صحافی کے سوالات پرعمران خان سیخ پا؛ پریس کانفرنس چھوڑ کر چلےگئے

ویب ڈیسک  جمعـء 27 مئ 2022
عوام نے  چوروں کو لٹکتے ہوئے نہیں دیکھا، اسلام آباد پر چڑھائی کرنے جائیں گے تو یہ کون سا نیا نعرہ ہے؟ صحافی کا سوال ۔  فوٹو : اسکرین گریب

عوام نے چوروں کو لٹکتے ہوئے نہیں دیکھا، اسلام آباد پر چڑھائی کرنے جائیں گے تو یہ کون سا نیا نعرہ ہے؟ صحافی کا سوال ۔ فوٹو : اسکرین گریب

اپشاور: پاکستان تحریک اںصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان پشاور میں دوران پریس کانفرنس صحافی کی جانب سے پوچھے گئے سوالات پر سیخ پا ہوگئے اور پریس کانفرنس چھوڑ کر چلے گئے۔ 

وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران ایک صحافی نے عمران خان سے متعدد سوالات کیے۔ صحافی نے پوچھا ’کہ لوگ آپ کو ووٹ دیتے اور ساتھ چلتے ہیں لیکن نہ انہوں نے وزیر اعظم ہاؤس اور گورنر ہاؤس کی دیواریں گرتی نہیں دیکھیں جبکہ لوگوں نے وزیر اعلیٰ ہاؤس میں جامعات بھی بنتے نہیں دیکھیں، چوروں کو لٹکتے ہوئے نہیں دیکھا، دوبارہ اسلام آباد پر چڑھائی کرنے جائیں گے تو یہ کون سا نیا نعرہ ہے؟

صحافی نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے مزید کہا کہ ’آپ خیبرپختونخوا کے صحافیوں کو بھلا چکے ہیں اور یو ٹیوبرز اور کی بورڈ وارئیر سے پاکستان فتح کرنے کی کوششش کی اور امریکا، یورپ اور نیٹو کے ممالک افغانستان فتح نہیں کرسکتے تو اسلام آباد کیا فتح کریں گے؟‘

پشاور میں عمران خان کی پریس کانفرنس کے دوران صحافی نے مزید سوال کیے کہ ’گلی کوچوں میں آرمی چیف کو گالیاں دی جارہی ہیں، اب یہ ترتیب کس نے دی؟ سوشل میڈیا پر یہ کون لوگ ہیں؟ پی ٹی آئی کے لوگ ہیں؟ آپ اپنے پارٹی کارکنوں کو اداروں بالخصوص آرمی اور علدیہ کے حوالے سے کیا پیغام دیں گے؟ اب عوام توقع کررہے ہیں کہ اپنے کارکنوں کی تھوڑی تربیت کرلیں۔

صحافی کے سوال کے جواب میں سابق وزیر اعظم عمران خان نے قدرے تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’اس کا بڑا سخت جواب دے سکتا ہوں لیکن وہ نہیں دوں گا، سازش کے حوالے سے چیف جسٹس کو مراسلہ ارسال کیا ہے، ہم امپورٹڈ حکومت کو نہیں دیکھ سکتے ہیں، قوم جس کو بھی ووٹ دینا چاہے دیے۔

عمران خان نے مزید کہا کہ سوشل میڈیا کو کوئی کنٹرول نہیں کرسکتا، لوگ نہیں چاہیں تو ٹرینڈ ختم ہوجاتے ہیں، اگر میں نفرت کا خواہاں ہوتا تو کل جو حالات تھے تو وہاں نفرتیں تب دیکھنی تھیں کیسے پھیلتی ہیں، ہم قوم کو متحد کررہے ہیں۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے صحافی کو مخاطب کرکے کہا کہ آپ نے غلط باتیں کی ہیں، بالکل غلط، اور ایک غلط قسم کی تقریر کردی ہے جبکہ یہ پریس کانفرنس ہورہی ہے۔ اس دوران عمران خان سیخ پا ہوگئے اور پریس کانفرنس چھوڑ کر چلے گئے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔