پاکستان کا بھارت سے موازنہ درست نہیں

ڈاکٹر منصور نورانی  پير 11 اپريل 2022
mnoorani08@hotmail.com

[email protected]

سابق وزیراعظم عمران خان اکثر اوقات غلط  باتیں کہہ جاتے تھے۔ وہ سمجھتے تھے کہ دنیا کے ہر ملک کو وہ وہاں کے باشندوں سے بھی زیادہ جانتے ہیں۔اپنی اسی غلط فہمی کی وجہ سے وہ کسی ملک کی تاریخ اور حالات کے بارے میں کچھ ایسی رائے کا اظہار کردیاکرتے تھے جن کا زمینی حقائق سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہواکرتا تھا۔

اپنے دور کے آخری چند مہینوں میں وہ بھارت کی پالیسیوں کی بہت تعریفیں کرتے دکھائی دیے۔اُن کے خیال میں بھارت کی خارجہ پالیسی بہت اچھی ہے۔ ایک خود مختار اورآزاد پالیسی ۔ وہ نہ امریکا اور یورپین ممالک کے گروپ میں شامل ہے اورنہ روس کے زیر اثر۔خان صاحب کی نظر میں ہم نے صرف امریکا اور یورپین ممالک کی حمایت میں پالیسی اپنا کر اپنا نقصان کیا ہے۔

اگر تاریخ کاگہرا مطالعہ کرکے سوچاجائے تو ہم بھارت کے مقابلے میں ایک بالکل مختلف اور علیحدہ حیثیت رکھتے ہیں،ہم نے اسلام کے نام پر ایک علیحدہ مملکت حاصل کی ہے، ہماری یہی شناخت شروع دن سے ہمارے لیے مشکلات کاباعث بنی رہی ہے۔ بھارت اگر ایٹم بم بنالے تو دنیاکی بڑی طاقتوں کوگراں نہیں گذرتالیکن یہی چیز اگرہم حاصل کرلیں تو ساری دنیاہماری مخالف ہوجاتی ہے۔

ہماری ترقی و خوشحالی  اورخود مختاری انھیں ایک آنکھ نہیں بھاتی ۔ہم جب بھی اپنے پیروں پرکھڑے ہوناچاہتے ہیں ہمارے گرد گھیراتنگ کرکے ہمیں پھرسے پیچھے کی جانب دھکیل دیاجاتارہاہے۔ اسلامی شناخت کے علاوہ ہماری جغرافیائی حیثیت بھی عالمی طاقتوں کے لیے بہت اہمیت کی حامل ہے۔ بنگلہ دیش بھی گرچہ ایک اسلامی ملک ہے لیکن اُس کا جغرافیہ کسی کی نظروں میں نہیں کھٹکتا ہے۔

اس کے تین طرف بھارت کی سرحدیں ملتی ہیںاور صرف ایک جانب ایسے ممالک ہیں جن سے امریکا اوراس کے حواریوں کو کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ہمارے ایک طرف بھارت ہے، مشرق میں چین ، شمال میں افغانستان ہے تومغرب میں ایران ہے۔بھارت کے علاوہ یہ تین ممالک ایسے ہیں جن پرعالمی طاقتیں ہمیشہ سے اپنی نظریں گاڑے ہوئے ہیں۔

خاص کرافغانستان جو گزشتہ چالیس سالوں سے حالت جنگ میں ہے، وہ کبھی سوویت یونین کی زیادتیوں کاشکار رہا ہے تو کبھی امریکا اورنیٹوممالک کی زد میںرہاہے،وہ آج بھی آزاد ہوتے ہوئے آزادی کی نعمتوں اورلذتوںسے محروم ہے۔چالیس سالہ لڑائی اورخانہ جنگی نے اُسے ترقی کرنے سے روکے رکھا۔وہ آج کی جدید ماڈرن دنیا میں بہت پیچھے رہ گیاہے۔

اس کی یہ محرومی ہمارے لیے بھی بہت مشکلیں پیداکرتی رہی ہیں۔ سوویت یونین کی طرف سے حملے اوروہاں اس کے قبضے کے نتیجے میںہمیں تیس چالیس لاکھ تارکین وطن کو پناہ دینے اورانھیں روٹی پانی کے علاوہ روزگار کے مواقعے فراہم کرنے کاانتظام بھی کرنا پڑا۔یہ کوئی آسان کام نہیں تھا۔اتنی بڑی تعداد میں پناہ گزینوں کو بیس پچیس سال تک غذااور دیگر سہولتیں فراہم کرنا ہم جیسے مقروض اورکمزور ملک کے لیے کوئی آسان نہیں تھا۔

اس کے علاوہ وہاں کے جنگی اثرات کا یہاں منتقل ہونا بھی ایک بہت بڑامسئلہ تھا۔ کلاشنکوف اورمنشیات کے کلچر کایہاں آجاناخود ہماری تباہی کا باعث بنا۔ سوویت یونین کی شیرازہ بندی کے بعد امریکی اشتعال انگیزی نے ہمیں پھر ایک دوسرے مسئلہ میں الجھاکے رکھ دیا۔ دہشت گردی کی نام نہاد عالمی جنگ میں ہمیں زبردستی ملوث اورشامل کیاگیا، جس کے نتیجے میں ہمیں دس پندرہ سالوں تک خود کش حملوں اورآئے دن کے بم دھماکوں کی وجہ سے بہت جانی اورمالی نقصان بھی اُٹھاناپڑا۔ ہماری ترقی کے سارے راستے مفقود ہوکررہ گئے،ہم ایک غیر محفوظ ریاست بنادیے گئے۔

جن ملکوں کی یہ جنگ تھی وہ توآرام وسکون سے چین کی نیند سوتے رہے لیکن ہمارے لوگ آگ اورخون کی ہولی میں نہاتے رہے۔ ہمیں ڈرا اور دھمکا کے اس جنگ میںہراول دستے کا کردار اداکرنے پر مجبور کیاگیا۔دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر ڈرون حملوں کی اجازت ہمارے اس وقت کے حکمرانوں نے دی تھی اس میں کسی بھی سویلین حکمراں کی مرضی شامل نہیں تھی۔ خان صاحب اس معاملے میں بھی پیپلزپارٹی اورمسلم لیگ نون کو اس کاذمے دار گردانتے ہوئے کذب بیانی سے کام لیتے رہے ہیں۔

مندرجہ بالا حقائق کاتذکرہ یہاںاس لیے گیا گیاہے کہ سابق وزیراعظم تاریخ کو جھٹلاکرعوام کی آنکھوں میںدھول جھونکنے کی جس پالیسی پرعمل پیرا ہوتے رہے اُس سے کچھ دنوں کے لیے توسیاسی فائدہ حاصل کیاجاسکتاتھا لیکن تاریخ کے صفحات پرلکھی ہوئی تحریر کو مٹایا نہیںجاسکتاتھا۔یہ خان صاحب ہی تھے جواس وقت جنرل پرویز مشرف کی پالیسیوں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے تھے۔وہ اُن کے ریفرنڈم میں بھی اُنکی حمایت میں بہت سرگرم رہے تھے۔

پرویز مشرف کی مخالفت تو انھوں نے اس وقت شروع کی جب مشرف نے انھیں اقتدار میں شامل کرنے سے انکار کردیا۔ورنہ کون نہیں جانتاکہ خان صاحب نے بہت کوشش کی تھی کہ کسی طرح مشرف انھیں وزیراعظم بنادیں۔ڈرون حملوں کی مخالفت اورنیٹو افواج کے لیے راہداری بند کرنے کامعاملہ تو بہت عرصے کے بعد سامنے آیاتھا۔

ڈرون حملے اس وقت روکے گئے جب مسلم لیگ حکومت کے دور میں نیشنل ایکشن پروگرام کے تحت ضرب عضب آپریشن شروع کیاگیااورآرمی پبلک اسکول کے اندوہناک سانحہ کے بعد حکومت وقت نے ساری اپوزیشن کو آن بورڈ لے کر یہ تاریخ ساز فیصلہ کیا۔ کون نہیں جانتاہے کہ خان صاحب اس وقت تک ڈی چوک پر ایک جمہوری حکومت کے خلاف دھرنے اوراحتجاج میں مصروف تھے۔

آج وہ بھارت کی پالیسیوں کی تعریف کرتے ہوئے یہ سارے حقائق بھول جاتے ہیںکہ پاکستان کو کن کن مشکلات کاسامنا رہاہے۔ دنیا کا کوئی ملک ایسے بیرونی دباؤ کا شکار نہیں رہاہے جیسے کہ پاکستان رہاہے۔ بھارت ایک غیر مسلم ریاست ہونے کے ناتے دنیا کے ان متعصبانہ حملوں کا کبھی بھی شکار نہیں رہاہے۔

اس کی معیشت جو پہلے ہی بہت مضبوط تھی اُسے مزید آگے بڑھنے میں وہ مشکلات اوردشواریاں درپیش نہیں رہیں جن کاسامناپاکستان کو ہوتارہاہے اور جب ایک ملک معاشی واقتصادی طور پر مستحکم اورمضبوط ہوجائے تووہ ویسے ہی بیرونی دباؤ سے باہر نکل آتاہے۔ ہمیں بحیثیت ایک مسلم قوم کبھی معاشی طور پرمستحکم ہونے دیاہی نہیں گیا۔ہمارااسلامی تشخص ساری دنیا کی نظروں میں کھٹکتا ہے۔

کون نہیں جانتاکہ بھارت کی خارجہ پالیسی کبھی بھی آزاد نہیں رہی۔ وہ پہلے پہل روس کے ساتھ اپنی پینگیں بڑھاتارہاہے لیکن جب وہ پینگیں منافع بخش نہیں رہیں توپھروہ امریکا کے ساتھ اپنے تعلق استوار کرنے پر مجبور ہوگیا۔امریکا نے بھی اُسے اس لیے ویلکم کہہ دیا کہ بہر حال وہ ایک بہت بڑا ملک ہے اورتجارتی واقتصادی طور پر اسے نظر انداز بھی نہیں کیاجاسکتاتھا۔

ان سب حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے یہ کہنا کہ بھارتی عوام ایک خود دار قوم ہیں کسی بھی لحاظ سے درست نہیں ہے۔ یاد رکھاجائے کہ خود انحصاری اورخود کفالت ہی قوموں کی برادری میں ایک باعزت مقام پیداکرتی ہے۔ہمیں اپنے آپ کو پہلے معاشی طور پراس قابل بنانا ہوگاتب ہی جاکے ہم کسی آزاد خارجہ پالیسی کے متحمل ہوسکتے ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔