ویلڈن بلاول !

علی احمد ڈھلوں  منگل 24 مئ 2022
ali.dhillon@ymail.com

[email protected]

وہ ایک فاتح جرنیل کا کمرہ تھا جہاں جاپان کے بادشاہ کو طلب کیا گیا تھا۔ جنرل، جاپانی بادشاہ کے برابر بیٹھا تھا، امریکی جنرل نے ٹانگ پر ٹانگ چڑھائے ہوئے تھا اور اس کے بوٹ کا رخ بادشاہ کی جانب تھا۔ یہ دوسری جنگ عظیم کے بعد کی کہانی ہے ، ہیرو شیما اور ناگاساکی پر امریکی اٹیمی حملوں کے بعد جاپان کی سیاست اور معیشت مکمل طور پر تباہ ہو گئی۔

امریکی جنرل نے جاپان کے بادشاہ کو طلب کیا ہوا تھا، جنرل نے طنزیہ لہجے میں کہا ، بادشاہ سلامت آپ کو اپنے جرنیلوں پر غصہ نہیں آیا کہ جب امریکا انھیں بار بار تنبیہ کر رہا تھا کہ جنگ سے باز رہواور ہتھیار پھینک دو۔

مگر وہ پھر بھی امریکی طاقت کو نہ سمجھ سکے اور اپنا جانی و مالی نقصان کر بیٹھے۔ اس پر جاپانی بادشاہ ہیروہیتو (Hirohito) نے کہا کہ تمام جرنیل، بیوروکریسی اور شہنشاہی وزیر ایک پیج پر تھے، اور جنگ میں جرمنی کا اتحادی بننا ہماری واضح خارجہ پالیسی تھی۔ جسے سب نے متفقہ طور پر تسلیم کیا اور اب جب کہ ہم جنگ ہار چکے ہیں لیکن اب بھی ہم سب ایک پیج پر ہیں ۔ کیوں کہ ہم ایک قوم ہیں اور جب قوم کو شکست ہوتی ہے تو وہ اُس سے سیکھتی ہے، آگے بڑھنے کے لیے!

اس پر امریکی جنرل مسکرایا اور طنزیہ کہا کہ اب بہت دیر ہو چکی ہے۔ آپ کے ارد گرد بھوک، افلاس اور غربت کے ڈیرے ہیں اور کوئی آپ سے تجارت بھی نہیں کرنا چاہتا لہٰذاآپ ملک کے ادارے ہمارے حوالے کردیں۔

اس پر جاپان کے بادشاہ نے جواب میں صرف ایک ہی درخواست کی کہ بے شک جاپان کی معیشت، سیاست اور ہر چیز پر امریکا کا قبضہ ہے لیکن صرف ایک شعبہ جاپان کے ہاتھ میں دے دیا جائے اور وہ شعبہ تعلیم کا ہے جس کی نگرانی خود جاپان کی حکومت کرے گی۔ خیر امریکا کو کیا اعتراض ہونا تھا، لہٰذا یہ مطالبہ تسلیم کر لیا گیا اور یہی بات جاپان کی ترقی کا راز ٹھہری۔ یوں ایک جنرل جیتی ہوئی جنگ ہار گیا لیکن ایک بادشاہ اور علم کا داعی فتح سے ہمکنار ہوگیا۔

جاپان کے بادشاہ ہیروہتو نے جنگ عظیم دوم کے بعد 43سال مزید حکومت کی اور اپنے ملک کو ترقی کی راہ پر ایسا ڈالا کہ آج دنیا ٹیکنالوجی کے میدان میں جاپان کی محتاج بن کر رہ گئی ہے۔ یہ ملک اس وقت دنیا کی تیسری بڑی اکانومی ہے ، جس کی معیشت کا حجم 2020کے اعداد وشمار کے مطابق 5ہزارارب امریکی ڈالر سے زیادہ ہے۔ اس واقعہ میں بتانے والی اہم چیز یہ دوسری جنگ عظیم کے دوران جاپان میں حالات سخت کشیدہ ہوگئے تھے، تمام ادارے آپس میں لڑ رہے تھے۔

جاپانی فوج کے جرنیل ایک دوسرے کو نیچا دکھانے میں مصروف تھے لیکن ہیروہتو نے امریکی جرنیل کے سامنے نہ صرف اپنے ملک کا دفاع کیا بلکہ کسی کو یہ بات کرنے کا موقع فراہم نہیں کیا کہ جاپان میں کشیدگی ہے ، ہیروہتو جانتا تھا کہ اگر اُس نے یہ کہہ دیا کہ ہاں ہم اندرونی طور پر خلفشار یا اختلافات کا شکار تھے تو اس سے پوری جاپانی قوم کا سر شرم سے جھک جائے گا اور پوری دنیا میں اس چیز کا دفاع کرنا سب کے لیے مشکل ہو جائے گا۔

اس کے برعکس ہم پوری دنیا میں باہمی اختلافات کے باعث مشہور ترین قوم ہیں، بلکہ ’’ہجوم‘‘ کہیں گے تو زیادہ بہتر ہو گا۔ یہاں ہم نہ صرف اپنی بال کھول کھول کر دوسرے کے سامنے روتے نظر آتے ہیں بلکہ دوسروں کو اپنے ملک میں دخل اندازی کی کھلی دعوتیں دے رہے ہوتے ہیں۔

آپ حالیہ سیاسی کشیدگی کو ہی دیکھ لیں۔ لندن میں ہر روز سیاسی مخالفین ایک دوسرے کی رہائش گاہوں کے باہر کھڑے ہو کر سیاسی نعرے بازی کر رہے ہوتے ہیں بلکہ میں آج کل نیویارک آیا ہوا ہوں، یہاں بھی پاکستانی سیاسی مخالفین ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوشش کر تے دکھائی دیتے ہیں حالانکہ ہمیں کون سمجھائے کہ دلیل کے ساتھ کی گئی باتیں میرے خیال میں زیادہ اثر رکھتی ہیں۔

خیر ایسے میں بلاول بھٹو زرداری کے دورہ امریکا و چین کو قومی حلقوں کی طرف سے سراہا جا رہا ہے۔ بطور وزیرخارجہ یہ ان کا پہلا دورہ ہے۔ اس سے پہلے ان کے پاس کوئی سرکاری عہدہ بھی نہیں رہا، اس کے باوجود انھوں نے اس دورے میں جس بالغ نظری کا مظاہرہ کیا ہے، وہ قابلِ ستائش ہے۔ انھوں نے دورہ روس کے حوالے سے سابق وزیراعظم عمران خان کا دفاع کیا اور کہا یہ قومی پالیسی تھی کہ دورہ کیا جائے۔

اس وقت یوکرین جنگ کا کوئی امکان نہیں تھا۔ لڑائی وزیراعظم کے روس پہنچنے کے بعد شروع ہوئی، اس لیے اسے منسوخ کرنا ممکن نہیں تھا۔ یہ بڑی اہم بات ہے کہ بلاول بھٹو زرداری نے سیاسی مخالفت کو بالائے طاق رکھ کر قومی پالیسی کا دفاع کیا۔

ماضی میں ہم دیکھ چکے ہیں کہ سابق وزرائے اعظم اپنے مختلف غیرملکی دوروں میں ملکی حالات کے بارے میں اظہار خیال کرکے پاکستان میں کرپشن اور سیاسی شخصیات کی لوٹ مار کا ذکر کرتے تھے، جس سے ملک کی بدنامی ہوتی تھی، حالانکہ قومی معاملات کو ملک کے اندر ہی رکھنا چاہیے اور دنیا کے سامنے صرف ملک کا مثبت چہرہ لایا جائے تو بہتر ہے۔

بہرکیف بلاول بھٹو زرداری نے بطور وزیر خارجہ موجودہ حکومت کے پہلے 50دن میں سب سے بہتر کام کیا ہے، اس وقت بلاول کے جو امریکیوں کے ساتھ تعلقات بن رہے ہیں وہ یقینا مستقبل میں بھی پاکستان کے کام آئیں گے جیسے امریکی وزیر خارجہ انتھونی بلنکن نے انھیں دورے کی دعوت دینے کے لیے 50منٹ طویل کال کی تھی ، کسی ملک کے نئے وزیرخارجہ سے اتنی طویل کال بھی شاید امریکی وزیر خارجہ نے کم کم ہی کی ہو۔ لہٰذا اُمید کی جا سکتی ہے کہ بلاول نئی نسل کے لیے اُمید کی کرن ہوں گے، اور روایتی سیاستدانوں کی طرح کرپٹ نہیں ہوں گے۔

لہٰذا بلاول اگر اُمید ہیں تو آنے والے دنوں میں یہ سیٹ اُن کے لیے پھولوں کا سیج ثابت نہیں ہوگی کیوں کہ اُن کے لیے سب سے بڑا چیلنج امریکا اور چین کو ساتھ ساتھ لے کر چلنا ہوگا۔ اس کے علاوہ چیلنجز میں پاک بھارت تعلقات، پاک چائنہ تعلقات ، ایف اے ٹی ایف معاملات اور پاک افغان تعلقات شامل ہیں، جن سے نمٹنا ہی اصل چیلنج ہوگا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔