گلوکارہ روبینہ بدر ، رونا لیلیٰ کا نعم البدل تھی

یونس ہمدم  جمعـء 13 مئ 2022
hamdam.younus@gmail.com

[email protected]

گائیکی کی دنیا میں ایک بہت ہی باصلاحیت گلوکارہ روبینہ بدر منظر عام پر آئی تھی، ریڈیو، ٹیلی وژن موسیقی کی محفلوں اور فنکشنوں سے ہوتی ہوئی فلمی دنیا تک پہنچی تھی اور اس نے نہ صرف اردو فلموں بلکہ بہت سی پنجابی فلموں میں بھی اپنی آواز کا جادو جگایا تھا اور موسیقار نثار بزمی اور موسیقار دیبو بھٹہ چاریا نے روبینہ بدرکو اس وقت فلموں میں گوایا تھا جب وہ گیارہ بارہ برس کی تھی اس کی آواز بچپن ہی سے بڑی سریلی تھی۔

ریڈیو سے فلمی گانے سن سن کر وہ گلوکارہ بنی تھی۔ اس نے کسی استاد سے موسیقی کی تعلیم حاصل نہیں کی تھی اور نہ ہی اس کا موسیقی کے کسی گھرانے سے تعلق تھا۔ اس کی آواز خدا کا عطیہ تھی جب وہ اسکول میں پڑھتی تھی اور چھوٹی عمر ہی سے اس کو اس کی اسکول کی سہیلیاں، چھٹی کے پیریڈ میں گھیر لیتی تھیں اور اس سے گانے سنا کرتی تھیں۔ سہیلیوں نے اس کا نام ’’کوئل‘‘ رکھ دیا تھا۔

چھوٹی عمر ہی سے اس نے ریڈیو پاکستان کراچی سے بچوں کے پروگرام میں گانا شروع کردیا تھا اور گیارہ بارہ سال کی عمر ہی میں وہ شادی بیاہ کے فنکشنوں میں بلائی جانے لگی تھی ، وہ میڈم نور جہاں اور لتا منگیشکر، آشا بھوسلے اور گیتا دت کے گیت گاتی تھی اور محفل لوٹ لیا کرتی تھی۔

اس زمانے میں بندر روڈ کراچی پر مشہور سیونتھ ڈے اسپتال تھا اس کی ایک برانچ سولجر بازار میں بھی تھی جہاں بچوں کا مخصوص وارڈ تھا اور وہاں کبھی کبھی بچوں کے لیے موسیقی کا پروگرام منعقد کیا جاتا تھا اور وہاں ریڈیو پاکستان کے بچوں کے پروگرام میں گانے والے بچے اور بعض بڑے گلوکار بھی اسپتال میں بچوں کے وارڈ میں آ کر گیت سنایا کرتے تھے۔ یہاں روبینہ بدر بھی گیت گانے آتی تھی اور یہیں پر اس کی ملاقات اس کے ہی ہم عمر گلوکار بچے جمال اکبر سے ہوئی تھی۔

جمال اکبر بھی (بعد میں مشہور گلوکار بنام دس بارہ سال کی عمر کا تھا۔ اس کی آواز بھی بہت اچھی تھی وہ بھی ریڈیو سے گانے سن کر ہی گلوکاری کی طرف آیا تھا۔ گلے میں سروں کا رچاؤ قدرتی تھا اور اپنی خوبصورت آواز کی وجہ سے جمال اکبر کو بھی شادی بیاہ کے فنکشن میں مدعو کیا جانے لگا تھا اور ایسے ہی فنکشنوں میں دو بچے گلوکاروں کی ایک جوڑی بن گئی تھی۔ یہ جوڑی روبینہ بدر اور جمال اکبر کے نام سے کمسنی میں ہی مشہور ہو گئی تھی۔ ایک گھریلو فنکشن میں پہلی بار ان دونوں نے ایک فلمی ڈوئیٹ گایا تھا جس کے بڑے خوبصورت اشعار تھے:

جھلمل ستاروں کا آنگن ہوگا

رم جھم برستا ساون ہوگا

ان دونوں کمسن بچوں نے بہت ہی لگن سے اور سروں کے رچاؤ کے ساتھ یہ گیت گایا اور ساری محفل کے دل موہ لیے تھے اور پھر اسی دن سے ان دونوں کی ایک سنگرز کی جوڑی بن گئی تھی اور پھر روبینہ بدر اور جمال اکبر فنکشنوں میں بحیثیت پروفیشنل فنکار پرفارمنس دینے لگے تھے اور ان کو بھی پروموٹرز جب کسی فنکشن میں بک کرتے تو ان کی فیس ادا کی جاتی تھی۔

پھر یہ سنگرز کی جوڑی کراچی کے علاوہ دیگر شہروں میں بلائی جانے لگی تھی اور ان کی شہرت آہستہ آہستہ بڑھنے لگی تھی اور یہ کمسنی سے نو عمری تک موسیقی کے فنکشنوں کی جان بنے رہے تھے۔

روبینہ بدر نے بے بی روبینہ کے نام سے اپنا پہلا فلمی گیت فلم بیٹی کے لیے گایا تھا موسیقار دیبو بھٹا چاریہ تھے اور شاعر فیاض ہاشمی کے لکھے ہوئے گیت کے بول تھے :

ذرا بچ کے رہنا بھیا

یہ دنیا سب کو ستائے

اللہ میاں بچائے

اور پھر بے بی روبینہ ہی کے نام سے اس نے جس دوسری فلم کے لیے گیت ریکارڈ کرایا تھا وہ ہدایت کار نذیر صوفی کی فلم ’’ہیڈکانسٹیبل‘‘ تھی جس کے موسیقار نثار بزمی تھے جو بمبئی کی فلم انڈسٹری چھوڑ کر نئے نئے پاکستان آئے تھے اور انھوں نے بھی جب بے بی روبینہ کو سنا تو کہا تھا’’ ارے بھئی! تمہاری آواز میں تو بڑی چمک ہے، بہت ہی سریلی آواز ہے۔ جلدی سے بڑی ہو جاؤ، پھر تمہاری آواز کے چرچے سارے ملک میں ہوں گے۔‘‘ پھر روبینہ بدر کی آواز میں جو گیت نثار بزمی صاحب نے ریکارڈ کیا تھا اس کے بول تھے:

میرے اچھے نانا پیارے پیارے نانا

جھوٹ موٹ میں تم سے روٹھوں تم مجھے منانا

اس فلم میں کئی گیت مشہور گلوکاروں نے گائے تھے مگر روبینہ بدر کے گائے اس گانے کو بڑی مقبولیت حاصل ہوئی تھی اور ریڈیو سے تقریباً روزانہ ہی یہ نشر ہوتا تھا۔ اب روبینہ بدر ٹیلی وژن پر گانے لگی تھی اور ٹین ایج ہو چکی تھی، اس دوران ٹیلی وژن کے لیے گائے بہت سے گیت اس کی مقبولیت میں اضافہ کر رہے تھے۔

ایک ملاقات میں مجھے ٹی وی پر اداکار خالد نظامی نے بتایا کہ ’’ وہ دراصل موسیقار بننے سے دلچسپی رکھتا ہے۔ ٹی وی پر بہت کوشش کر رہا ہوں مگر اداکار پہلے بن گیا، اب روٹی روزی کے لیے اداکاری کو ہی بہتر سمجھتا ہوں کہ موسیقی میں آگے بڑھنے کے چانسز میرے لیے ابھی بہت کم ہیں ، مگر کوششیں جاری رہیں گی۔‘‘ پھر خالد نظامی نے گٹار پر گا کر اپنی بنائی ہوئی بہت ہی دلکش دھنیں سنائیں اور پھر ایک خاص گیت کی جو اس نے تازہ تازہ دھن بنائی تھی۔

وہ گیت گا کر سنایا، کیا خوبصورت دھن بنائی تھی۔ میں نے اس دھن کی بڑی تعریف کی تو خالد نظامی نے بتایا تو’’ میرا کمپوز کیا ہوا یہ گیت اس ماہ میں ٹیلی وژن پر ریکارڈ کیا جائے گا اور اس گیت کو گلوکارہ روبینہ بدر گائے گی‘‘ میں نے وہ گیت سن کر کہا تھا ’’ خالد نظامی! یہ گیت ہٹ ہوگا اور بحیثیت موسیقار بھی تمہاری پہچان بنے گا اور پھر ایسا ہی ہوا۔ گیت ریکارڈ ہو کر جیسے ہی ٹیلی کاسٹ ہوا تو اس گیت کی دھوم مچ گئی تھی۔ اس گیت کے بول اسد محمد خان کے تھے:

تم سنگ نیناں لاگے مانے نہ ہی جیارا

پیا پیا بولے جیا من کا پیہارا

سپنوں میں آؤ پیا کہوں ساری باتیں

رو رو گزاریں پیا کیسی کیسی راتیں

تم کو بھلاؤں کیسے مانے نہ ہی جیارا

پیا پیا بولے جیا من کا پیہارا

روبینہ بدر کے ٹیلی وژن کے لیے گائے ہوئے اس گیت کو بڑی شہرت ملی اور پھر اس گیت کی شہرت اسے لاہور کی فلمی دنیا تک لے گئی۔ یہ وہ وقت تھا جب گلوکارہ رونا لیلیٰ اپنی تمام تر شہرت کے باوجود پاکستان چھوڑ کر ہندوستان چلی گئی تھی اور گائیکی کی دنیا میں ایک خلا سا پیدا ہو گیا تھا ، کیونکہ رونا لیلیٰ کے گیتوں نے لاہور کی فلم انڈسٹری میں بڑی دھوم مچائی تھی اور میڈم نور جہاں کے بعد رونا لیلیٰ فلموں کی صف اول کی گلوکارہ بن گئی تھی اور لاہور کا ہر بڑا موسیقار رونا لیلیٰ کی آواز کا دیوانہ ہو چکا تھا۔

رونا لیلیٰ کے پاکستان چھوڑنے کا سب سے زیادہ افسوس موسیقار نثار بزمی کو ہوا تھا۔ انھوں نے رونا لیلیٰ کو بہت گوایا اور سپورٹ بھی کیا تھا۔ پھر جب نثار بزمی صاحب کو ہدایت کار ایس سلیمان نے اپنی فلم انتظار کے لیے منتخب کیا تو نثار بزمی کو فوراً بے بی روبینہ کا خیال آیا، جو اب بے بی سے بڑی ہو چکی تھی۔ نثار بزمی کے نزدیک روبینہ بدر ہی گلوکارہ رونا لیلیٰ کا بدل ثابت ہو سکتی تھی۔

اس کی آواز میں رونا لیلیٰ کی آواز کی جھلک تھی۔ نثار بزمی صاحب نے روبینہ بدر کو کراچی سے بلوایا اور پھر فلم انتظار کے گیت گوائے ان گیتوں میں لیجنڈ گلوکار مہدی حسن کے ساتھ روبینہ بدر کی آواز میں ایک ڈوئیٹ بھی ریکارڈ کیا۔ شاعر مسرور انور کے لکھے ہوئے اس گیت کے بول تھے:

پیار کی اک نئی راہ پر ہم کو تقدیر لے آئی ہے

زندگی بھر نہ بچھڑیں گے ہم دو دلوں نے قسم کھائی ہے

گیت فائنل ٹیک کے بعد جب ہال میں سنا گیا تو سب کی زبان پر ایک ہی بات تھی کہ روبینہ بدر دوسری رونا لیلیٰ ہے۔ اس طرح فلم انڈسٹری کو روبینہ بدر کی صورت میں ایک اور رونا لیلیٰ مل گئی تھی اور روبینہ بدر نے واقعی اپنی آواز کے جادو سے سب کے دل موہ لیے تھے اور پھر انتظار فلم کے بعد روبینہ بدر پر شہرت کے دروازے کھلتے چلے گئے تھے۔ بہت ہی کم عرصے میں روبینہ بدر نے رونا لیلیٰ کا خلا پر کر دیا تھا۔ پھر روبینہ بدر نے مہدی حسن کے بعد مسعود رانا، احمد رشدی اور اے نیر کے ساتھ بہت سے ڈوئیٹ گائے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔