ون مین آرمی

سعد اللہ جان برق  جمعـء 13 مئ 2022
barq@email.com

[email protected]

ایک محترمہ جو پہلے شوبزمیں مشہورہوئی تھی، پھر بیرون ملک کوئی امپورٹڈ چیز لانے میں بھی اچھا خاصا نام کرلیا تھا، اس نے کہا ہے کہ عمران خان ’’ون مین آرمی ‘‘ہے۔

یعنی مہان شکتی پرش۔ محترمہ کاتعلق چونکہ شوبزسے ہے اورشوبزمیں ون مین آرمی کی اصطلاح بڑی مقبول ہے، اس لیے اس نے سوچے سمجھے بغیرشوشا توچھوڑدیاہے، ممکن ہے کہیںسے ’’داد‘‘ بھی ملی ہولیکن اسے بالکل بھی یہ خیال نہیں رہاہے کہ اس ملک بلکہ بدنصیب ملک کاالمیہ ہی ’’مہان شکتی پرش‘‘ ہے، یہاں ابتدا ہی سے جوبھی آتا ہے یا آتارہا ہے وہ مہان شکتی شالی تھا یا نہیں لیکن اس مرض کادائمی مریض رہا ہے۔

ویسے تو اس ملک کے بنانے میں بھی بہت سارے ’’ون مین آرمی‘‘ ملوث رہے ہیں لیکن قیام پاکستان کے بعد تو اس ملک میں ’’ون مین آرمیوں‘‘یعنی لیڈروں اور آمروں کاتانتا ہی بندھ گیا بلکہ موسلادھار بارش شروع ہوئی اور اب یک ہورہی ہے بلکہ جہاں تک ہماری معلومات ہیں، اس ملک میں سنگل توکبھی پیدا ہی نہیں ہوا،ٹوان ون، تھری ان ون، آل ان ون توکھبیوں کی مانند اگتے رہتے ہیں البتہ جب کبھی ’’نرگس ‘‘بہت زیادہ رولیتی ہے توکوئی کوئی ’’سنجے دت‘‘ پیدا ہوہی جاتاہے جوعقل کل بھی ہوتا ہے، جسم کل بھی یعنی اس دنیا میں جوکچھ بھی موجود ہوسکتاہے، وہ اس ’’ایک ‘‘کے اندر موجودہوتا ہے۔

اس سلسلے کاپہلا نمونہ حضرت فیلڈمارشل ایوب خان ہے ۔ جب ان کا ظہور پرنورہوا تو کنونشن مسلم لیگ نے اس خاتون کا سا طرز عمل اختیار کر لیا جو اپنے شوہر کا نام نہیں لیتی تھی بلکہ اسے ’’بچوں کے ابا‘‘کہہ کر پکارتی تھی چنانچہ کنونشن مسلم لیگ اورٹرسٹ کے اخباروں نے بھی ایوب خان کانام لینا ترک کردیا کہ شاید ’’بے وضو‘‘ہونے کی وجہ سے پاپ لگے اوراس کی جگہ ’’ولولہ انگیز‘‘قیادت کانام استعمال کرنے لگے، ہماری ولولہ انگیز قیادت، پاکستان کی ولولہ انگیزقیادت، ولولہ انگیزقیادت۔

جب ولولہ انگیزقیادت کی سب سے اگلے ون مین آرمی بھٹوکی ولادت باسعادت ہونے والی تھی تو ٹرسٹ کے اخبار کے ایک کاتب نے دفتر میں کہا کہ بھئی سنا ہے، ایوب خان بیمار ہوگیاہے۔ دوسرے نے کہا، تمہارے منہ میں خاک۔یہ کہوکہ ولولہ انگیزقیادت علیل ہوگئی ہے۔اس کے بعد توجیسے مہان شکتیوں کی برسات ہوگئی ہے، ایک سے بڑھ کر ایک پیداہوتے گئے اوراس ملک کا بیڑہ غرق کرتے گئے۔

دراصل پاکستان کااصل مسلہ ہی یہ ہے کہ  جب تمام اختیارات ایک آدمی میں جمع ہوجاتے  ہیں یاگھسانے والے گھسادیتے ہیں تو پھر اس لیڈر اور سربراہ ریاست کوبھی پتہ نہیںچلتاکہ کیاکرے کیونکہ ایک آدمی بہرحال ایک آدمی ہوتاہے کہ اتنے زیادہ اختیارات اور طاقت ایک آدمی میں سماسکیں چنانچہ  یہیں سے خرابیاں یہاں وہاں سے چھلک پڑتی ہیں جوخود اس کے اپنے لیے دلدل بن جاتی ہیں اورپھروہ اس دلدل میں پھیلتے پھیسلتے کہیں غائب ہوجاتا ہے۔

ایک کہانی ہم نے کہیں سنی یاپڑھی تھی، اب یاد نہیں کہ وہ بھی کوئی ون مین تھا جس کے اندر طاقت بہت زیادہ بڑھ گئی تھی۔ ہوا یوں کہ اس ون مین کے اندر جب اس کے پرستاروں نے دنیا بھر کیخوبیاں اور طاقتیں ڈال دیں تواس کی سمجھ میں نہیں آیاکہ اتنی طاقتوں کاکرے کیا۔

حالانکہ اس نے اپنی مددکے لیے بہت سارے معاون رکھے، پھران معاونوں نے بھی معاون رکھے اورچہیتوں نے آگے معاونوں کی پوری زنجیر بنادی لیکن اصل سوال اپنی جگہ رہاکہ آخر اس کے اندر جو یہ اتنی شکتیاں جمع ہوگئی ہیں، ان کاکرے کیا۔ آخراتنی ساریشکتیوں کاکوئی استعمال بھی تو ہونا چاہیے۔پھر اس ون مین شکتی کے اندر شکتی کا ایک گرینڈگرینڈ اجلاس ہوا۔ایجنڈے پرصرف ایک ہی سوال تھا کہ ان شکتیوںکا جو اس ون مین میں ارتکازہوگیا، ان کاکیاجائے ۔

ایک صلاح کارنے مشورہ دیاکہ ہمیں ان شکتیوں کا وقار قائم رکھنے کے لیے کسی ملک کے ساتھ لڑائی چھیڑنا چاہیے لیکن جب اس آپشن پرغورکیاگیا تو پاس پڑوس میں ایسا کوئی ملک نظرنہیںآیا جس پرحملہ کرکے وقارکوبحال کیاجاسکے۔

سارے پڑوسی بڑے طاقتوراورخطرناک تھے ۔ سارے کے سارے مشیر، وزیر، معاون اورمعاون برائے معاون ومعاونین غورکے حوض میں ڈبکیاں لگانے لگے اورآخر یہ حل نکلاکہ اڑوس پڑوس میں حملہ کرنا توخطرناک ہے لیکن خود اپنے ہی ملک میں اپنے مخالف پرحملہ کرنے میں کوئی خطرہ نہیں، اورایساہی کیاگیا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔