فیصلہ جلد کرنا ہوگا

زاہدہ حنا  اتوار 22 مئ 2022
zahedahina@gmail.com

[email protected]

اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ موجودہ صدی میں بڑی برق رفتاری سے جو حیرت انگیز تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں ، وہ ان تمام تبدیلیوں سے کہیں زیادہ اہم ہیں جو ماضی کی صدیوں میں وقوع پذیر ہوئی تھیں۔

سائنس اور ٹیکنالوجی کے حیران کر دینے والے جدید انقلاب نے دنیا کی کایا پلٹ کردی ہے۔ یہ کایا پلٹ صرف معیشت کے شعبے تک محدود نہیں ہے بلکہ اس نے انسانی سماج کے تمام شعبوں اور نظاموں کو تلپٹ کردیا ہے۔

عام خیال یہی ہے کہ 21 ویں صدی امن اور خوشحالی کی صدی ہوگی۔ انسان کو جنگ و جدل ، بھوک و افلاس سے نجات ملے گی ، جمہوری اور انسانی حقوق اور اقدارکو زبردست فروغ ملے گا اور وہ ہماری زندگی کا لازمی جزو بن جائیں گے، ملک اور ریاستیں ایک دوسرے پر غلبہ حاصل کرنے کی کوشش ترک کردیں گی، ان کے درمیان دوستی اور ہم آہنگی میں اضافہ ہوگا۔

یہ عین ممکن ہے کہ آگے چل کر مذکورہ بالا امیدیں اور توقعات پوری ہوجائیں، تاہم اس وقت صورتحال مایوس کن حد تک ان امیدوں سے کافی مختلف ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ 21 ویں صدی کی ابتدائی دہائیوں میں عالمی سطح پر معاشی محاذ آرائی میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے ، اس میں کمی کے کوئی آثار فی الحال نظر نہیں آرہے ہیں، دنیا کے کئی حصوں میں جنگیں اور خانہ جنگیاں جاری ہیں ، مذہبی، نسلی، لسانی اور علاقائی شدت پسندی میں کمی کے بجائے اضافے کا رجحان دیکھنے میں آرہا ہے۔

گزری دو دہائیوں میں مشرق وسطیٰ اور افریقا کے کئی ملکوں میں طویل اور خون ریز خانہ جنگیاں ہوئی ہیں جن میں ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں بے گناہ انسان لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق مرنے والے بد نصیب لوگوں کی تعداد 20 لاکھ سے بھی زیادہ ہے ، یہ ملک خانہ جنگی کی وجہ سے معاشی طور پر تباہ ہوچکے ہیں۔ کئی ملکوں میں بدترین غذائی قلت سے قحط کی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ جس سے انسانی ہلاکتوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ جاری ہے۔

موجودہ صدی میں دنیا کو بحران اور معاشی عدم استحکام سے دوچار کرنے میں کووڈ 19- کی عالمی وبا نے بڑا اہم کردار ادا کیا ہے۔ دسمبر 2019 سے پہلے کسی کے وہم و گمان میں بھی یہ بات نہیں تھی کہ محض چند ماہ کے اندر دنیا یکسر تبدیل ہوجائے گی۔ دنیا پر 3 سال بہت بھاری گزرے ہیں۔ کووڈ کی وبا سے عالمی معیشت کو تقریباً 3 کھرب ڈالر (2.96) کا نقصان ہوچکا ہے۔

دنیا کے پس ماندہ اور ترقی پذیر ملکوں کی معیشتیں بری طرح متاثر ہوئی ہیں ،کیونکہ ان کا انحصار بین الاقوامی تجارت ، سیاحت اور بیرونی سرمایہ کاری پر تھا اور عالمی وبا کی وجہ سے حمل و نقل کی ذرایع مسدود ہوگئے تھے۔ بحری ، بری اور فضائی ذرایع سے ہونے والی عالمی تجارت دو سال تک عملاً معطل رہی جس نے ان ملکوں کو دیوالیہ ہونے کے قریب پہنچا دیا۔ اس کی تازہ ترین مثال سری لنکا ہے۔ بہت سے ملک دیوالیہ ہونے کے بالکل قریب ہیں۔ بدقسمتی سے ہمارے ملک کو بھی اس بھیانک خطرے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

کووڈ کی عالمی وبا کے کمزور پڑنے کے بعد دنیا ابھی خود کو سنبھال رہی تھی کہ ایک نیا بحران سامنے آگیا۔ روس نے یوکرین پر حملہ کردیا۔ دونوں پڑوسی ملکوں کے درمیان ایک طویل جنگ کا آغاز ہوگیا جس کے ختم ہونے کے تاحال کوئی امکانات نہیں ہیں۔ یوکرین اور روس گندم ، غذائی اجناس تیل اور گیس پیدا اور برآمد کرنے والے دنیا کے سرفہرست ملکوں میں شامل ہیں۔

ان دونوں ملکوں کے درمیان جنگ کی وجہ سے عالمی سطح پر غذا اور توانائی کا بحران پیدا ہوگیا ہے جس سے سب سے زیادہ براعظم افریقا کے ملک متاثر ہوئے ہیں جہاں غربت کی سطح سے نیچے زندگی گزارنے والوں کی تعداد دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔ افریقا کو لاکھوں ٹن گندم کی ضرورت ہے جو اب اس کو بڑی مشکل سے دستیاب ہورہی ہے۔ روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ کا اگر جلد خاتمہ نہ ہوا تو افریقا میں لاکھوں افراد کم غذائیت اور قحط سے ہلاک ہوسکتے ہیں۔

اس سوال کا تجزیہ کرنے کی ضرورت ہے کہ عام توقعات کے برعکس 21 ویں صدی کی ابتدائی دہائیاں اس بحرانی کیفیت سے کیوں گزر رہی ہیں؟ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ دنیا میں ایک مختصر عرصے کے دوران جو غیر معمولی اور حیران کن ایجادات اور تبدیلیاں ہوئی ہیں انھوں نے ان تضادات کو مزید گہرا کردیا ہے جو موجودہ صدی کو ورثے میں ملے ہیں۔

ماضی کی صدیوں میں ملک الگ تھلگ رہا کرتے تھے۔ وبائیں اور بیماریاں ایک ملک تک محدود رہتی تھیں۔ کسی ملک میں معاشی بحران آجائے تو زیادہ سے زیادہ پڑوسی ملک متاثر ہوتے تھے۔ باقی دنیا پر اس کا اثر نہیں پڑتا تھا۔ 20 ویں صدی میں دو بڑی جنگیں ہوئیں جنھیں عالمی جنگوں کا نام دیا جاتا ہے۔ درحقیقت یہ دونوں جنگیں بھی عملاً مخصوص ملکوں اور خطوں تک محدود تھیں اور ان کے اثرات بھی چند ملکوں پر زیادہ پڑے تھے۔

اب دنیا بدل گئی ہے۔ انٹرنیٹ اور جدید ٹیکنالوجی کی اس صدی نے دنیا کو ایک اکائی بنادیا ہے۔ اب چین میں پیدا ہونے والا وائرس چند ہفتوں میں پوری دنیا پر حملہ آور ہوجاتا ہے۔ بڑے بڑے صنعتی ملکوں کی کساد بازاری دنیا پر اثر انداز ہوتی ہے۔ روس اور یوکرین کی جنگ سے عالمی سطح پر تیل، گیس، پٹرول اور اشیائے صرف کی قلت ہوجاتی ہے اور قیمتوں میں اتنا اضافہ ہوجاتا ہے کہ پاکستان جیسے ملکوں کے لیے آئی ایم ایف کے در پر دستک دینی پڑتی ہے۔

21 ویں صدی کو ماضی کے مسائل کا بوجھ اتارنے میں ابھی کم از کم 30 سال اور لگیں گے جو ملک زیادہ تیزی سے خود کو تبدیل کریگا وہ اس دوران بحرانوں کا کم شکار ہوگا۔ اب یہ ہم پر ہے کہ ہم خود کو حالات کے مطابق بدلنے کی کتنی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ہم کو سب سے پہلے حقیقی جمہوری نظام کو مستحکم کرنا ہوگا تاکہ پالیسیوں میں تبدیلیوں کا عمل تیز تر ہوسکے اور ماضی کی غلطیوں کا بلا تاخیر ازالہ ممکن ہو۔ آئین اور قانون کی حکمرانی سے معاشرے میں انتہا پسندی کی حوصلہ شکنی ہوگی اور معاشرے میں اعتدال اور میانہ روی پیدا ہو گی۔ معیشت کو اپنی خواہش کے تابع نہیں بلکہ معروضی حقائق کے مطابق چلانا ہوگا۔ علاقائی تجارت کو فروغ اور عالمی برادری سے بہتر تعلقات استوار کرنے کو ترجیح دینی ہوگی تاکہ عالمی تنہائی کے نقصانات سے بچا جاسکے۔

ہماری مشکل یہ ہے کہ ہم پچھلے ستر برسوں سے غیر معمولی مرکزیت پر قائم ایک نیم جمہوری نظام کو برقرار رکھنے پر بضد ہیں۔ اسی وجہ سے 1971 میں ملک دو ٹکڑے ہوا لیکن ہم خود کو تبدیل کرنے پر آمادہ نہیں ہوئے۔ ہماری پچھلی نصف صدی کی تاریخ قابل رشک نہیں ہے۔ ہمارے خطے کے جن ملکوں نے جمہوری تسلسل کا انتخاب کیا وہ آج ہم سے کہیں آگے نکل چکے ہیں۔ ہماری نفسیات بن چکی ہے کہ ہم پالیسی کے بجائے شخصیات کو زیادہ اہمیت اور ترجیح دیتے ہیں جب کہ قوموں کی تاریخ میں کوئی ناگزیر نہیں ہوتا۔

ملک، جمہوری نظام کے اندر رہتے ہوئے روشن خیال، ترقی پسند اور عوام دوست پالیسیوں کے ذریعے ترقی کا سفر طے کرتے ہیں۔ ہم آج ایک دوراہے پر کھڑے ہیں۔ خود کو بدلنے کا وقت آچکا ہے۔ بحران یا استحکام ؟ ترقی یا پس ماندگی؟ ہم کو ان میں سے کسی ایک کا فیصلہ جلد کرنا ہوگا۔ کیا ہم اس کے لیے تیارہیں؟

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔