ذاتیات کی لڑائی ملک کو ڈبو دے گی!

علی احمد ڈھلوں  جمعـء 8 اپريل 2022
ali.dhillon@ymail.com

[email protected]

لیں جی! آخری خبریں آنے تک ڈالر 188 روپے سے زائد کا ہوگیا ہے اور اسٹاک مارکیٹ 11سو پوائنٹس تک نیچے گر گئی ہے! ڈالر گزشتہ ایک ماہ میں گیارہ روپے سے زائد مہنگا ہوا جب کہ اسٹاک مارکیٹ کی ’’پیش رفت‘‘ بھی نیچے کی طرف ہی دکھائی دی ہے۔

یہ تو تھے معاشی حالات! اب آئیں کہ دنیا ہمیں کس نظر سے دیکھ رہی ہے، امریکا و دیگر ممالک نے اپنے شہریوں کو ’’پرامن‘‘ پاکستان کے سفر سے گریز کرنے کا کہا ہے۔ جب کہ بھارت پہلے ہی ہمارے خلاف خبریں بڑھا چڑھا کر پیش کر رہا ہے کہ پاکستان بغیر کسی حکومت کے چل رہا ہے۔ جب کہ عرب ممالک ٹکٹکی باندھ کر ہماری طرف دیکھ رہے ہیں کہ دنیا کی واحد ایٹمی طاقت ایک بار پھر سیاسی و آئینی بحران کا شکار ہوچکی ہے۔ اس سارے معاملے پر حیرت کی بات یہ ہے کہ کسی کی سمجھ میں کچھ نہیں آ رہا کہ آگے کیا ہونے والا ہے۔ بقول شاعر سب کچھ اُلجھا پڑا ہے۔

ہاتھ الجھے ہوئے ریشم میں پھنسا بیٹھے ہیں

اب بتا!کون سے دھاگے کوجدا،کس سے کریں

یہ معاملات کیسے حل ہوں گے، اس بارے میں بھی پتہ چل جائے گا۔ ماضی کا سفر کریں تو پتہ چلتا ہے کہ 1993 میں اسمبلیاں تحلیل ہونے کے بعد عدالت عظمیٰ نے انھیں دوبارہ بحال کردیا تھا مگر بحالی کے باوجود حکومت عدم استحکام کا شکار رہی اور اپنی مدت پوری ہونے سے پہلے ہی ختم ہو گئی۔ تحریک انصاف پہلی سیاسی جماعت نہیں ہے جس پر آئین شکنی کا الزام عائد کیا جا رہا ہے۔ اس سے پہلے یہ الزام پاکستان کی دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کے سربراہان پر لگایا جاتا رہا ہے۔

غلام اسحاق خان نے بطور صدر پاکستان5اگست 1990 کو اسمبلیاں توڑ کر بینظیر بھٹو کی حکومت کو گھر بھیجا تھا۔اس پر نواز شریف اور ان کی پارٹی نے جشن منایا تھا۔ اسی طرح غلام اسحاق خان نے ہی 18 اپریل 1993 کو نواز شریف کی حکومت اسمبلیاں توڑ دیں۔ نواز شریف کی حکومت ختم ہوئی تو بینظیر بھٹو اور ان کی پارٹی نے جشن منایا تھا۔ 3 اپریل 2022 کو وزیراعظم عمران خان نے صدر ڈاکٹر عارف علوی کو اسمبلیاں توڑنے کی ایڈوائس بھیجی، جس پر صدرِ مملکت نے اسمبلیاں توڑ دیں۔ فرق اتنا ہے کہ اس مرتبہ جشن منانے والوں میں اپوزیشن کے بجائے حکومت پیش پیش ہے۔

حالانکہ حکومت کو چاہیے تھا کہ وہ صدق دل کے ساتھ اپوزیشن کی اکثریت کو تسلیم کرتی اور میدان چھوڑنے کے بجائے بھرپور مقابلہ کرتی۔ لیکن خان صاحب نے اسمبلیاں تحلیل کر دیںجس کے بعد ملک میں ایک آئینی و سیاسی بحران نے جنم لیا۔ حالانکہ عمران خان کو علم ہونا چاہیے تھا کہ ایک حالیہ عوامی سروے پی ٹی آئی کے حق میں آیا ہے اور آج یہ جماعت اس قدر پاپولر ہو چکی ہے کہ اگر فوراً الیکشن کرا دیے جائیں تو میرے خیال میں سب سے زیادہ ووٹ اسی جماعت کی جھولی میں گریں گے۔ کہا جاتا ہے کہ جمہوریت بہترین انتقام ہے لیکن پاکستان میں شاید جمہوریت سے انتقام لیا جا رہا ہے۔ جمہوریت برداشت اور توازن کا عملی مظاہرہ ہوتی ہے لیکن یہاں یہ عالم ہے کہ حکومت اور اپوزیشن ایک دوسرے پر آرٹیکل 6 کے تحت غداری کے الزامات لگا رہی ہیں۔

یہاں سوال یہ ہے کہ اگر سب غدار ہیں تو پھر عوام کا مسیحا کون ہے؟ ان کے دکھوں کا مداوا کس نے کرنا ہے؟ غربت، بے روزگار ی اور مہنگائی جیسے مسائل کس نے حل کرنے ہیں۔ افسوس ہے کہ ابھی تک عمران خان سنبھلنے کی کوشش بھی نہیں کر رہے، بلکہ اُن کے مشیر اُن سے ابھی تک غلط فیصلے کرانے کی کوشش کررہے ہیں، جیسے گزشتہ روز ایک تقریر کے دوران خان صاحب نے امریکا کے خلاف ہر روز احتجاج کرنے کی کال دے دی ہے۔ سوال یہ ہے کیا کسی ملک کو یہ بتانے کے لیے کہ ہم زندہ قوم ہیں ، احتجاج ہی ایک طریقہ رہ گیا ہے؟ گھر سے نکلو، کچھ جذباتی اور کچھ بے روزگار لوگوں کو ساتھ لو ، سڑک بند کر دو، ٹائر جلا دو، محروم لوگوں کے نا آسودہ جذبات سے کھیلو اور اس کے بعد رات بھر جشن فتح مناتے رہو کہ امریکا سمیت سب کو معلوم ہو گیا ہے کہ ہم ایک زندہ قوم ہیں۔

پھر دوسری طرف اپوزیشن جماعتوں کو دیکھ لیں، اقتدار کے لیے کسی ایک کو بھی پاکستان کی فکر نہیں، پاکستان کے عوام کی فکر نہیں، گرتی ہوئی معیشت کی فکر نہیں، روپے کے کمزور ہونے کی فکر نہیں، اسٹاک مارکیٹ میں کھربوں روپے ڈوبنے کی فکر نہیں، بڑھتی ہوئی مہنگائی کی فکر نہیں، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھنے کی فکر نہیں، فضائی آلودگی بڑھنے کی فکر نہیں، آبادی کے بے ہنگم ہونے اور بڑھنے کی فکر نہیں، امن و امان کی فکر نہیں، خارجہ پالیسی اور داخلہ پالیسی کی فکر نہیں …الغرض اگر انھیں فکر ہے تو صرف اتنی کہ اقتدار کیسے مل سکتا ہے؟ اور اقتدار ملنے کے بعد پیسہ کیسے کمانا ہے؟ یا ملک کی نیا کو ایک بار پھر کیسے ڈبونا ہے۔اور پھر بچے بچے کو علم ہے کہ اپوزیشن نے کس طرح اکثریت حاصل کی ہے۔

کس طرح اور کس کس ہوٹل یا ’’ہاؤس‘‘ میں پارلیمنٹرینز کی بولیاں لگتی رہی ہیں۔ یعنی یہ لوگ بھی اقتدار کے اتنے لالچی ہیں کہ نجی ہوٹلوں میں علامتی وزیر اعلیٰ بننے کی تقریبات کا اہتمام کررہے ہیں۔ حالانکہ یہ لوگ تو گزشتہ کئی سال سے مطالبہ کر رہے تھے کہ الیکشن ہوں، وغیرہ اور اب جب الیکشن کے لیے حکومت نے ہاں کر دی ہے تو اب یہ اپوزیشن والے بھاگ رہے ہیں ۔ لہٰذاملک کو مزید خراب نہ کریں ، میں پھر یہی کہوں گا کہ اقتدار کی لڑائی میں جتنے کردار نظر آرہے ہیں، اُنہیں اس سے فرق نہیں پڑتا کہ ڈالر 2سو کا ہو یا 3سو کا۔ اُن کے تو ہر صورت وارے نیارے ہیں۔ خدارا! ملک کے مفاد میں بہترین فیصلے کرنے والوں سے التجا ہے کہ ساری صورتحال میں پاکستان کو دیکھیں۔ اور اس کے مفاد میں بہترین فیصلہ کریں!

بہرکیف خدارا اپنے ذاتی مفادات کے لیے اس ملک کو روندنے سے گریز کریں، لانگ ٹرم پالیسیاں بنائیں، جیسے تحریک انصاف کے اچھے اقدامات میں سے یہ بھی ایک اچھا قدم تھا کہ اس نے ایکسپورٹرز کو بہتر سہولتیں دے رکھی تھیں، بجلی کم ریٹ پر دی جارہی تھی جس کے باعث ان کے ریٹ عالمی مارکیٹ کے برابر چل رہے تھے۔ اب جو بھی حکومت آئے ، وہ عمران خان کے بغض میں اس کی اچھی اور فائدہ مند پالیسیوں کو تبدیل نہ کیا جائے؛ اگر صورتحال پر کسی نے کنٹرول نہ کیا تو خاکم بدہن یہ عدم استحکام ملک کے لیے ہر گزاچھا نہیں ہوگا! اللہ اس ملک پر رحم فرمائیں۔!(آمین)

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔