اردو پڑھانے والے اساتذہ کے مسائل

زین الملوک  بدھ 18 مئ 2022
ملک میں قومی زبان اردو کی تدریس کو اہمیت نہیں دی جاتی۔ (فوٹو: فائل)

ملک میں قومی زبان اردو کی تدریس کو اہمیت نہیں دی جاتی۔ (فوٹو: فائل)

ایک استاد کےلیے کمرۂ جماعت اُس ملک کے نونہالوں کو ایک قد آور قوم بنانے کی تجربہ گاہ ہوتا ہے۔ اس تجربہ گاہ سے اساتذہ چاہیں تو ناقابلِ تسخیر اور غیرت مند قوم تیار کریں یا پھر ہجوم۔ اُس تجربہ گاہ کو سیکھنے کےلیے کارآمد اور سازگار ماحول بنانے کےلیے نصاب، اسکول کی عمارت، ضروری وسائل، ماہرینِ تعلیم، حکومت کی سرپرستی، والدین کا ساتھ اور طلبا کی دلچسپی بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ لیکن ان سب میں کلیدی کردار اساتذہ کا ہی ہوتا ہے کہ وہ کس طرح طلبا کو پڑھاتے ہوئے اُن کی شخصیت کی مثبت تکمیل میں حصہ ڈالتے ہیں۔ مذکورہ بالا تمام عناصر علیحدہ علیحدہ مقالات کے متقاضی ہیں تاہم! زیرِ نظر مضمون میں ہم صرف اردو پڑھانے والے اساتذہ کے مسائل اور اس ضمن میں چند تجاویز بھی پیش کریں گے۔

ضرب المثل ہے کہ ’گھر کی مرغی دال برابر‘۔ بالکل اسی ضرب المثل کے مصداق مملکتِ خداداد میں قومی زبان ’اردو‘ اور تدریسِ اردو کی اہمیت کو پسِ پشت ڈال دیا گیا ہے۔ کہنے کو تو ’اردو‘ لازمی مضمون ہے لیکن عملی طور پر اسے اتنا غیر اہم بنایا گیا ہے کہ طلبا اور اساتذہ کی اکثریت اس میں دلچسپی لینے سے کتراتی ہے۔ اس عدم دلچسپی اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے مسائل کی بے شمار وجوہات ہیں، تاہم! یہاں چنیدہ نکات کو ہی صفحۂ قرطاس پر لایا جارہا ہے۔

 

اردو اساتذہ اور طرزِ تدریس

اردو پڑھانے والے زیادہ تر اساتذہ ایسے ہیں جنھوں نے یا تو اردو کو بطورِ مضمون مخلصانہ انداز میں پڑھا نہیں ہے یا اردو پڑھانے کے حوالے سے اُن کی تربیت نہیں ہوئی۔ کچھ اساتذہ کے معاملے میں ایسا بھی ہے کہ انھوں نے اردو میں اعلیٰ تعلیم تو حاصل کی ہے مگر فقط ڈگری لینے کی حد تک۔ لہٰذا ’اردو‘ مضمون میں ناپختگی ان اساتذہ کی کارکردگی کو بری طرح متاثر کررہی ہے۔ راقم کا مشاہدہ رہا ہے کہ بہت سے اردو پڑھانے والے اساتذہ اپنے مضمون میں انتہائی کمزور ہیں۔ اس کمزوری کی ایک وجہ جو میری سمجھ میں آئی ہے وہ یہ ہے کہ تعلیمی قابلیت کے برعکس، جس میں اساتذہ نے مختلف مضامین (سائنسز، ریاضی، انگریزی اور سوشل سائنسز) کو ایک ایک کرکے تختۂ مشق بنایا ہوتا ہے اور خاطر خواہ نتائج نہیں دے پاتے تو ان کو اردو پڑھانے کی ذمے داری سونپ دی جاتی ہے۔ ان بے چارے اساتذہ کو جذباتی طور پر یوں بلیک میل کیا جاتا ہے: ’’چوں کہ یہ ہماری قومی زبان ہے اور ہم روزمرہ زندگی میں اسے بولتے رہتے ہیں، لہٰذا یہ تو انتہائی آسان مضمون ہے اور اسے ہر کوئی پڑھا سکتا ہے۔‘‘ اب یہ اندازہ لگانا آپ کےلیے مشکل نہیں ہوگا کہ اس ’اردو‘ مضمون کے ساتھ وہ کیسا برتاؤ کرتے ہوں گے۔

ذرا نظر دوڑائیے تو ایسے اَن گنت اساتذہ سے واسطہ پڑے گا جنھیں ’اردو‘ مضمون کی تکنیکی باریکیوں کا بالکل اندازہ نہیں ہے۔ کئی اساتذہ ایسے ملیں گے جن کو ایک سادہ جملے کی درست ساخت کا بھی اندازہ نہیں ہوگا۔ نثر اور نظم کی اصناف کا پوچھیں گے تو اُلٹا آپ سے سوال کریں گے کہ ’’اصناف سے کیا مراد ہے۔‘‘ ایسی صورت حال میں نثر یا نظم کی اصناف کے اجزا، خصوصیات یا اصطلاحات تو بہت دور کی بات ہیں۔

’اردو‘ کو لسانی مہارتوں یعنی سننے، بولنے، پڑھنے اور لکھنے کی مہارتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے سکھانے کے بجائے انھیں تو پسِ پشت ڈال دیا جاتا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ ان اساتذہ کو بھی کبھی کسی نے اس انداز سے نہیں پڑھایا ہوتا، حالانکہ ہمارا ہر نصاب اسی طرح کی تدریس کا تقاضا کرتا رہا ہے۔ نتیجتاً اساتذہ درسی کتاب کے اقتباسات کی بلندخوانی، اشعار کی تشریح، مشکل الفاظ کے معانی یا خلاصے رٹوانے وغیرہ اور ادبا و شعرا کی تاریخ پیدائش و وفات یاد کروانے سے آگے کا نہیں سوچتے۔ لہٰذا میٹرک تک پہنچتے پہنچتے زیادہ تر بچے مناسب طرز میں اردو کے دو چار جملے تک نہیں لکھ پاتے۔ بجائے مضمون، خط، درخواست، کہانی، روداد یا اصنافِ ادب کی ساخت سکھانے کے انھیں چند مضامین، خطوط اور درخواستیں اس تاکید کے ساتھ یاد کروائی جاتی ہیں کہ امتحان میں یہی آئے گا۔ ’میرا بہترین دوست‘ کے عنوان پر مضمون رٹ کے طلبا امتحانی مراکز آجاتے ہیں اور اگر ’میرے ابو جان‘ پر مضمون لکھنے کےلیے آجائے تو طلبا کے ہاتھ پاؤں پھول جاتے ہیں یا اسے آؤٹ آف کورس سمجھتے ہوئے ہنگامہ برپا کر دیتے ہیں۔

 

اردو اساتذہ کی جدید وسائل (اسمارٹ ٹیچنگ) سے ناواقفیت

اکیسویں صدی میں ٹیکنالوجی عروج پر ہے۔ ایسے میں ایک استاد کی ٹیکنالوجی سے واقفیت لازمی ہونی چاہیے، مگر اردو کے اساتذہ (سوائے چند ایک کے) آج بھی ان ہی روایتی طریقوں پر عمل پیرا ہیں۔ اس وجہ سے کمپیوٹر، اسمارٹ بورڈ، ملٹی میڈیا اور دیگر جدید وسائل کے ہوتے ہوئے بھی ان سے استفادہ نہیں کر پاتے۔ اردو کے اساتذہ اپنی روایتی تدریس کے محدود حصار سے نکلنے کےلیے ذہنی طور پر تیار نہیں ہیں۔ ظاہر ہے اس کےلیے ان کو کمپیوٹر اور انٹرنیٹ استعمال کرنے کی مہارت سیکھنی ہوگی (جس میں اردو ٹائپنگ اور اردو میں پاور پوائنٹ پریزینٹیشن شامل ہیں) جو کہ ان کو مشکل کام لگتا ہے۔ لہٰذا وہ بدلتے وقت کے تقاضوں کے مطابق اپنے آپ کو تبدیل نہیں کرسکتے۔ اس کے مقابلے میں دوسرے مضامین کے اساتذہ اسمارٹ ٹیچنگ سے اپنے آپ کو ہم آہنگ کرکے اپنی تدریس بہتر کررہے ہیں اور طلبا اُن کی کلاس میں دلچسپی بھی لیتے ہیں، جب کہ اردو کی روایتی تدریس کے ساتھ بچوں کی دلچسپی نسبتاً کم ہوتی جارہی ہے۔

 

’اردو‘ تدریسی مواد کی کمی

دیگر مضامین میں بہت سارا تدریسی مواد بازار اور انٹرنیٹ پر باآسانی میسر ہوتا ہے۔ مثلاً انگریزی، ریاضی، معاشرتی علوم اور سائنسی مضامین کی کارآمد ورک شیٹس اور کتابیں باآسانی دستیاب ہوتی ہیں جن سے اساتذہ اپنی تدریسی سرگرمیوں کو مفید اور دلچسپ بناتے ہیں۔ لیکن اردو میں تدریسی مواد کا فقدان نظر آتا ہے۔ کتابی شکل میں تدریسی مواد بہت کم ہے۔ البتہ! کورونا وبا کے بعد سے انٹرنیٹ پر اردو کا کچھ تدریسی مواد آنے لگا ہے لیکن ایک تو اساتذہ اس سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا رہے اور دوسرا یہ کہ سارا مواد کتنا مستند ہے، اس کا کچھ اندازہ نہیں۔ لہٰذا معلمینِ اردو اپنی تدریس کو تخلیقی انداز میں دلچسپ نہیں بنا پا رہے اور اسی روایتی طریقۂ تدریس سے رشتہ مضبوط کیے ہوئے ہیں۔

 

’اردو‘ مضمون سے متعلق عمومی رویہ

عام طور پر والدین اور طلبا اردو کو وہ اہمیت نہیں دیتے جس کی وہ مستحق ہے۔ اردو کو بطورِ مضمون کوئی بھی سنجیدگی سے لینے کےلیے تیار ہی نہیں ہے۔ بہت سارےاردو کے اساتذہ نے راقم کو اپنا یہی دکھڑا سنایا ہے کہ بچے اردو میں دلچسپی نہیں لیتے اور شوق سے اردو نہیں پڑھتے۔ ایسے میں اکثر میرے اُن سے یہ سوالات ہوتے ہیں کہ آپ خود ’اردو‘ میں کتنی دلچسپی لیتے ہیں؟ آپ اردو کی کتابیں خود کتنی دلچسپی سے پڑھتے ہیں؟ آپ کا پسندیدہ مصنف کون ہے اور اس کی کون سی تصنیف آپ کو اچھی لگتی ہے اور کیوں؟ پسندیدہ شاعر کون ہے اور اس کی کون سی غزل یا نظم آپ کو پسند ہے؟ تو اس پر زیادہ تر جوابات آئیں بائیں شائیں میں ملتے ہیں۔ ایسے میں ان اساتذہ کو مشورہ دیتا ہوں کہ پہلے خود اردو میں دلچسپی پیدا کیجیے، اچھے ادبا و شعرا کی تخلیقات کا مطالعہ کیجیے، پُراعتماد ہو کر کلاس میں جائیے اور بچوں کو سنائیے، وہ خود بخود دلچسپی لینا شروع کردیں گے۔

لوگوں کو یہی کہتے ہوئے سنا گیا ہے کہ ’’سب سے آسان مضمون ’اردو‘ ہے، اس پر محنت کرنے اور اسے سنجیدگی سے پڑھنے کی کیا ضرورت ہے۔‘‘ تو جناب! اردو اپنے اندر ایک مکمل تہذیب ہے اور اس کا ایک شان دار ماضی ہے۔ آپ اسے عزت دیں تو سہی۔ پاکستان کے ماہرینِ تعلیم نے ایسے ہی تو اسے لازمی مضمون قرار نہیں دیا۔ ’اردو‘ نہیں پڑھیں گے یا کم اہمیت دیں گے تو اسی حساب سے کم سیکھیں گے۔ اس کے ساتھ انصاف کریں گے تو یہ مضمون بھی اپنا فرض نبھاتے ہوئے آپ کے ساتھ بھرپور انصاف کرے گا۔

 

اسکول انتظامیہ کا رویہ

اردو کے ساتھ اکثر اسکول انتظامیہ کا بھی سوتیلے ماں باپ کا سا رویہ رہا ہے۔ حالانکہ ہونا یہ چاہیے کہ جیسے والدین کی تمام اولاد ان کےلیے برابر کا درجہ رکھتی ہے، اسی طرح تمام مضامین (بشمولِ اردو) اسکول انتظامیہ کی نظر میں اہم ہونے چاہئیں۔ اچھے کالج اور اچھی یونیورسٹی میں داخلے کےلیے کل نمبرات کام آئیں گے، نہ کہ اردو کے بغیر نمبروں کا حساب ہوگا۔ غور کرنے کی بات یہ ہے کہ سارے طلبا سائنس دان، ڈاکٹر، انجنیئر، آرمی اور سول افسر، بینکر اور تاجر نہیں بنیں گے اور اگر تمام طلبا مذکورہ شعبہ جات میں کھپ بھی جائیں، تب بھی اس پاک سرزمین میں اپنے مخاطبین کے ساتھ وہ عموماً اردو میں ہی بات چیت کریں گے۔ اگر ایسا ہے تو کم از کم اچھی اردو بولنے کےلیے ہی اسکول اور کالج کی سطح پر اس لازمی مضمون ’اردو‘ کو خاص اہمیت دینی ہوگی۔

اکثر دیکھا گیا ہے کہ پرائیویٹ اسکولوں میں ’اردو‘ مضمون کے اساتذہ کو نسبتاً کم تنخواہیں دی جاتی ہیں۔ تنخواہ اساتذہ کےلیے ایک مثبت محرک اور حوصلہ افزائی کا درجہ رکھتی ہے۔ کم تنخواہ کے ساتھ ساتھ ان اساتذہ کو زیادہ کلاسز بھی دی جاتی ہیں اور اس پر مستزاد یہ کہ اردو کی کلاسز اکثر دن کے آخر آخر میں رکھی جاتی ہیں۔ ان اختتامی کلاسز میں طلبا خود بھی تھک چکے ہوتے ہیں اورنسبتاً زیادہ کام کے بوجھ تلے کم تنخواہ میں اسکول کے آخری گھنٹوں میں یہ بے چارے اساتذہ شوق، جستجو اور حوصلہ کہاں سے لائیں گے۔

تجاویز

1۔ مضمون پر عبور

چوں کہ اردو آپ کےلیے ذریعۂ معاش بن چکی ہے، لہٰذا اپنی روزی کی بقا اور طلبا کے بہتر مستقبل کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے اس مضمون میں اپنی گرفت کو مضبوط کیجیے۔ اردو ادب سے دلچسپی پیدا کیجیے۔ نامور ادبا و شعرا کی کتابوں نیز ان کے حالاتِ زندگی کا مطالعہ کیجیے۔ اردو اساتذہ کے نیٹ ورک میں شامل ہوجائیے اور تبادلۂ خیال کے ساتھ اُن سے رہنمائی حاصل کیجیے۔

2۔ طریقۂ تدریس

اردو کو بطورِ مضمون پڑھانے کے طریقے سیکھیے۔ نیز لسانی مہارتوں کی تدریس کی افادیت کے بارے میں پڑھیے اور ان مہارتوں کو پڑھانے کے مختلف طریقے سیکھیے۔ ان کے علاوہ کسی بھی زبان کی تدریس کے عمومی طریقے مثلاً بلاواسطہ طریقۂ تدریس، قواعد کی تدریس، سمعی و بصری آلات کے ذریعے تدریس، ساختی طریقۂ تدریس اور سرگرمی پر مبنی تدریس کے بارے میں پڑھیے اور یہ طریقے سیکھیے تاکہ آپ کی تدریس میں نکھار آئے۔

3۔ طریقۂ تدریس کا اطلاق

مذکورہ بالا دوسری تجویز پر عمل کرتے ہوئے سیکھے ہوئے طریقوں کا ایک ایک کرکے اطلاق کیجیے۔ مثلاً: سیکھنے کے مرحلے میں طلبا کو مختلف سرگرمیوں (جیسے کہ مباحثے، تقاریر، بیت بازی، مضمون نویسی، اخباری تراشوں سے افعال، اسما اور حروف وغیرہ ڈھونڈنے) میں شامل کیجیے۔ نیز پہلے سے ریکارڈ شدہ اقتباسات سنا کر بچوں سے چیدہ چیدہ نکات پر سوالات پوچھیے اور ان کے جوابات تحریر کروائیے۔ اس سرگرمی کےلیے اردو کے شاہ کار ڈرامے دِکھا کر ان پر مباحثے کے ساتھ ساتھ سوالات کے جوابات لکھوائیے تاکہ طلبا کی سننے، بولنے اور لکھنے کی مہارتیں بہتر ہوں۔

4۔ اسمارٹ ٹیچنگ اپنائیے

اپنے آپ کو بدلتے وقت کے تقاضوں اور جدید آلاتِ تدریس سے لیس کرکے اپنی تدریس کو دلچسپ بنائیے۔ اس ضمن میں آپ کو کمپیوٹر کی مہارت سیکھنے کے ساتھ ساتھ ٹیکنالوجی سے متعلقہ دوسرے وسائل کا استعمال سیکھنا ہوگا تاکہ آپ اپنی تدریس میں جدت لاسکیں۔ جب آپ دوسرے اسکولوں کے اساتذہ کے ساتھ نیٹ ورک قائم کرلیں گے تو اپنی کلاس کو ان کی کلاسز کے ساتھ ملا کر ایک وقت میں ہی آن لائن تدریس کروا سکتے ہیں۔ نئے اساتذہ اور نیا انداز طلبا کو اپنی طرف متوجہ کرے گا اور وہ سیکھنے کی طرف زیادہ راغب ہوں گے۔

5۔ سینئر ساتھی سے تدریسی سرگرمیوں کا مشاہدہ کروائیے

اپنے اسکول کے پرنسپل، سیکشن ہیڈ، اکیڈمک کوآرڈینیٹر یا کسی اور سینئر معلم/ معلمہ سے اپنی تدریسی سرگرمیوں بشمول سبق کی منصوبہ بندی اور طلبا کے جائزے کے تمام مراحل کا تجزیہ کروائیے تاکہ وہ آپ کو آپ کی کارکردگی کے بارے میں فیڈبیک دے سکیں۔ یہ فیڈبیک آپ کی تدریس میں نکھار لانے اور آئندہ کا لائحہ عمل بہتر انداز میں ترتیب دینے میں مددگار ہوگا۔ علاوہ ازیں، وقتاً فوقتاً اپنے طلبا سے بھی اپنی تدریس کے حوالے سے فیڈبیک طلب کیجیے، کیوں کہ طلبا کی رائے ایک صاف آئینے کی مانند ہوتی ہے۔

6۔ اپنا جائزہ خود لیجیے

اپنی عادت بنا لیجیے کہ روزانہ جو کچھ پڑھایا ہے، اس پر غور کیجیے۔ دن بھر میں کی گئی اپنی تدریس کا جائزہ لیجیے کہ کہاں کمی رہ گئی ہے، کہاں بہت اچھے رہے اور کون کون سی کتب سے مزید استفادہ کرنا ہے، کون سا پہلو ایسا تھا جہاں طلبا کی دلچسپی بہت زیادہ یا کم رہی وغیرہ وغیرہ۔ یاد رکھیے! اپنی تدریس کا جائزہ لینا اگرچہ ہمت کا کام ہے لیکن اس جائزے کے بعد جو صلاحیتیں مزید نکھر کر آتی ہیں وہ ایک استاد کو لائق استاد بنا دیتی ہیں۔

7۔ اسکول انتظامیہ سے توقعات

اسکول انتظامیہ مدرسینِ اردو کی پیشہ ورانہ تربیت کےلیے مختلف ورک شاپس کا انعقاد کرے۔ اسکول ٹائم ٹیبل میں اردو کی کلاسز کو شروع کی کلاسز کا حصہ بنائے۔ اردو مضمون اور اس کے معلمین کے ساتھ دیگر مضامین اور اساتذہ کی مناسبت سے برابری کا سلوک روا رکھے، تاکہ ان اساتذہ کی حوصلہ افزائی ہو، وہ اپنے آپ کو ’اردو‘ مضمون، اِس کی تدریس اور تخلیقی صلاحیتوں سے خوب بہرہ ور کرسکیں۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

زین الملوک

زین الملوک

بلاگر ایم اے اردو (پشاور یونیورسٹی)، ایم اے سیاسیات (پشاور یونیورسٹی) اور ایم ایڈ (آغاخان یونیورسٹی، کراچی) ڈگری کے حامل ہیں۔ گزشتہ دو دہائیوں سے شعبۂ تعلیم اور آج کل آغا خان یونیورسٹی ایگزامینیشن بورڈ، کراچی سے بطورِ منیجر ایگزامینیشن ڈیولپمنٹ وابستہ ہیں۔ ان سے ای میل [email protected] پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔