جیوانی سے پکڑی گئی مچھلی ایک کروڑ35 لاکھ 80 ہزارروپے میں نیلام

ویب ڈیسک  جمعـء 27 مئ 2022
کروکر مچھلی کو سندھی زبان میں سوا مچھلی کہا جاتا ہے اس کے طبی خواص کی بنا پر یہ نہایت مہنگے داموں فروخت ہوتی ہیں۔ فوٹو: فائل

کروکر مچھلی کو سندھی زبان میں سوا مچھلی کہا جاتا ہے اس کے طبی خواص کی بنا پر یہ نہایت مہنگے داموں فروخت ہوتی ہیں۔ فوٹو: فائل

جیوانی: 40 کلو سے زائد وزن کی کروکر مچھلی ایک کروڑ35لاکھ 80ہزارروپے میں نیلام کردی گئی۔ 

ایکسپریس نیوز کے مطابق بلوچستان کے ضلع گوادر کی تحصیل جیوانی کے سمندر سے پکڑی گئی کراکر مچھلی نے ماہی کی زندگی بدل دی، کیوں کہ مچھلی کی نیلامی ایک کروڑ 35 لاکھ 80 روپے میں کی گئی ہے۔

تیکنیکی مشیر ڈبلیو ایف پاکستان معظم خان کے مطابق جیوانی کے قریب ماہی گیر کے جال میں 48.5 کلو وزنی کراکر پھنس گئی تھی، کراکر بلوچی زبان میں “کر” کہا جاتا ہے، کروکر مچھلی ایک کروڑ 35 لاکھ 80 ہزار روپے میں نیلام کردی گئی ہے۔

تیکنیکی مشیر ڈبلیو ایف نے مچھلی کی خصوصیات کے حوالے سے بتایا کہ کروکرز کے قیمتی ہونے کی وجہ ان کا سوئم بلیڈر یعنی پوٹا ہے، چین میں اسے سکھا کر سونے کی طرح سنبھال کر رکھا جاتا ہے، اور چین میں کروکر مچھلی ہوتا شان و شوکت کی علامت سمجھا جاتا ہے، اس مچھلی کے پوٹے کو سرمایہ کاری میں استعمال کیا جاتا ہے اور ضرورت کے وقت بھاری قیمت میں فروخت کردیا جاتا ہے۔

معظم خان نے بتایا کہ اس مچھلی کو کھانے میں بھی استعمال کیا جاتا ہے، لیکن کراکر مچھلی کے گوشت کی کچھ زیادہ قدر و قیمت نہیں ہے، پاکستان میں بڑے کروکرز کی دو اقسام جاپانی اور اسپاٹڈ پائی جاتی ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔