کیا لیپ ٹاپ خراب ہوگیا

سلیم خالق  منگل 24 مئ 2022
پلیئرز پاور بڑھنے کا ٹیم کو ہی نقصان ہو گا، بعض کرکٹرز کے ایجنٹس مخصوص پلیئرز کو ایجنڈے کے تحت آگے لاتے ہیں۔ فوٹو: فائل

پلیئرز پاور بڑھنے کا ٹیم کو ہی نقصان ہو گا، بعض کرکٹرز کے ایجنٹس مخصوص پلیئرز کو ایجنڈے کے تحت آگے لاتے ہیں۔ فوٹو: فائل

’’ویسٹ انڈیز کی کمزور ٹیم آ رہی ہے،پاکستانی سلیکٹرز کئی سینئر کرکٹرز کو آرام دینے کا سوچ رہے ہیں‘‘

چند روز قبل میرے ایک ’’باخبر دوست‘‘ نے یہ بات بتائی، وہ اپنی دانست میں سمجھ رہے تھے کہ مجھے کوئی ایکسکلوسیو خبر دی ہے،مگر میں نے ان سے کہا کہ پاکستان میں آرام کرنے کی روایت نہیں یہاں انجرڈ کرکٹرز بھی کوشش کرتے ہیں کہ کسی طرح کھیل جائیں، وجہ غیر محفوظ ہونا ہے، انھیں لگتا ہے کہ اگر اپنی جگہ کسی اور کو موقع دیا اور اس نے پرفارم کر دیا تو ٹیم میں واپسی مشکل ہو جائے گی۔

یہ سوچ ایک عام کرکٹر سے سپراسٹار سب میں پائی جاتی ہے، میرے دوست نے یہ بات سن کر کہا کہ دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے، پھر آج ان کا واٹس ایپ پیغام موصول ہوا کہ ’’تم صحیح تھے‘‘۔ ایسا نہیں ہے کہ کسی سلیکٹر نے مجھے تبدیلی نہ ہونے کا بتایا یہ محض میرا خیال تھا جو درست ثابت ہوا،خود کو ترجیح دینے کی یہ سوچ نئے ٹیلنٹ کو آگے بڑھنے کا موقع نہیں دے رہی، یہ اب سے نہیں بلکہ برسوں سے ہے۔

وسیم اکرم اور وقار یونس کے دور میں بھی جب محمد زاہد جیسا کوئی نوجوان اچھا پرفارم کر جاتا تو یہ دونوں فورا فٹ ہو کر واپس آ جاتے تھے،خیر وہ زمانہ اور تھا ٹو ڈبلیوز کا تو کوئی پیسر مقابلہ بھی نہیں کر سکتا ، ٹیم میں کئی دیگر بڑے نام موجود تھے مگر اب ایسا نہیں ہے، اب گنتی کے چند پلیئرز ہی تسلسل سے پرفارم کر رہے ہیں، باقی کو دیکھ کر لگتا ہے کہ بس الیون مکمل کرنے کیلیے رکھا گیاہے، یہ درست ہے کہ بعض سینئرز سے جب آرام کا کہا گیا تو انھوں نے انکار کر دیا،ایسے میں سلیکٹرز کو اپنی اتھارٹی منواتے ہوئے کمزور ویسٹ انڈیز کے خلاف نئے پلیئرز کو بھی موقع دینا چاہیے تھا۔

بینچ پر بیٹھے یا نوجوان کرکٹرز کو آخر کب آزمایا جائے گا،مگر مسئلہ یہ ہے کہ چیف سلیکٹر صاحب کو خود اپنی کرسی خطرے میں لگتی ہے، ٹویٹر پر کسی کی تعریفیں ہوں، میڈیا میں شور مچے یا صاحب کسی کا نام لیں، وہ فورا منتخب ہو جاتا ہے، باقی بیچارے ہاتھ ملتے رہتے ہیں، مجھے لگتا ہے چیئرمین پی سی بی رمیز راجہ بھی سلیکشن معاملات میں بہت دخل دے رہے ہیں۔

ان سے بڑی توقعات تھیں کہ بورڈ میں آنے کے بعد مثبت تبدیلیاں کریں گے مگر انھوں نے سوائے چند کے سابقہ دور کے بیشتر افراد کو برقرار رکھا ہے، اگر وہ بورڈ اتنا اچھا تھا تو احسان مانی اور وسیم خان کو ہی روک لیتے،مگر سب جانتے ہیں کہ ایسا نہیں تھا، مگر نجانے رمیز کن مصلحتوں کا شکار ہیں، شاید ابھی ان کی کرسی خود ہلی ہوئی ہے اس لیے محتاط ہیں، ورنہ سب سے پہلے تو انھیں کوئی تگڑا چیف سلیکٹر لانا چاہیے۔

انضمام الحق ، معین خان یا راشد لطیف جیسا کوئی سابق کرکٹر ہو تو اسے کوئی کھلاڑی آنکھیں نہیں دکھا سکتا، گنتی کے چند میچز کھیلنے والے وسیم کی بات کون سنے گا،پہلے ان کے لیپ ٹاپ کا بڑا ذکر ہوتا تھا، وہ اعدادوشمار دکھا کر بتاتے تھے کہ کسی کھلاڑی کو کیوں منتخب کیا یا کیوں نکالا، اب تو شاید ان کا لیپ ٹاپ بھی خراب ہو گیا ورنہ شان مسعود نے انگلینڈ میں رنز کے جو ڈھیر لگائے وہ ضرور نظر آ جاتے، یا کم از کم پاکستان کپ کی کارکردگی کو ہی اہمیت دی جاتی،قومی ٹیم میں بعض کھلاڑیوں کا اثرورسوخ بھی بڑھتا جا رہا ہے۔

پلیئرز پاور بڑھنے کا ٹیم کو ہی نقصان ہو گا، بعض کرکٹرز کے ایجنٹس مخصوص پلیئرز کو ایجنڈے کے تحت آگے لاتے ہیں، نجانے بورڈ اس جانب کب توجہ دے گا،آئندہ برس 50 اوورز کا ورلڈکپ ہونا ہے اور ہمارا اسکواڈ ہی سیٹ نہیں،مڈل آرڈر بیٹنگ کب سے کمزور چلی آ رہی ہے، اس حوالے سے کوئی کام نہیں ہو رہا، خوشدل شاہ اور افتخار احمد اس بار بھی منتخب ہوئے، ان کی کارکردگی میں تسلسل کا فقدان ہے۔

اسی طرح اسپن ڈپارٹمنٹ بھی عرصے سے کمزور نظر آ رہا ہے،اس پر بھی کوئی توجہ نہیں دی جا رہی،ہیڈ کوچ ثقلین مشتاق بھی اسپنرز کی رہنمائی میں ناکام نظر آتے ہیں، ایسے میں کمزور ٹیموں کو ہرا کر ہی خوش ہوتے رہیں جب کسی مضبوط حریف سے مقابلہ ہوا تومشکل کا سامنا کرنا پڑے گا،ابھی کہا جا رہا ہے کہ چونکہ ویسٹ انڈیز سے سیریز آئی سی سی ورلڈکپ سپرلیگ کا حصہ ہے اس لیے نئے کھلاڑیوں کو موقع نہیں دیا جا سکتا، ہمیں میگا ایونٹ میں براہ راست جگہ بنانی ہے۔

اس حوالے سے اگر حقائق دیکھے جائیں تو اگر خدانخواستہ ٹیم ہوم سیریز ہار بھی جائے تو بھی براہ راست کوالیفکیشن پر کوئی فرق نہیں پڑے گا، مگر شکست کے خوف سے بڑے فیصلے ہی نہیں کیے جاتے، جب تک آپ کسی نوجوان کو موقع نہیں دیں گے تو وہ اپنی صلاحیتوں کا کیسے اظہار کرے گا، اسکواڈ کے ساتھ رکھ کر سیر کرانے سے کیا ملے گا۔

اگر باری باری چند نئے کھلاڑیوں کو مواقع دیے جاتے تو ٹیم آج سیٹ ہو چکی ہوتی،وکٹ کیپنگ میں بلاشبہ محمد رضوان کی کارکردگی شاندار ہے مگر درمیان میں کئی ایسے مواقع آئے جب سرفراز احمد کو بھی کھلایا جا سکتا تھا مگر بہت کم ہی ایسا ہوا، ٹورز پر پانی پلانے کے کام سے ہی ان کا اعتماد کم کر دیا گیا ، اب وہ اسکواڈ سے بھی باہر ہو گئے،محمد حارث ابھی بہت ناتجربہ کار ہیں۔

بولرزاور بیٹرز تو کئی ہوتے ہیں ان میں نئے لڑکے کو موقع دیا جا سکتا ہے لیکن وکٹ کیپر ظاہر ہے ایک ہی ہوتا ہے وہ بالکل تیار ہونا چاہیے، یہ سیریز آئیڈیل موقع تھی جس میں سرفراز کو کھلا کر اعتماد بحال کرنے کا موقع دیا جا سکتا تھا مگر ایسا نہ ہوا، شاید ان کی موجودگی سے کوئی ان کنفرٹیبل ہوتا ہے، خیر رمیز راجہ کو بھی دیکھنا چاہیے کہ سلیکشن میں ہو کیا رہا ہے، فی الحال حکومت لانگ مارچ وغیرہ کی وجہ سے پریشان ہے،ابھی چیئرمین کی جانب کسی کی نگاہیں نہیں جائیں گی،ایسے میں انھیں چاہیے کہ اچھے فیصلے کر جائیں۔

کم از کم چیف سلیکٹر تو ایسا لائیں جسے دیکھ کر کھلاڑی بھی ادب سے کھڑے ہو جائیں، ہاں مگر اس سے اپنی بات منوانا بھی آسان نہ ہوگا، اس لیے شاید اکاؤنٹس ڈپارٹمنٹ کو ابھی کئی ماہ وسیم کے نام کا ہی چیک تیار کرنا پڑے گا۔

(نوٹ: آپ ٹویٹر پر مجھے @saleemkhaliq پر فالو کر سکتے ہیں)

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔