور وہاں بسنے والے لوگوں کے محسوسات ہم تک پہچاتے ہیں۔ سفرنامے کو پڑھ کر اس خطے کے بارے میں بہت سی نئی معلومات ملتی ہیں اور آپ خود کو اس کے متعلق زیادہ باشعور محسوس کرتے ہیں، جو کسی بھی لکھنے والے کی کامیابی ہے۔

سفر کی کئی یادگار تصاویر بھی کتاب میں شامل ہیں، لیکن ہمارے خیال میں ضمنی عنوان ’’اسرائیل کا باتصویر سفرنامہ‘‘ کی ایک معنویت وہ منظرکشی بھی ہے، جو نثر میں کی گئی ہے۔ یہ سفرنامہ پہلے ایک ویب سائٹ پر قسط وار شائع ہوا، جسے بہت پذیرائی ملی۔ اردو ترجمہ معروف فکشن نگار محمد اقبال دیوان نے کیا ہے۔ مترجم کی مہارت کا اعتراف مصنف نے ان الفاظ میں کیا ہے، ’’میرے جملے اور بیانیہ ایک طبیب بے نوا کے نسخے تھے۔

سرجیکل آلات جیسے بے رحم اور مطلب پرست، پتلے حفاظتی دستانوں جیسے بے لذت۔ دیوان صاحب انھیں ایسا پرکار بناتے اور برمحل تصاویر سے یوں مزین کر دیتے کہ قاری رفیق سفر بن جاتا تھا۔‘‘ 224 صفحات پر مشتمل اس کتاب کی قیمت ایک ہزار روپے درج ہے، جسے قوسین پبلشرز 124C-1)، فیصل ٹائون لاہور( نے شائع کیا ہے۔ کاغذ اور جلدبندی عمدہ ہے۔

انبیاء کی اس سرزمین کے بارے میں مصنف کہتے ہیں، ’’یہ ارض مقدس اپنے اندر ایک باشعور مجذوب کی سی کیفیت چھپائے بیٹھی ہے۔ اس کے اندر جو کچھ ہے وہ باہر والے نہ دیکھ سکتے ہیں نہ محسوس کر سکتے ہیں۔

بیرونی دنیا کے افراد اس سے وابستہ واحد جنون مسلسل کے پہلو سے تو سطحی طور پر آشنا ہیں لیکن سربستہ رازوں کے اس خزانے کا خود عالم اسلام کی ایک بڑی اکثریت کو بھی صحیح ادراک نہیں۔‘‘ اسرائیل کے دارالخلافہ، تل ابیب میں فلسطینیوں کا داخلہ یکسر ممنوع ہے، لیکن یہاں آج بھی دس فیصد آبادی مسلمانوں کی ہے۔ ان کی اکثریت جافا میں رہتی ہے، جو کہ دارالحکومت کی جڑواں بستی ہے۔

دونوں کا انتظام ایک ہی میونسپلٹی کے پاس ہے۔ کاشف مصطفٰے کے بقول، ’’تل ابیب، اسرائیل کا کراچی ہے مگر ویسا بدصورت، بے ہنگم اور بدحال نہیں۔ اس کا شمار خوش حالی میں ابوظہبی کے بعد پورے مشرق وسطیٰ میں دوسرے نمبر پر ہے۔

شہر کا نام اس کا مطلب جان لینے پر اور بھی حسین لگتا ہے۔ اس کا مطلب پہاڑی (Tel) چشمہ (Aviv) ہے۔‘‘ جافا دنیا کا دوسرا قدیم ترین شہر ہے۔ قدامت کے لحاظ سے پہلا شہر دمشق ہے جو مسلسل آباد ہے۔ اسرائیل میں ہر کلومیٹر کے فاصلے پر ملٹری چیک پوسٹ ہوتی ہے، وہاں نوجوانوں کو دو سال کی لازمی فوجی تربیت کے مرحلے سے بھی گزرنا پڑتا ہے۔

مسجد اقصٰی اور اس سے ملحقہ حصوں میں صرف مسلمانوں کو جانے کی اجازت ہے۔ اس لیے ادھر آخری سیکیورٹی چیک پوسٹ اسرائیلی عرب مسلمانوں کے سپرد ہے، جو تصدیق کے لیے سیاحوں سے دین اسلام سے متعلق کوئی سوال بھی پوچھ لیتے ہیں۔

مصنف لکھتے ہیں، ’’جب میں نے اسے اپنے ملک کا نام پاکستان بتایا تو اس نے کسی تکلف اور توقف کے بغیر میرے گال کا بوسہ لے لیا۔ میری آنکھیں بھی اس وقت نم آلود ہو گئیں جب میں نے اس بوسے کے بعد اس عرب گارڈ کی آنکھ میں آنسو دیکھا۔ دل میں بے اختیار یہ خیال کوندا کہ کیا پاکستان اور اس کی فوج اب بھی عالم اسلام کی آخری امید ہے؟ ’’میرے بھائی، مسجد اقصٰی میں خوش آمدید! ‘‘ اس کا آنسوئوں سے نم آلود یہ جملہ مجھے پاکستان سے اس سمیت ہم سب کی امید اور موجودہ حکمرانوں اور اشرافیہ کے طرز معاشرت پر ندامت، دونوں سے بھگو گیا۔

اللہ نے کیسا اعلیٰ ملک و منصب دیا ہے اور ہم نے اس کا کیا بنا کر رکھ دیا ہے!‘‘ مسجد اقصٰی کے ساتھ قبتہ الصخرہ ایک شاندار عمارت ہے جسے ایک انسانی تعمیر شدہ ٹیلے پر بنایا گیا ہے۔

وہاں کے لوگوں نے مصنف کو بتایا، ’’اسرائیلی عربوں کے لیے مسجد اقصٰی ایک وجود لازم ہے، اس سے وابستگی میں ہی ہمارا مکمل تشخص پنہاں ہے، یہ ہم مظلومین کی روحانی پناہ گاہ ہے۔‘‘ اس علاقے میں بسنے والے مسلمان بہت غریب اور اکثریت دیہاڑی دار ہے۔ انہیں اسرائیلی مظالم کا بھی سامنا ہے لیکن اس مقدس مقام سے لگائوکی وجہ سے وہ کسی اور ملک کارخ نہیںکرتے۔ انہوں نے شکوہ کیا کہ اسرائیلی حکومت کوشش کرتی ہے کہ غیرملکی مسلمان، مقامی مسلمانوں سے رابطے میں نہ آئیں۔ انھیں پہلے ہی خوف زدہ کر دیا جاتا ہے۔

کاشف مصطفٰے کو یہاں بہت سے روحانی تجربات ہوئے۔ شب معراج حضور ﷺ نے جس جگہ پیغمبروں کی امامت فرمائی، اس جگہ پر نفل ادا کرنے کی سعادت نصیب ہوئی۔ مصنف کی کیفیت بیان سے باہر تھی۔ انبیاء کے مزارات پر حاضری بھی دی۔

یہاں اپنے قیام کے دوران وہ لوگوں کا رضاکارانہ طبی معائنہ بھی کرتے رہے، جس سے مصنف کو بہت زیادہ طمانیت کا احساس ہوا۔ آگے چل کر ایک موقع پر مسجد ابراہیمی میں نماز جمعہ ادا کرنے سے پہلے مصنف کی اسرائیلی فوجیوں سے مڈبھیڑ بھی ہوئی۔ جب انہوں نے چیک پوسٹ پر تلاشی دیتے عربوں کی دو تین تصاویر لیں تو پانچ اسرائیلی فوجیوں نے انھیں گھیر لیا اور ان کے ڈرائیور پر تشدد کیا۔ یہ سفرنامہ ہمیں اس راز سے بھی آشنا کرتا ہے کہ اسرائیل میں یہود العرب (Sephardi Jews) نسبتاً ایک کمزور طبقہ ہے۔

اس میں اسپین اور عرب کے یہود شامل ہیں۔ اس کے برعکس Ashkenazi یہودی ہیں جن کا تعلق یورپ اور روس سے ہے۔ یہ صہیونیت کے سب سے بڑے داعی ہیں۔ یہودی عرب اور مسلمان عرب اپنے آپسی معاملات میں نرم گوشہ رکھتے ہیں۔ دوسرا اہم راز، جس سے آپ باخبر ہوتے ہیں، یہ ہے کہ اہل یہود اپنے جس مسیحا کے منتظر ہیں، جسے ہم دجال اور عیسائی ’اینٹی کرسٹ‘ پکارتے ہیں، اس کی آمد میں اب کل دو سو بائیس سال بچے ہیں۔

اس سے پہلے انھوں نے ہیکل سلیمانی، جو ان کے عقیدے کے حساب سے عین مسجد الانبیاء اور اقصٰی الجدید کے تہ خانوں میں واقع ہے، اس کی تعمیر کرنے کی ٹھان رکھی ہے۔ ان باتوں کی تفصیل کے علاوہ اس سفرنامے میں ہم اسرائیل اور وہاں بسنے والے مختلف گروہوں کے لوگوں کی جیتی جاگتی زندگی کا نظارہ کر سکتے ہیں۔

پس پردہ(طنزو مزاح)


مزاح ‘ جسے ہم انگریزی میں HUMOUR کے نام سے جانتے ہیں درحقیقت اسے قدیم یونانی اصطلاح humoral Medicineسے اخذ کیا گیا ہے۔ اس اصطلاح کا اصل ماخذ لاطینی زبان کا لفظ HUMOR جس سے مراد انسانی جسم میں پایا جانے والا وہ سیال مادہ ہے جو انسانی صحت اور جذبات و احساسات کی صورت گری کرتا ہے۔ اس وقت کے تصورات کے مطابق یہ سمجھا جاتا تھا کہ اس سیال میں توازن قائم رہے گا تو انسان جسمانی اور روحانی اعتبار سے صحت مند رہے گا ۔

بصورت دیگر اس کی ذہنی اور جسمانی حالت درست نہ رہے گی۔ یہی تصور آج بھی زیادہ ترقی یافتہ تصورات کی صورت میں موجود ہے۔ مزاح کے بارے میں موجود تصورات متفقہ طور پر نفسیاتی حوالے سے اسے ایک صحت مند انسانی رویہ قرار دیتے ہیں۔ ہم سب بار ہا اس تجربے سے گزرتے ہیں کہ انتہائی تناؤ والے ماحول کو مزاحیہ رویہ یا بات خوشگوار بنا دیتی ہے۔

مزاح ہماری روز مرہ زندگی کا ایک لازمی حصہ ہے ۔ لوگ اپنے مجموعی رویئے میں کم یا زیادہ مزاحیہ انداز اپناتے ہیں اور اس سے محفوظ ہوتے ہیں لیکن مزاح نگاری بطور ادبی صنف کے ا یک بالکل الگ چیز ہے۔ یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ مزاح پیدا کرنا ادب کی مشکل ترین اصناف میں سے ایک ہے۔ زیر نظر کتاب پس پردہ بھی طنز و منزح کے پیرائے میں لکھے گئے ذوالفقار چیمہ کے مضامین کا مجموعہ ہے۔

ذوالفقار چیمہ ریٹائرڈ پولیس آفیسر ہیں، اور نہایت نیک نام افسروں میں شامل ہیں۔ ریٹائرمنٹ کے وقت پنجاب پولیس کے سب سے بڑے منصب انسپکٹر جنرل کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے تھے۔ ان کا ایک اور امتیاز یہ ہے کہ انتظامی فرائض سے فراغت حاصل ہونے کے بعد انہوںنے اپنا تعلق باقاعدہ طور پر قلم سے جوڑا اور اس وقت ان کا شمار ملک کے اہم کالم نگاروں میں ہوتا ہے۔ روزنامہ ایکسپریس میں باقاعدگی کے ساتھ چھپتے ہیں اور کئی کتب بھی تصنیف کر چکے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ جو شخصیات کسی دوسرے پروفیشن سے لکھنے لکھانے کی طرف آتے ہیں تخلیق کار ہمیشہ سے ان میں موجود ہوتا ہے۔ میرا ان کے ساتھ پہلا تعارف ان کی ایک انگریزی مضامین کی کتاب Straight Talk سے ہوا، جس کے دیباچے میں انہوںنے ایک واقعہ کا ذکر کیا جس سے ان کی پیشہ وارانہ دیانت اور فرض سے لگن پر مہر تصدیق ثبت ہوتی ہے۔

وہ واقعہ کچھ یوں ہے کہ نواز شریف دور میں جب ان کی تقرری آئی جی سندھ کے طور پر کی جا رہی تھی تو پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم نے اس کی سخت مخالفت کی تھی جبکہ پولیس اور بیورو کریسی میں یہ تاثر بہت گہرا تھا کہ آخر اتنے اہل افسر کو آئی جی پنجاب کیوںنہیں لگا دیا جاتا۔ مصنف تو اس بات کو اللہ کی مرضی قرار دیتے رہے لیکن نواز شریف نے ہائی وے اینڈ موٹروے پولیس کی تقریب تقسیم انعامات میں اس سوال کا جواب خود ہی ان الفاظ میں دے دیا کہ ’’میں ذوالفقار چیمہ کو 21 برس سے جانتا ہوں یہ اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کرتے اور حق بات پر کسی کی نہیں سنتے‘‘۔

پاکستان کی ادبی تاریخ میں کئی ایسے روشن نام ہیں جنہوں نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی تو سرکاری افسر کے طور پر گزاری ا ور بعد میں قلم کی گوہر افشانی ان کے ایک اور تعارف کی موجب بنی۔ ان میں مختار مسعود اور قدرت اللہ شہاب جیسی شخصیات شامل ہیں۔ جہاں تک اردو میں مزاح نگاری کا تعلق ہے تو اسی میدان میں ابن انشاء ‘ رشید احمد صدیقی‘ شفیق الرحمن‘ صدیق سالک‘ یونس بٹ ‘پطرس بخاری ‘ کرنل محمد خان اور شوکت تھانوی جیسے بڑے نام موجود ہیں۔

ذوالفقار چیمہ کے مزاحیہ مضامین پڑھنے کے بعد ایسا نہیں لگتا کہ منصف نے کسی منصوبہ بندی کے تحت مزاحیہ مضامین لکھنے کا قصد کیا ہے‘ یا ان تحریروں کی تخلیق کا مقصد خود کو ایک مزاح نگار کے تصور پر منوانا ہے بلکہ یوں لگتا ہے کہ ہمارے معاشرتی ڈھانچے میں موجود کجیوں اور ہمارے سماجی رویوں میں نمایاں بدنمائیوں پر کرب اور اذیت کا احساس اپنی ہی اس کیفیت پر ہنسنے میں تبدیل ہو گیا ہے۔ ’’پس پردہ‘‘ میں شامل مضامین مزاح نگاری اولین ترجیح نہیں لگتی بلکہ اصل محرک بحیثیت قوم ہمارے وہ روئے ہیں جو ہمارے لئے شرمندگی کا باعث بنتے ہیں۔

ان مضامین میں HUMOUR کے وہ تمام عناصر موجود ہیں جو مسکراہٹ کے لطیف احساس سے لے کر قہقہے تک پھیلے ہوئے ہیں۔ کسی صورتحال کی مضحکہ خیزی کیسے مبالغہ آرائی کے ہنر سے کہیں زیادہ پرلطف ہو جاتی ہے۔ کہیں الفاظ کے صوتی تاثر میں مماثلت یا ذومعنی ہونے کو لطف کا احساس دلانے کے لئے برتا جاتا ہے اور سب سے بڑھ کر اس معاملے میں جوہنر پڑھنے والے کو چونکا دیتا ہے وہ کسی صورت میں بالکل درست موقع پر متوقع یا غیر متوقع بات کا ہو جانا ہے۔

اس کتاب میں شامل مضامین میں سے چند مثالیں یقینا پڑھنے والوں کے لئے دلچسپی کا باعث ہوں گی۔ ’’اس کے بعد ایک خاتون نے آ کرکہا‘ حضور ہماری بچی چُپ چُپ رہتی ہے‘ پوچھا گیا ’’بچی کی عمر کتنی ہے‘‘؟ ماں نے بتایا’’بیس بائیس سال‘‘ اس پر پیر صاحب نے ہدایت کی کہ ’’بی بی آپ اپنی بچی کی اُس کی خواہش کے مطابق شادی کر دیں‘ اس کی چُپ اس کے خاوند کو لگ جائے گی ‘ اور یہ تعویز بچی کے موبائل فون سے چپکا دیں‘‘۔

’’ڈپٹی صاحب نے حج کا قصد کیا تو کرم دین کو ہدایت کر دی گئیں جس نے مالی معاملات سنبھالنے کے لئے ’’کنسورشیم‘‘ کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا۔ شرکاء میں کچھ بڑے تھانوں کے ایس ایچ او‘ چند زیر تفتیش کیسوں والی مالدار پارٹیاں اور کچھ معطل تھانیدار (جن کی انکوائریاں ڈی ایس پی کے پاس تھیں) شامل تھے۔ ان میں ٹاسک لینے کی ذمہ داری ایس ایچ صاحبان کو سوپنی گئی حرم شریف کے قریف فائیو اسٹار ہوٹل میں قیام و طعام کے انتظامات فراڈ میں ملوث ایک پراپرٹی ڈیلر نے اپنے ذمے لے لئے۔ زیارات کے لئے ٹرانسپورٹ کے انتظام کی ڈیوٹی ایک بڑے غبن کے ملزمان کے سپرد کی گئی۔‘‘

ایک اور قابل ذکر بات یہ ہے کہ ان مضامین میں ہماری پولیس کا عمومی چال چلن خاص نشانے پر ہے جو کہ خود اپنے آپ پر ہنسنے جیسا ہے اور ساتھ ہی اظہار میں دیانت کی بھی دلیل ہے۔

یقینا یہ کتاب اردو طنز و مزاح کے حوالے سے ایک قابل قدر اضافہ ہے اور پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے۔ کتاب کی پیش کش کا معیار شاندار ہے جس کے سروق کے لئے ملک کے ممتاز کارٹونسٹ جاوید اقبال کی تخلیقی صلاحیت بروئے کار آئی۔ اس مجلد کتاب کے کاغذ اور پرنٹننگ کا معیار شاندار ہے جسے پبلشرز بک کارنر لائبریری روڈ ‘ جہلم نے شائع کیا ہے‘ قیمت 600روپے ہے۔

0544-278051-614977-0314-4440882
[email protected]

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔