وزیراعظم کا دورہ سعودیہ اور ’یو اے ای‘۔۔۔ مقاصد پورے ہوسکیں گے؟

خارجہ و معاشی امور کے ماہرین کا ’’ایکسپریس فورم اسلام آباد‘‘ میں اظہار خیال ۔ فوٹو : فائل

خارجہ و معاشی امور کے ماہرین کا ’’ایکسپریس فورم اسلام آباد‘‘ میں اظہار خیال ۔ فوٹو : فائل

وزیراعظم شہباز شریف نے حکومت سنبھالتے ہی سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے دورے کیے ہیں۔

ان دوروں کا مقصد کیا تھا اور مستقبل میں ان کے کیا اثرات مرتب ہونگے؟ ایسے بیشتر سوالات کے جوابات جاننے کیلئے ’’ایکسپریس فورم اسلام آباد‘‘ میں ایک مذاکرہ کا اہتمام کیا گیا جس کی رپورٹ نذر قارئین ہے۔

ساجد امین
(ماہر معاشیات)
پاکستان کا موجودہ معاشی بحران پہلے بحرانوں سے یکسر مختلف ہے۔ اس وقت پاکستان کے پاس آئی ایم ایف کے علاوہ کوئی دوسرا آپشن نہیں ہے بلکہ پلان’ اے‘، ’بی‘ اور ’سی‘، سب پلان آئی ایم ایف ہی ہیں اس کے بغیر بحران سے نکلنا ممکن نہیں ہے۔

موجودہ بحرانوں سے نکلنے کے لیے پاکستان کو ڈپلومیسی و تجارت سمیت اقتصادی ماڈل کے لحاظ سے بنگلہ دیش کا ماڈل اپنانا ہوگا۔ جہاں تک پاکستان کو درپیش موجودہ اقتصادی بحران کا تعلق ہے تو اگران حالات کا موازنہ 2017-18کے حالات سے کریں تو تین بنیادی چیزیں مختلف ہیں۔

2018ء میں عام انتخابات کے نتیجے میں پانچ سال کیلئے نئی حکومت بننے جارہی تھی جس کے پاس جامع اصلاحات کامینڈیٹ تھا اور وقت بھی زیادہ تھا مگر اب تحریک عدم اعتما د کی کامیابی کے نتیجے میں جو مخلوط حکومت معرض وجود میں آئی ہے وہ غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے۔ یہ ابھی تک واضح نہیں ہے کہ حکومت کتنے عرصے کیلئے ہے مگر یہ نظر آرہا ہے کہ اس حکومت کے پاس اصلاحات کیلئے زیادہ وقت نہیں ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان جب حکومت میں آئے تو اس وقت شرح سود بہت کم تھی اور چھ فیصد کے لگ بھگ تھی۔ اسی طرح مہنگائی کی شرح پانچ فیصد کے لگ بھگ تھی جو کہ بہت کم تھی۔

اس وقت ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر104روپے کے لگ بھگ تھی ،روپیہ مستحکم تھا لیکن موجودہ حکومت کے لیے صورتحال مختلف تھی۔ شرح سود 12.25 فیصد کی بلند ترین سطح پر تھی جو خطے میں سب سے زیادہ تھی۔ اسی طرح مہنگائی کی شرح 13 فیصد ہے جو خطے میں سب سے بلند ہے ۔

جب موجودہ حکومت آئی تو ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قیمت188روپے تھی۔ اسی طرح تحریک انصاف کی حکومت جب آئی تو اس وقت پاکستان آئی ایم ایف کے پروگرام میں جارہا تھا لیکن موجودہ حکومت جب آئی ہے تو اس کو پچھلی حکومت کا سخت شرائط میں لیا گیا آئی ایم ایف کا پروگرام ٹریک سے اترا ہوا ملا۔ اب اس حکومت کیلئے آئی ایم ایف پروگرام چیلنج بنا ہوا ہے ،موجودہ حکومت نے آئی ایم ایف کا پروگرام مکمل کرنا ہے۔

لہٰذا اگر شرائط مانتے ہیں تو مکمل ہوجائے گا بصورت دیگر آئی ایم ایف پروگرام نامکمل ہوگا۔ اگرپروگرام ادھورا چھوڑتے ہیں تو حکومت کو اس کی بہت بھاری و بھیانک قیمت چکانا پڑے گی جس کا ملک متحمل نہیں ہوسکتا ۔ موجودہ حکومت کو ملکی تاریخ کا بلند ترین تجارتی خسارہ اور بلند ترین کرنٹ اکاونٹ خسارہ ملا۔ جب تحریک انصاف کی حکومت آئی تھی۔

اس وقت عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں اس قدر بلند نہیں تھیں مگر موجودہ حکومت جب آئی ہے تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند ترین سطح پر ہیں اور نیچے آنے کے امکانات بھی کم ہیں۔ اسی طرح پاکستان تحریک انصاف کے پچھلے ساڑھے تین سالہ دور میں پاکستان نیٹ درآمد کنندہ بن گیا ہے اور گندم سمیت دیگر اشیائے ضروریہ درآمد کی جارہی ہیں جس کی وجہ سے ملک کا درآمدی بل بہت بڑھ چکا ہے۔

ابھی بھی پاکستان دوملین ٹن گندم درآمد کرنا چاہتا ہے ۔ ملک کو درپیش سنگین معاشی، مالی، سیاسی ، داخلی اور خارجی محاذ پر مسائل کے پیش نظر اس وقت ایک مضبوط اور مستحکم حکومت کی ضرورت ہے لیکن صورتحال اس کے برعکس ہے۔ حکومت کمزور ہے یہی وجہ ہے کہ وہ بڑے فیصلے نہیں کرپارہی اور مسلسل کنفیوژن کا شکار ہے جس کا نقصان ملک کو ہو رہا ہے۔

پروفیسر ڈاکٹر محمد ایوب صدیقی
(سربراہ فاسٹ سکول آف مینجمنٹ)
پاکستان اس وقت تاریخ کے اہم ترین دوراہے پر کھڑا ہے۔ ملک کوداخلی ، خارجی اور معاشی محاذ پر جن چیلنجز کا سامنا ہے، اس سے پہلے کبھی ایسی صورتحال درپیش نہیں رہی ہے۔

پاکستان اس وقت بہت مشکل صورتحال سے دوچار ہے۔ اقتصادی و مالی بحران سے نکلنے کیلئے پاکستان کو ایکسٹرنل فرنٹ پر پچاس ارب ڈالر کی ضرورت ہے اور اتنی بڑی رقم صرف دوست ممالک یا ڈونرز سے حاصل کرنا ممکن نہیں ہے۔

ہمیں دوست ممالک اور ڈونرز کے تعاون کے ساتھ ساتھ ٹیکس ریونیو بڑھانا ہوگا،برآمدات بڑھانا ہونگی، ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ، ترسیلات زر کو فروغ دینا ہوگا اور یہ سب سیاسی استحکام اور مضبوط خارجہ پالیسی کے بغیر ممکن نہیں ہے جس کیلئے تمام سیاسی جماعتوں اور سٹیک ہولڈرز کو سر جوڑ کر بیٹھنا ہوگا۔ اس وقت ملکی زرمبادلہ کے ذخائر انتہائی کم ہیں۔

ساڑھے گیارہ ارب ڈالر کے لگ بھگ جوسٹیٹ بینک کے پاس زرمبادلہ کے ذخائر موجود ہیں ،ان میں چار ارب ڈالر چین،تین ارب ڈالر سعودی عرب اور پچاس کروڑ ڈالر یو اے ای کے شامل ہیں۔ اس تناظر میں نہ صرف وزیراعظم میاں شہباز شریف کا حالیہ دورہ سعودی عرب اور یو اے ای انتہائی اہمیت کا حامل ہے بلکہ وزیر خارجہ بلاول بھٹو کا امریکی وزیر خارجہ کی دعوت پر دورئہ امریکہ بھی بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔

یقینی طور پر وزیراعظم شہباز شریف کے حالیہ غیر ملکی دوروں کے ملکی معیشت پر گہرے اثرات مرتب ہونگے اور پاکستان کی تاریخ بھی اس بات کی گواہ ہے کہ ہر مشکل وقت میں سعودی عرب،یو اے ای ، قطر اور چین جیسے دوست ممالک ، آئی ایم ایف،عالمی بینک و ایشیائی ترقیاتی بینک سمیت دوسرے ڈویلپمنٹ پارٹنر نے پاکستان کو بیلاآوٹ کیا ہے اور ابھی بھی پاکستان کو یہی ممالک و ڈویلپمنٹ پارٹنرز بیل آوٹ کریں گے مگر یہ انتظامات عارضی ہوتے ہیں۔

بدقسمتی سے ہمارے حکمران دوست ممالک اور ڈویلپمنٹ پارٹنر کے بیل آوٹ کرنے کے بعد ملک کو مستقل بنیادوں پر خود انحصاری کی راہ پر چلانے کیلئے کوئی ٹھوس اقدامات نہیں کرپاتے ہیں اور زیادہ ترغیر ملکی امداد پر ہی انحصار کو وطیرہ بنائے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے کچھ عرصے کیلئے بحران تو ٹل جاتے ہیں لیکن ان سے مستقل چھٹکارہ نہیں مل پاتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ کچھ وقفے کے بعد پھر سے بحران سر اٹھانا شروع ہوجاتے ہیں لیکن اس مرتبہ صورتحال تھوڑی مشکل ہے۔ اب کی بار دوست ممالک بھی آئی ایم ایف کی طرف دیکھ رہے ہیں اور آئی ایم ایف کی طرف سے سگنل ملنے پر ہی ریسکیو کیلئے آگے بڑھیں گے۔

جس کیلئے اگلے ہفتے قطر میں متوقع آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کلیدی اہمیت کے حامل ہیں۔ اگر پاکستان کے آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کامیاب ہوجاتے ہیں اور پاکستان آئی ایم ایف سے موجودہ پروگرام میں توسیع کرواکر اسے آٹھ ارب ڈالر تک لے جانے یا نیا پروگرام لینے میں کامیاب ہوجاتا ہے تو اس سے عالمی بینک و ایشیائی ترقیاتی بینک سمیت دوسرے ڈویلپمنٹ پارٹنرز کی امداد بھی ملنا شروع ہوجائے گی اور اقتصادی صورتحال بہتری ہونا شروع ہوجائے گی۔

اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ پچھلے ساڑھے تین سال میں جہاں اقتصادی و مالی صورتحال خراب ہوئی ہے وہیں امریکہ کے ساتھ ساتھ سب سے مضبوط اور قریب تصور کئے جانیوالے دوست ممالک کے ساتھ بھی سفارتی تعلقات میں سرد مہری آئی ہے۔

سعودی عرب، چین، یو اے ای اور قطر کے ساتھ شریف خاندان کے ذاتی نوعیت کے بھی اچھے تعلقات ہیں اور اب وزیراعظم شہباز شریف جلد چین کے دورے پر بھی جانے والے ہیں ، توقع ہے کہ وہ مسائل پر قابو پالیں گے مگر اس سب کے باوجود سب سے پہلے ہمیں اپنا ہائوس ان آرڈرز کرنا ہوگا اس کے بغیر تمام تر کاوشیں بے سود ثابت ہوں گی۔ ہمیں سیاسی عدم استحکام اور بے یقینی کی فضاء ختم کرنا ہوگی۔

عمر خان علی شیرزئی
(ماہر امور خارجہ)
پاکستان عالمی سطح پر سفارتی تعلقات میں خرابی کا متحمل نہیں ہوسکتا ہے اور یہ حقیقت ہے کہ پچھلے دور حکومت میں سابق وزیراعظم عمران خان اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی پالیسیوں کی وجہ سے پاکستان سفارتی لحاظ سے تنہا ہوگیا۔

میرے نزدیک پاکستان اس بات کا متحمل نہیں ہوسکتا ہے کہ کوئی لیڈر یا جماعت اپنے سیاسی مقاصد کے حصول اور عوام کو اشتعال دلانے کیلئے امریکی سازش کا ڈھونگ رچائے۔ اگر بغور جائزہ لیا جائے تو معلوم پڑتا ہے کہ کوئی سازش نہیں تھی بلکہ اصل وجہ مہنگائی،بیڈ گورننس اور کرپشن کا بڑھتا ہوا عفریت تھا جس نے ملک کو بری طرح نقصان پہنچایا ہے۔ سابق دور حکومت میں جس قدر کرپشن ہوئی ہے۔

اس کی ماضی میں کوئی دوسری مثال نہیں ملتی۔ ہمیں سب سے زیادہ نقصان خارجی سطح پر پہنچا ہے کیونکہ پاکستان دنیا میں تنہا ہوگیا۔ نئی حکومت کیلئے دنیا کے ساتھ سفارتی تعلقات کو بحال کرنا سب سے بڑا چیلنج ہے۔ توقع ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کا دورہ سعودی عرب اور یو اے ای ان تعلقات کی بحالی میں اہم کردار ادا کرے گا۔ اس کے معیشت پر بھی یقینی طور پر اچھے اثرات مرتب ہوں گے۔

پاکستان کو یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ امریکہ ایک بڑی طاقت ہے اور مغربی دنیا امریکہ کے زیر تسلط ہے لہٰذا جو پالیسی امریکہ کی ہوتی ہے وہی کم و بیس مغربی ممالک کی بھی ہوتی ہے۔

اس کے علاوہ تجارت اور روزگار کا محور و مرکز بھی اس وقت امریکہ،کنیڈا،یو کے ،سعودی عرب ،یو اے ای اور قطر ہیں۔ ہم ان ممالک کے ساتھ نہ تو تعلقات بگاڑ سکتے ہیں اور نہ ہی خود کو ان کے زیر تسلط رکھ سکتے ہیں۔ ہمیں وقار کے ساتھ ان تمام ممالک سے تعلقات کو آگے لے کر چلنا ہوگا۔ جس کیلئے سیاسی عزائم و پوائنٹ سکورنگ سے پاک مضبوط اور آزادانہ خارجہ پالیسی بہت ضروری ہے۔ سابق وزیر اعظم اور سابق وزیر خارجہ نے اپنے سیاسی عزائم کیلئے امریکی سازش کا کھیل کھیلا ہے جس سے پاکستان کو عالمی سطح پر شدید سفارتی نقصان پہنچا ہے۔

ہمیں کسی بلاک کا حصہ نہیں بننا چاہیے کیونکہ اگر پاکستان کسی بلاک کا حصہ بنتا ہے تو واپس 1970ء کی دہائی میں چلا جائے گا۔ پاکستان کو امریکہ کے ساتھ ساتھ روس ،چین اور دنیا کے دیگر ممالک کے ساتھ بھی تعلقات رکھنے چاہئیں۔ پاکستان کو روس اور امریکہ کی لڑائی میں نہیں آنا چاہیے اور غیر جانبردارانہ طور پر حکمت و بصیرت کے ساتھ چلنا چاہیے۔ حکمت و بصیرت ہی مسلمانوں کی کنجی رہی ہے۔ دین اسلام کا بھی یہی حکم ہے کہ حکومت کریں تو حکمت و بصیرت کے ساتھ کریں اور صلح حدیبیہ اس کیلئے مشعل راہ ہے جسے فتح مبین قرار دیا گیا۔ ملک کو درپیش مسائل کے حل کیلئے ٹھوس اقدامات کی ضروت ہے۔

سب سے پہلے مضبوط، غیرجانبدار اور آزاد خارجہ پالیسی اپنانا ہوگی جس میں دنیا کے تمام ممالک کے ساتھ متحرک و فعال ڈپلومیسی اختیار کرنا ہوگی اور ملکی مفادات کو سب سے اوپر رکھنا ہوگا۔ وزیراعظم شہباز شریف کے حالیہ دورے، اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ ان دوروں کے فوری اثرات تو سعودی رقم کی واپسی میں مزید وقت ملنے کی صورت سامنے آئے ہیں جو ایک بڑا ریلیف ہے۔

اسی طرح یو اے ای کے دورے کے بعد یو اے ای کے سرمایہ داروں کا ایک وفد عید کی تعطیلات میں پاکستان کے دورے پر آیا جس نے ملک میں سرمایہ کاری کے مواقع کا جائزہ لیا۔ توقع ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کا دورہ سعودی عرب اور یو اے ای کے اثرات اگلے چند ماہ میں عرب سرمایہ کاروں کی پاکستان میں سرمایہ کاری کی صورت میں ظاہر ہونا شروع ہوجائیں گے جس سے توقع ہے کہ پاکستان پر دوبارہ خوشحالی کا دور آئے گا۔

ڈاکٹر خاقان حسن نجیب
( سابق مشیر وزارت خزانہ و سابق سربراہ اکنامک ریفامز فار پاکستان)
جغرافیائی سیاسی تنازعات، سپلائی میں رکاوٹوں اور چین میں کرونا وائرس کے دوبارہ سر اٹھانے سے عالمی نقطہ نظر خراب ہو گیا ہے۔ آئی ایم ایف کا نظر ثانی شدہ عالمی اقتصادی نقطہ نظر پہلے کی نسبت کم امید افزاء تصویر پیش کرتا ہے۔

آئی ایم ایف کے لیے کیلنڈر سال کی صرف ایک چوتھائی میں معاشی ترقی کے لیے اپنے تخمینوں کو کم کرنا نایاب ہے۔ اس نے 2022ء کے لیے عالمی نمو میں تقریباً ایک فیصد پوائنٹ کی کمی کا انتباہ دیا ہے۔ کم ترقی کے تخمینوں کے ساتھ متوقع افراط زر میں کافی حد تک اوپر کی طرف نظرثانی کی گئی ہے۔ جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورتحال نے گندم، مکئی ، گیس، تیل اور دھاتوں کی سپلائی میں خلل ڈالا ہے اور ساتھ ہی زراعت کے لیے کھاد جیسی اشیاء کی قیمتوں کو بڑھا دیا ہے۔ ان حالات کی وجہ سے مستقبل میں خوراک کے عالمی بحران اور عالمی بھوک میں ممکنہ اضافے کی وارننگ دی گئی ہے۔

ملکی معیشت کو اس وقت مشکل صورتحال کا سامنا ہے۔ مارکیٹوں میں ہیجانی کیفیت ہے، کسی کو یقین نہیں کہ معاملات قابو میں ہیں۔ روپیہ مسلسل جدوجہد کر رہا ہے۔ ملک کا ڈیفالٹ رسک جیسا کہ پانچ سالہ کریڈٹ ڈیفالٹ سویپ سے ماپا جاتا ہے 2013ء کے بعد سب سے زیادہ ہے، اور چھ ماہ کا کبور 14.25 فیصد ہے جو 13سالوں میں سب سے زیادہ ہے جبکہ ٹریژری بل کی شرح 15 فیصد تک پہنچ رہی ہے جو 24 برسوں میں سب سے زیادہ ہے۔

بڑھتی ہوئی قیمتوں کا کمزوروں پر تباہ کن اثر پڑتا ہے۔ پاکستان کی کہانی کچھ زیادہ مختلف نہیں ہے۔ مالی سال22ء کے پہلے دس مہینوں میں اوسط مہنگائی 11.02 فیصد کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔

تاہم، اگلے چند ماہ میں توانائی اور پیٹرولیم کی قیمتوںکے لحاظ سے 13.4فیصد سے بھی زیادہ بلند سطح دیکھنے کو مل سکتی ہے۔ مالی سال 2022ء میں کرنٹ اکائونٹ اور مالیاتی خسارہ دونوں غیر پائیدار سطح تک بڑھنے کا امکان ہے۔ کرنٹ اکائونٹ خسارہ جی ڈی پی کے 5فیصد سے زیادہ ہونے کا امکان ہے۔

یہاں تک کہ کٹوتی کے باوجود مالیاتی خسارہ جی ڈی پی کے 8 فیصدکے قریب ہوگا۔ بیرونی فنانسنگ کی ضروریات مالی سال22ء کے لیے تقریباً 32 بلین ڈالر اور مالی سال23ء کے لیے 35بلین ڈالر تک پہنچ گئی ہیں۔

ذخائر کو بڑھانے کے لیے دوست ممالک کو تھپتھپانے، موخر ادائیگیوں پر تیل تلاش کرنے، بین الاقوامی کمرشل بینک کی نئی میچورٹیز، اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ ’آئی ایم ایف‘کو ڈیل کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان میں بیرونی اکائونٹس کے استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے غیر ضروری اشیاء کی درآمدات پر قابو پانے کے ساتھ ساتھ تحفظ کا آغاز بھی وقت کی ضرورت ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔