دنیا بھر میں خوراک کی قیمتیں بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں، اقوام متحدہ

ویب ڈیسک  جمعـء 8 اپريل 2022
سالانہ اضافہ 27.7 فیصد تک جا پہنچا، اقوام متحدہ (فوٹو: فائل)

سالانہ اضافہ 27.7 فیصد تک جا پہنچا، اقوام متحدہ (فوٹو: فائل)

پیرس: اقوام متحدہ کی خوراک اور زراعت کی عالمی تنظیم فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن نے انکشاف کیا ہے کہ روس اور یوکرین جنگ کے باعث عالمی خوراک کی قیمتیں اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اقوام متحدہ کی تنظیم فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن نے خبردار کیا ہے کہ یوکرین پر روس کے حملے سے اہم اناج اور سبزیوں کے تیل کی منڈیوں کو شدید دھچکے لگے ہیں جس سے عالمی خوراک کے بحران کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔

اقوام متحدہ کی کے ادارے برائے خوراک اور زراعت نے مزید بتایا کہ مارچ میں فروری کے مقابلے میں عالمی خوراک کی قیمتوں میں 12.6 فیصد اضافہ ہوا تھا جب کہ گزشہ برس سے رواں برس فروری تک سالانہ اضافہ 27.7 فیصد ہوا۔

فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن نے خوراک کی قلت کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ خوراک کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے سے غریب ممالک خاص طور پر افریقا اور مشر وسطیٰ متاثر ہوں گے۔

اقوام متحدہ کے ادارے نے مزید کہا کہ 24 فروری کو یوکرین پر حملے کے باعث روس پر لگنے والی عالمی پابندیوں کے نتیجے میں اناج کی برآمدات کا بہاؤ  ٹوٹ گیا جس سے بھوک کا عالمی بحران پیدا ہوسکتا ہے۔

واضح رہے کہ روس اور یوکرین کا اناج اگانے والے بڑے ممالک میں شمار ہوتا ہے اور ان دونوں ممالک کا دنیا بھر میں گندم، سبزیوں کے تیل اور مکئی جیسی کئی اہم اشیا کی برآمدات میں ایک بڑا حصہ ہے۔

 

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔