سارے رنگ

رضوان طاہر مبین  اتوار 10 اپريل 2022
ہمارے اجداد جب ہندوستان سے ہجرت کر کے پاکستان آئے، تو اُس وقت حکومتی اور ریاستی امور کو چلانے کے لیے ان سے بہتر کوئی نہ تھا۔ فوٹو : فائل

ہمارے اجداد جب ہندوستان سے ہجرت کر کے پاکستان آئے، تو اُس وقت حکومتی اور ریاستی امور کو چلانے کے لیے ان سے بہتر کوئی نہ تھا۔ فوٹو : فائل

عبادات کے نام پر
زندگی مفلوج نہ کیجیے!

خانہ پُری
ر۔ ط۔ م

ہمارے اکثر مبلغین اور خطیب روزے داروں کے لیے انسانی کردار کی بلندی، پرہیز گاری، تقوے اور تذکیۂ نفس وغیرہ کے حوالے سے تو بڑی تفصیل سے روشنی ڈالتے رہتے ہیں، لیکن ’دورانِ روزہ‘ معمولات زندگی اور ملازمتی اور پیشہ وارانہ امور کے حوالے سے ذرا کم کم ہی سننے میں آتا ہے کہ روزے کے دوران جہاں عبادات اور اخلاق وکردار کی بہتری کی ضرورت ہے۔

وہاں روزے کا مطلب آرام کرنا اور صرف سوتے رہنا نہیں ہے۔ یہ سب ہم اس تناظر میں عرض کر رہے ہیں کہ رمضانوں میں ہمارا مزاج ہی یہ بن گیا ہے کہ ہم زندگی کے اہم امور اور کاموں کو بھی ’عید بعد‘ دیکھیں گے!‘ کہہ کر ٹالتے چلے جاتے ہیں کہ جیسے روزے کے دوران کام نہیں کرنا چاہیے یا روزہ ہمیں زندگی کے دیگر کام کرنے سے باز رہنے کو کہتا ہے!

یہ بات درست ہے کہ روزے کے دوران ہمیں سرکاری اور غیرسرکاری دفتروں میں وقت کی چُھوٹ اور رعایت دی جاتی ہے، لیکن اس کم اور محدود دورانیے میں بھی دفاتر سے عملہ غیر حاضر اور غیرفعال رہتا ہے، جیسا کہ ہم ابھی گذشتہ روز ممتاز نقاد اور اردو لسانیات کے نام وِر استاد ڈاکٹر یونس حسنی کے عَن قریب شایع ہونے والے کالموں کے مجموعے پر تاثرات لکھنے کے لیے ان کالموں کی ورق گردانی کر رہے تھے۔

تو ہم نے دیکھا کہ ایک کالم میں انھوں نے بھی بتایا کہ ایک افسر دفتری اوقات میں سائلین کو نظرانداز کر کے اپنے ہر رمضان کے معمول کے مطابق آٹھ کلام پاک مکمل کرنے کی جستجو میں تھے، جس پر ڈاکٹر یونس حسنی نے اُن سے کہا کہ یہ کوئی کرکٹ میچ تو ہے نہیں کہ آپ اپنا ریکارڈ پورا کرنے کے چکر میں پڑیں، وہ بھی دفتری فرائض کو پس پشت ڈال کر۔۔۔ ممکن ہے کہ آپ کو اس برس کم تلاوت کا اتنا ہی اجر مل جائے، جتنا قرآن شریف کے آٹھ دور کرنے پر ملتا تھا۔‘

یہ بات بالکل درست ہے کہ جب ہمارا یہ ایمان ہے کہ اللہ میاں ہماری نیتوں کے مطابق ہی ہمیں اجرو ثواب عطا فرماتے ہیں۔۔۔ تو پھر زندگی کی مصروفیات اور دوسروں کو مشکل میں ڈال کر اجر کی یہ ظاہری دوڑ دھوپ چہ معنی۔۔۔؟ یہاں ہمارا قطعی مقصد روزے داروں کی عبادات کے جذبے کی خدانخواستہ بیخ کنی بالکل بھی نہیں ہے۔۔۔ ہماری مؤدبانہ گزارش صرف اور صرف اتنی ہے کہ یہ بات ذہن میں رکھیے کہ روزے کے دوران اگر ہم اپنے معمول کے فرائض اور کام انجام دیتے رہیں گے، تو ہمیں یہ ایمان رکھنا چاہیے کہ حالتِ روزہ میں ہماری یہ مشقت بھی یقیناً کسی عبادت ہی کے کھاتے میں لکھی جائے گی۔

اپنے معمول کے کام انجام دینے کے بعد پھر ہمیں ضرور دل جمعی کے ساتھ اپنی عبادات پر مرکوز ہو جانا چاہیے، راتوں کو قیام بھی کرنا چاہیے اور دن میں بھی کچھ نہ کچھ نیکی اور بھلائی کے کام کرنے چاہئیں۔۔۔

ایک طرف ہمارے ملازمین اور سرکاری ونجی افسران وغیرہ معمول کے بہت سے کاموں پر ’روزہ ہے!‘ کی غیرعلانیہ تختی آویزاں رکھتے ہیں، تو دوسری طرف ہم دیکھتے ہیں کہ عوام میں ’دعوتِ افطار‘ اور ’طعامِ سَحر‘ کے لیے باقاعدہ بڑے بڑے حلقے لگائے جاتے ہیں۔۔۔ جہاں دیر تلک سب یار دوست گپیں ہانکتے رہتے ہیں اور آسان الفاظ میں ہم سارا وقت ضایع کر رہے ہوتے ہیں۔

وہاں نہ ہمیں رمضان یاد ہوتا ہے اور نہ ہی یہ کہ یہ روزوں کے قیمتی دن ہیں، تو ہمیں ذرا یہ بیٹھکیں بھی ’عید بعد‘ کے لیے رکھ لینی چاہئیں۔۔۔ یہاں بھی ہمیں اس وضاحت کی ضرورت محسوس ہوتی ہے کہ ہم صائمین کے لیے اہتمام افطار و سَحر کی قطعی کوئی مخالفت نہیں کر رہے! نیکیوں کے اس مہینے میں بلاشبہ یہ بہت احسن اقدام ہیں، لیکن یہ بات بھی تو بہت ضروری ہے کہ یہ سارے اہتمام رمضان کے شایانِ شان اور نہایت پروقار انداز میں ہی ہونے چاہئیں، جس میں وقت کے ضیاع سے گریز کرنا چاہیے۔ یہ کھانے پینے یا دعوتوں کا مہینا ہر گز نہیں ہے۔۔۔ ہمیں اپنے اس رویے کی بھی اصلاح کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

جب ہماری زندگی کے ضروری معمولات کی بات آتی ہے، تو اس کے لیے ’’ابھی تو رمضان ہیں، کیا کریں۔۔۔؟‘‘ یعنی زندگی کے ضروری کاموں کو ہم اپنی ’عبادات‘ کے نام پر موخر کر دیتے ہیں، دوسری طرف دیگر مصروفیات جنھیں دراصل اِن دنوں میں ترک کرنا چاہیے، انھیں زورشور سے جاری رکھتے ہیں۔۔۔ ہمیں یہ جان لینا چاہیے کہ روزے کا مقصد معمولات زندگی کو مفلوج کر دینا ہر گز نہیں ہے۔

آپ بالکل زیادہ سے زیادہ عبادات کی نیت رکھیے اور اس کے لیے پوری کوشش بھی کیجیے۔ اگر دست یاب وقت میں یہ سب کر پائے تو کیا ہی کہنے، وگرنہ اللہ آپ کے خلوص اور کوشش کو دیکھتا ہے، اس لیے اگر نہ بھی کر پائیں تو یہ امید رکھیے کہ وہ آپ کی سچی نیت پر ہی آپ کے لیے یہ ساری عبادات اور نیکیاں آپ کے نامۂ اعمال میں لکھ دے گا اور دفتری کام اور زندگی کے دیگر امور کی انجام دہی کے سبب آپ کے ثواب میں ان شااللہ کوئی کٹوتی نہیں کی جائے گی، بلکہ ہمیں تو یہ گمان ہے کہ آپ کا روزے کی حالت میں اپنے دنیاوی فرائض پورے کرنا بھی کسی عبادت ہی کی طرح شمار کیا جائے گا۔

پس نوشت: اس ماہ مبارک میں بہت سے ’معزز احباب‘ اپنے ذمے واجب الادا رقم اور ادھار لوٹانے سے بچنے کے لیے بھی عبادات کا عذر کرتے ہیں، بالخصوص تاجروں کے ہاں جب ’پارٹی‘ پیسے لینے گئی یا کوئی اپنے کام کی اجرت لینے گیا، تو کبھی معلوم چلتا ہے کہ ’حضرت‘ تراویح یا دروس کی محفل میں گئے ہوئے ہیں، تو کبھی یہ اطلاع ملتی ہے کہ جن صاحب نے پیسے واپس کرنے ہیں وہ تو اب 10 دن کے لیے اعتکاف میں بیٹھ گئے ہیں۔

اس لیے اب ’عید بعد‘ ہی آئیے گا۔۔۔! ماہِ صیام میں عبادات بہت اہم ہیں، لیکن حق تلفی اور دروغ گوئی کر کے اس طرح عبادات میں پناہ لینا کیا معنی رکھتا ہے۔۔۔؟ رمضان المبارک میں ہمارے یہ رویے بہت زیادہ اصلاح چاہتے ہیں، پہلے لوگوں سے اپنے رویے اور معاملات درست کیجیے، پھر عبادات کیجیے، ورنہ کہیں یہ ساری محنت رائیگاں ہی نہ چلی جائے!

۔۔۔

اجداد پاکستان کی ثقافت
سید عمار عباس نقوی، کراچی
ہمارے اجداد جب ہندوستان سے ہجرت کر کے پاکستان آئے، تو اُس وقت حکومتی اور ریاستی امور کو چلانے کے لیے ان سے بہتر کوئی نہ تھا، بلکہ بابائے قوم نے تو ہندوستان بھر کے مسلمان اہل ہنر و تعلیم یافتہ ماہرین کو باقاعدہ یہ دعوت دی تھی کہ وہ پاکستان آکر مختلف شعبوں میں موجود بحران کو ختم کریں، تاکہ نومولود ریاست پاکستان کے انتظام وانصرام چلانے میں مدد ملے اور تاریخ گواہ ہے کہ ہندوستانی مسلمانوں نے قائد کی آواز پر لبیک کہا تھا اور بہت سارے مسلمان اہل علم اپنا سب کچھ چھوڑ کر اپنے نئے ملک کی تعمیر وترقی کے لیے چلے آئے تھے۔

یہ انھی لوگوں کے جلائے ہوئے دیپ تھے، جن کے بڑوں نے قیام پاکستان سے قبل بھی تعلیمی، سیاسی اور سماجی میدان میں نمایاں کام انجام دیا۔ ہندوستان میں آج بھی ایسی جامعات موجود ہیں، جو برصغیر کے مسلمان قائدین کی بنائی ہوئی ہیں، جس میں ایک بڑا نام سر سید احمد خان کا ہے، جن کا لگایا گیا پودا آج علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے نام سے جانا جاتا ہے۔ انھوں نے 1859ء میں مراد آباد اور 1862ء میں غازی پور میں مدرسے قائم کیے۔

جہاں فارسی کے علاوہ انگریزی زبان اور جدید علوم پڑھانے کا بندوبست کیا گیا۔ 1875ء میں علی گڑھ میں ایم اے او ہائی اسکول، جو بعد ازاں ایم۔ اے۔ او کالج اور آپ کی وفات کے بعد 1920ء میں یونیورسٹی کا درجہ اختیار کر گیا۔ 1863ء میں غازی پور میں سائنٹفک سوسائٹی، جب کہ 1875ء میں ’’محمڈن اینگلو اورینٹل کالج‘‘ قائم کیا، جسے 1920ء میں یونیورسٹی کا درجہ ملا اور آج اسے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی حیثیت سے عالمی شہرت حاصل ہے۔ اس ہی طرح مسلمانوں میں تعلیم کو عام کرنے میں سر سید احمد خان، مولانا محمد علی جوہر، لیاقت علی خان، مولانا الطاف حسین حالی و دیگر بھی شامل تھے۔

پاکستان میں بھی جامعہ کراچی سے جامعہ سندھ تک، جامعہ ملیہ، عائشہ باوانی، آدم جی کالج، دائود انجینئرنگ اور اسلامیہ کالج سے لے کر ’جناح یونیورسٹی‘ تک ایسے بے شمار ثمرآور سلسلے اس امر کی گواہی دے رہے ہیں کہ یہ ہماری وہ تہذیب اور ثقافتی ورثہ تھا، جو آج شاید دھندلا سا گیا ہے۔ آج کے بہت سے نوجوان اپنے بڑوں کے نقش قدم پر قائم نہ رہ سکے، لباس سے لے کر نشست وبرخاست تک اور زبان سے لے کر ادب آداب تک بہت کچھ اصلاح طلب ہے۔ بس اسی کو مدنظر رکھتے ہوئے کراچی کے پرعزم نوجوانوں نے اپنی تہذیبی و قومی شناخت کی بقا اور فروغ کے لیے 2021ء سے باقاعدہ ہر 24 دسمبر کو بڑے پیمانے پر یوم ثقافت منانا شروع کیا۔

اس دن جب میں اپنے گھر سے دفتر کے لیے نکلا تو کیا دیکھتا ہوں کہ شہر میں نوجوان قائد کی شیروانی، محمد علی جوہر کی ٹوپی اور بہت سے کرتے پاجامے اور شیروانی کٹ ’واسکٹ‘ میں ملبوس نظر آئے۔ ایسا منظر کم ازکم میں نے تو پہلے کبھی کراچی میں نہیں دیکھا تھا اس لیے آگے بڑھ کر ایک نوجوان سے سوال کیا کہ آخر کیا ماجرا ہے، تو معلوم ہوا کہ شہر کے نوجوانانِ مہاجر اپنے اجداد کی ثقافت کو زندہ رکھنے کے لیے ’یوم مہاجر ثقافت‘ منا رہے ہیں اور اس موقع پر ایک ریلی کا اہتمام کیا گیا ہے۔

جس میں نوجوان کرتے پاجامے میں ملبوس ہو کر نہ صرف اپنی ثقافت کو جوش و جذبے سے منائیں گے، بلکہ اپنی زبان اور رکھ رکھائو کو اجاگر کریں گے اور اپنی نمایاں شخصیات کو خراجِ تحسین بھی پیش کریں گے۔ 1972ء کے ’شہدائے اردو‘ کی قبروں پر جائیں گے۔ جس کے بعد اپنے محبوب قائد بانی پاکستان قائدِ اعظم محمد علی کے مزار پہنچ کر ان سے بھی اپنی محبت کا اظہار کیا جائے گا۔

ایک نوجوان نے مجھے بتایا کہ پاکستان میں تمام قومیتیں اپنا یوم ثقافت مناتی ہیں، چناں چہ ہم نے 24 دسمبر کا دن اپنے قائد اور تمام مہاجرین، جنھوں نے پاکستان کے قیام کے لیے پاکستان کے تمام صوبوں سے زیادہ ووٹ دیے، ان کی یاد میں ان کی ثقافت منانے کا اعلان کیا ہے،جس میں ہم اپنے اجداد اور تحریک پاکستان کے معزز راہ نمائوں کی یاد بھی منائیں گے اور ان کی تہذیب کو بھی اجاگر کریں گے۔

گذشتہ دنوں ساکنان شہر قائد کے عالمی مشاعرے میں بھی ’کوچۂ ثقافت‘ میں مہاجر تہذیب وتمدن کا خوب صورت اظہار دیکھنے میں آیا، کرتے پاجامے، گائو تکیے لگے تخت پر، سلیقے سے آراستہ پان دان، نوجوانوں کے سر پر کپڑے سے تیار کردہ آرام دہ اور خصوصی ’مہاجر سرپوش‘ خبر دے رہی تھی کہ ہمیں مایوس ہونے کی قطعی ضرورت نہیں۔

یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ ہمارے نوجوان ہمارے اجدادِ کی تہذیب اور ثقافت کو پروان چڑھانے کی طرف راغب ہیں، لیکن دوسری جانب میرے دماغ میں یہ خیال بھی آیا کے پہلے ہمیں اپنے بگڑتے ہوئے اندازِ بیاں اپنے اخلاق کو بھی تبدیل کرنا ہوگا، پھر ظاہری شناخت کو اجاگر کیا جائے، تو زیادہ بہتر تھا، ورنہ صرف ایک دن مختص کرنے سے نوجوانوں کی اصلاح نہیں ہوگی۔ بہرحال اس خیال پر میری خوشی غالب آگئی کہ چلو بہتری کی یہ ترتیب کچھ ایسے ہی سہی، اہم بات یہ ہے کہ نوجوانوں کو اپنے اجدادوں کی ثقافت و تہذیب کی یاد تو آئی۔

۔۔۔

قابلِ ذکر
رئیس امروہوی
٭ دنیا میں کوئی اچھی چیز ایسی نہیں جسے کبھی برا نہ سمجھا گیا ہو۔
٭ لوگوں کو مسخر و متاثر کرنے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ زیادہ مہمل الفاظ استعمال کیے جائیں۔
٭اگر نپولین اس عہد میں ہوتا تو ایڈیٹری کا پیشہ اختیار کرتا۔
٭ شاعری کا دوسرا نام جنون ہے۔
٭ اگر تم عوام کو بھیڑوں کی طرح نہ ہانکو گے، تو وہ تمھیں ہانک دیں گے۔
٭اگر جنگ کے نام پر ایک آدمی قتل کیا جاتا ہے، تو امن کے نام پر 10۔
٭انسانوں کے چاند پر آباد ہوجانے کے بعد پہلی لڑائی زمین اور چاند کے درمیان لڑی جائے گی۔
٭ بہت زیادہ اچھا ہونا بھی بہت برے ہونے کی علامت ہے۔

۔۔۔

کچھ کڑوی اور سچی باتیں
مرسلہ: مہرمنظور، ساہی وال
پاکستان واحد ملک ہے، جہاں کروڑوں اور اربوں روپے کھانے والے آزاد گھوم رہے ہیں، کچھ کھربوں لوٹ کر ملک سے باہر عیاشی کر رہے ہیں، لیکن پکڑا وہ جاتا ہے، جو جلدی میں موٹر سائیکل کے کاغذات گھر میں بھول جاتا ہے۔

ہمارے اکثر تھانے رشوت کا گڑھ ہیں، لیکن وہاں لکھا ہوا ہوتا ہے ’’جھوٹی گواہی شرک کے بعد سب سے بڑا گناہ ہے۔‘‘

ہمارے اسپتال موت بانٹتے ہیں، لیکن وہاں لکھا ہوتا ہے ’’جس نے ایک زندگی بچائی اس نے گویا سارے انسانوںِ کو بچایا۔‘‘

ہم اپنے ماں باپ کو جھاڑ پلا کر چپ کرو ادیتے ہیں اور اپنی گاڑی پر لکھتے ہیں’’یہ سب میرے ماں باپ کی دعا ہے۔‘‘ ساری زندگی حرام کماکر کوٹھی پر لکھتے ہیں ’’ھٰذا من فضل ربّی‘‘!

اگر انٹرنیٹ ذرا دیر کو بند ہو تو پریشان ہو جاتے ہیں، جب کہ ’’قرآن مجید‘‘ سارا سال جزو دان سے نہیں نکلتا، اس کی کوئی فکر نہیں۔

پیر صاحب کے سر میں درد ہوتا ہے تو وہ پیناڈول لیتے ہیں، جب کہ مرید کے سر میں درد ہوتا ہے تو تعویذ لینے پہنچ جاتا ہے، درد میں فرق ہے یا عمل میں؟

طوائف کا جنازہ کوئی نہیں پڑھنے جاتا، مگر اس طوائف کے پاس جانے والوںکے جنازے سب پڑھتے ہیں!

محلے کی مسجد دن میں پانچ بار کہتی ہے آجائو تمہارا رّب بلارہا ہے، ہم کہتے ہیں نہیں! رّب جب مدینے بلائے گا، تو جائیں گے۔

ہم اس معاشرے کا حصہ ہیں جہاں باپ کی عزّت بیٹی کے ہاتھ میں ہے اور جائیداد کی وراثت کے کاغذات بیٹے کے ہاتھ میں!

ہم تعلیم انگریزی حاصل کرنا چاہتے ہیں، نوکری یورپ میں کرنا چاہتے ہیں، سیر پیرس کی کرنا چاہتے ہیں، لیکن مرنا گنبدِ خضرا کے سائے میں اور دفن جنت البقیع میں ہونا چاہتے ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔