کیا پاکستان کو قحط کی صورتحال کا سامنا ہے؟

کامران امین  ہفتہ 30 اپريل 2022
اس سال گندم کی پیداوار تقریباً 20 سے 50 فیصد کم ہونے کا امکان ہے۔ (فوٹو: فائل)

اس سال گندم کی پیداوار تقریباً 20 سے 50 فیصد کم ہونے کا امکان ہے۔ (فوٹو: فائل)

یوکرین جنگ کے آغاز سے ہی عالمی سطح پر ماہرین خبردار کر رہے تھے کہ آنے والے دنوں میں دنیا کو اس صدی کے بدترین قحط کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے اور تمام دنیا غذا کی خوفناک کمی کا سامنا کرے گی۔ کیوں کہ روس اور یوکرین دونوں ہی عالمی سطح پر غذائی اجناس اور بالخصوص گندم فراہم کرنے والے بڑے ممالک ہیں۔

اس صورت حال میں عالمی تنظیمیں امید بھری نظروں سے ہمارے پڑوسی بھارت کی طرف دیکھ رہی تھیں کہ کیا بھارت عالمی سطح پر غذائی اجناس کی کمی کو پورا کرسکتا ہے؟ کیوں کہ بھارت بھی ایک بڑا زرعی ملک ہے۔ لیکن ابھی آنے والی خبروں کے مطابق بھارت میں موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے غذائی اجناس پیدا کرنے والی ریاستوں کو شدید گرمی کا سامنا ہے، جس سے زراعتی پیداوار بری طرح سے متاثر ہوگی اور بھارت کو خود اپنے ہی لوگوں کےلیے غذائی اجناس فراہم کرنا ایک بڑا مسئلہ بنتا جارہا ہے۔

اچھا تو میں آپ کو یہ کہانی کیوں سنا رہا ہوں؟ پاکستان خود ایک زرعی ملک ہے، ہمارے پاس اپنے وسائل بہت ہیں۔ کم از کم اپنی غذا تو خود ہی اُگا سکتے ہیں ناں؟

اگر آپ بھی ایسا سوچ رہے ہیں تو اب تھوڑا سا گھبرا لیجئے۔ پاکستان میں اس سال ماہرین کے مطابق موسم بہار آیا ہی نہیں اور سردیوں کے فوراً بعد انتہائی شدید گرمی کی لہر کا سامنا ہے۔ (ابھی اپریل ہے اور ملک اس وقت دوسری خوفناک ہیٹ ویو کا سامنا کررہا ہے)۔ اس کا اثر یہ ہورہا ہے کہ نہ صرف گندم کی پیداوار تقریباً 20 سے 50 فیصد کم ہونے کا امکان ہے بلکہ جو گندم حاصل ہوئی ہے اس کا معیار بھی انتہائی ناقص ہے۔

اور چونکہ اس سیزن میں ہمیں معمول سے کم بارشیں نصیب ہوئی ہیں تو بارانی علاقوں میں اگلے سیزن کی فصل بھی بری طرح سے متاثر ہونے کا اندیشہ ہے۔ ہم پہلے ہی سے گندم کی کم پیداوار کی وجہ سے آٹے کے بحران کا شکار ملک ہیں۔ پچھلے سال تو ہم نے گندم یوکرین سے خرید کر گزارا کرلیا تھا لیکن اس سال کیا کریں گے؟ کیوں کہ یوکرین کے جن کھیتوں میں گندم اُگتی تھی اب وہاں سے بارود کی خوشبو اٹھتی ہے۔

قارئین اگر آپ ابھی تک نہیں گھبرائے تو کوئی بات نہیں۔ چونکہ ہم پاکستانیوں کو خود سے محنت کرنے کے بجائے باہر سے چیزیں خرید کر کھانے کی عادت ہوگئی ہے، لہٰذا کھانا پکانے کےلیے تیل بھی ہم باہر سے ہی برآمد کرتے ہیں اور اس کا مرکز ہے انڈونیشیا۔ انڈونیشیا ویسے بھی پام آئل برآمد کرنے والا دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے جس سے بعد میں گھی بنایا جاتا ہے۔ لیکن آج کی خبر یہ ہے کہ انڈونیشیا نے ملکی ضروریات اور پیداوار میں کمی کو مدنظر رکھتے ہوئے پام آئل کی برآمد پر پابندی لگادی ہے۔ اس کا سب سے زیادہ نقصان ہمارے دیہاتوں میں رہنے والی آبادی کو ہوگا جو کھانا اکثر گھی میں بناتے ہیں۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ اب ہم جائیں گے کہاں؟

کم بارشوں سے یاد آیا کہ اس بار ہمارے کشمیر کے پہاڑوں سے برف بھی تیزی سے پگھلی ہے اور اگر مزید بارشیں نہ ہوئیں تو نہ صرف کشمیر کے پہاڑوں پر رہنے والوں کو پانی کی کمی کا سامنا کرنا پڑے گا بلکہ بجلی کی پیداوار بھی شدید متاثر ہوگی، کیوں کہ ہمارے ہاں پن بجلی کشمیر سے آنے والے دریاؤں کی محتاج ہے۔ اور اگر پن بجلی کی پیداوار متاثر ہوئی تو حکومت تیل یا گیس سے بجلی کی کمی پوری کرنے کی کوشش کرے گی۔ لیکن عالمی مارکیٹ میں اس وقت ایندھن کی قیمتیں بھی آسمان کو چھو رہی ہیں۔ اس سب کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ نہ صرف ہم غذائی قلت اور قحط جیسی صورت حال کی طرف بڑھتے چلے جارہے ہیں بلکہ ساتھ ہی ہمیں یا تو بہت مہنگی بجلی ملے گی یا پھر ملے گی ہی نہیں۔

اور ایک ایسا ملک جہاں دیہاتوں میں پہلے ہی 40 فیصد سے زیادہ بچے غذائی قلت کا شکار ہوں، وہاں مزید غذائی قلت کس طرح کے سنگین انسانی بحران کو جنم دے گی، یہ آپ خود تصور کرلیجئے۔ لیکن ابھی بھی شاید دیر نہیں ہوئی اور ایسا کچھ نہیں ہے جس کا حل موجود نہ ہو۔

قارئین یہ موسمیاتی تبدیلی کوئی ایک دم رونما ہونے والی چیز نہیں ہے، بلکہ دہائیوں سے ماہرین اس بارے میں خبردار کرتے چلے آرہے ہیں۔ ہمارے لیے ایک اور بری خبر یہ ہے کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے دس ملکوں میں شامل ہے۔ لیکن غربت اور کم تعلیم کی وجہ سے ہمارے لوگوں میں اس بارے میں آگاہی نہ ہونے کے برابر ہے اور سونے پہ سہاگہ یہ کہ ہماری حکومت کے پاس شاید اتنے وسائل بھی نہیں کہ وہ ان تبدیلیوں کا مقابلہ کرنے کی منصوبہ بندی کریں یا شاید یہ ان کی ترجیحات میں شامل نہیں ہے، کیوں کہ اس سے ہم پر حکومت کرنے والے ٹولے پر شاید ہی کوئی اثر پڑے۔

اب سوال آتا ہے کہ ہم اس ساری صورتحال سے نمٹنے کےلیے کیا کریں؟ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہماری حکومت، ماہرین زراعت اور ماہرین موسمیات مل بیٹھیں اور سب سے پہلے تو یہ سمجھیں کہ پاکستان کو کس قسم کی تبدیلیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ پھر اس حوالے سے مناسب منصوبہ بندی کی جائے کہ کیسے ان تبدیلیوں سے نمٹا جائے گا تاکہ لوگوں کا نقصان کم سے کم ہو۔ اس کے علاوہ ہمارے میڈیا اور ہمارے سائنسدانوں کو چاہیے کہ ماحولیاتی تبدیلیوں کے بارے میں آگاہی پھیلائیں اور پھر عام لوگوں کو بتایا جائے کہ کیسے ان تبدیلیوں کا مقابلہ کیا جاسکتا ہے اور کس طرح کے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

ایک عام آدمی کو چاہیے کہ جہاں تک ممکن ہوسکے پانی کے ضیاع کو روکیں۔ پانی ذخیرہ کرنے کا مناسب بندوبست کریں اور پھر کوشش کریں کہ اپنی ضرورت کی اجناس جہاں جتنی گنجائش ہے، خود اُگائیں ۔ اس کے علاوہ ان فصلوں کی کاشت پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے جو ہم باہر سے خریدتے ہیں۔

یاد رکھیے! آج یہ نارمل لگ رہا ہے لیکن کل ہمیں ایک طوفان کا سامنا کرنا پڑے گا۔ عقل مند وہی ہے جو طوفان کے آثار دیکھ کر ہی اپنی حفاظت کا بندوبست کرلے۔

 

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

کامران امین

کامران امین

بلاگر کا تعلق باغ آزاد کشمیر سے ہے اور چین سے میٹیریلز سائنسز میں پی ایچ ڈی کرنے کے بعد بیجنگ میں نیشنل سینٹر فار نینو سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، چائنیز اکیڈمی آ ف سائنسز سے بطور اسپیشل ریسرچ ایسوسی ایٹ وابستہ ہیں۔ چین میں تعلیمی زندگی اور تعلیم سے متعلقہ موضوعات پر لکھنے سے دلچسپی ہے۔ ان سے فیس بک آئی ڈی kamin.93اور ٹوئٹر ہینڈل @kamraniat پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔