پنجاب اسمبلی میں کسی جماعت کے پاس اکثریت نہیں رہی

ویب ڈیسک  جمعـء 20 مئ 2022
کسی بھی جماعت کے پاس حکومت بنانے کے لئے 186 ارکان کی اکثریت کی نہیں ہے

کسی بھی جماعت کے پاس حکومت بنانے کے لئے 186 ارکان کی اکثریت کی نہیں ہے

لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب کا انتخاب رن آف ووٹ کے ذریعے ہوگا اور کسی بھی جماعت کے پاس 186 ارکان کی اکثریت نہیں ہے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پنجاب میں پی ٹی آئی اے کے 25 منحرف ارکان کو ڈی سیٹ کردیا جس کے بعد اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی کے فیصلے اہمیت اختیار کرگئے۔

پنجاب میں فی الحال گورنر کا عہدہ خالی ہے اور آئین کے مطابق گورنر نہ ہونے پر اسپیکر ہی قائم مقام گورنر ہوتا ہے اس لیے ممکنہ طور پر چوہدری پرویز الٰہی گورنر کا چارج سنبھال کر حمزہ شہباز کو اعتماد کا ووٹ لینے کا کہہ سکتے ہیں۔

یہ پڑھیں:  پی ٹی آئی کے منحرف 25 ارکان پنجاب اسمبلی ڈی سیٹ

دوسری جانب وزیراعلیٰ پنجاب کا انتخاب رن آف ووٹ کے ذریعے ہی ہوگا تاہم  کسی بھی جماعت کے پاس حکومت بنانے کے لیے 186 ارکان کی اکثریت کی نہیں ہے۔

پی ٹی آئی کے منحرف اراکین کے ڈی سیٹ ہونے کے بعد پنجاب میں نمبر گیم ایک بار پھر اہم ہوگیا ہے، مسلم لیگ (ن) کے 25 ووٹ کم ہونے کے بعد 172 رہ گئے ہیں جب کہ پی ٹی آئی کی طرف سے دعویٰ کیا جارہا ہے کہ ان کے پاس 173 ووٹ ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔