مویشیوں کی اسمگلنگ، نایاب بکروں اور بھینسوں کی نسل معدوم ہونے لگی

کاشف حسین  پير 3 مارچ 2014
 معدومیت کے خطرے سے دوچار کاموری بکرا۔ فوٹو: ایکسپریس

معدومیت کے خطرے سے دوچار کاموری بکرا۔ فوٹو: ایکسپریس

کراچی: زندہ مویشیوں کی بڑے پیمانے پر ایکسپورٹ اور اسمگلنگ کے سبب سندھ میں نایاب نسل کے بکروں کی بقا کو خطرہ لاحق ہوگیا، کاموری نسل کے بکرے بکریوں کی تعداد پورے سندھ میں 3ہزار سے بھی کم رہ گئی جبکہ سندھ کی کنڑی بھینس بھی معدوم ہوتی جارہی ہے۔

نایاب نسلوں کی تعداد میں کمی سے سندھ میں غربت کی سطح میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے، دیہی آبادی کا گزربسر مویشیوں کی پرورش پر ہوتا ہے، نسلیں نایاب ہونے اور منہ مانگی قیمت ملنے کی وجہ سے بریڈنگ کے لیے بھی مویشی دستیاب نہیں، فارمرز کے مطابق فوری طور پر سندھ کی نایاب نسل کے بکروں اور بھینسوں کی ایکسپورٹ اور اسمگلنگ کا سدباب نہ کیا گیا تو چند سال میں بیشتر نایاب نسلوں کا وجود ختم ہوجائے گا، سندھ لائیو اسٹاک ایگری کلچر نمائش میں شریک فارمرز نے انکشاف کیا ہے کہ سندھ سے بڑے پیمانے پر زندہ ایکسپورٹ اور اسمگل کیے جانے سے نایاب نسل کے مویشیوں کی بقا خطرے میں پڑچکی ہے جن میں کاموری نسل کے بکرے سرفہرست ہیں، اپنے اونچے اور مضبوط قد کاٹھ کے علاوہ سندھ میں بکثرت اگنے والے خودرو پودوں کیکر اور کامو جیسی خشک اور کڑوی ترین غذا پر پلنے والے کاموری بکرے سندھ میں پائی جانے والی اہم ترین نسلوں میں سے ایک ہیں، کاموری بکروں کی خاصیت ان کے لمبے کان اور چٹے دار کتھئی رنگ ہے، کاموری بکریاں سال میں ایک وقت میں ایک سے تین بچے دیتی ہیں۔

دودھ اور گوشت کے لیے بھی یہ نسل پوری دنیا میں مشہور ہے،کئی سال سے دیگر بکروں کی طرح کاموری نسل کے بکرے بھی بڑے پیمانے پر ایکسپورٹ اور اسمگل کیے جارہے ہیں، فارمرز کے مطابق دبئی اور کراچی کے بیوپاری سندھ کے مختلف چھوٹے شہروں میں لگنے والی منڈیوں اور فارمز سے منہ مانگی قیمت پر بکرے خرید کر ایکسپورٹ کررہے ہیں، یومیہ بنیادوں پر نایاب نسل کے 150سے زائد بکرے اسمگل اور ایکسپورٹ کرنے کے لیے سندھ کے چھوٹے شہروں اور منڈیوں سے خریدے جاتے ہیں،زیادہ تر بکرے افغانستان ایران اور سعودی عرب سمیت مڈل ایسٹ ممالک کو ایکسپورٹ کیے جاتے ہیں افغانستان بکروں کی اسمگلنگ کا بڑا ذریعہ ہے، فارمر حاجی ابراہیم کے مطابق پورے سندھ میں کاموری نسل کے بکروں کی تعداد تین ہزار سے بھی کم رہ گئی ہے، قرنطینہ ڈپارٹمنٹ اور دیگر متعلقہ محکمے بکروں کے ساتھ بڑے پیمانے پر بکریوں کی بھی ایکسپورٹ کی اجازت دے رہے ہیں حتیٰ کے حاملہ (گیابن) بکریاں بھی ایکسپورٹ اور اسمگل کی جارہی ہیں۔

نایاب ہونے کی وجہ سے اصل کاموری نسل کے بکروں کے بچے بھی 20سے 25ہزار روپے میں فروخت ہورہے ہیں جبکہ بڑے بکرے بکریوں کی قیمت ایک لاکھ اور اس سے بھی زائد ہے،کاموری بکروں کی طرح چھوٹی نسل کے ٹیڈی بکرے بھی تیزی سے معدوم ہورہے ہیں یہ بکرے زیادہ تر عرب ملکوں کو ایکسپورٹ کیے جاتے ہیں، ٹیڈی بکروں کی اہم نسلیں کالی ٹاپری، سفید ٹاپری، گلابی ٹاپری شامل ہیں، سندھ میں دو فارمز پر ریشمی بالوں والے ترکی کے بکروں کی بھی افزائش کی جارہی ہے جن کی قیمت فی بکرا 3سے 4لاکھ ہے ان بکروں کی گردن سے مشہور کشمیری پشمینہ شال اور باقی جسم کے بالوں سے نرم ملائم کارپٹ تیار کیے جاتے ہیں۔

سندھ میں پائی جانے والی بری بکری ایک دن میں دو سے ڈھائی لیٹر دودھ دیتی ہے اسی طرح ایک دن میں بغیر کسی دوا یا ٹیکے کے 13لیٹر تک دودھ دینے والی سندھ کی کنٹری بھینس کی نسل بھی سندھ سے تقریبا ختم ہوگئی ہے اور اب اس کی بریڈنگ پنجاب میں کراس کرکے کی جارہی ہے، سندھ میں سب سے زیادہ پٹیری نسل کے بکروں کی فارمنگ کی جارہی ہے یہ نسل وزن قد کاٹھ اور جسامت میں دیگر نسلوں پر بھاری ہے۔فارمرز کے مطابق سندھ میں مویشیوں کی ویکسین اور پنجاب کی طرز پر چھوٹے فارمرز کو براہ راست مالی سپورٹ اور آگاہی کی فراہمی کے ذریعے سندھ کے زوال پذیر لائیو اسٹاک سیکٹر کو بحال کیا جاسکتا ہے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔