عمران خان صاحب! حقیقت سے کب تک بھاگیں گے؟

نورجہاں شیخ  ہفتہ 28 مئ 2022
اقتدار سے ہٹنے کے بعد آپ نے بھی وہی روایتی سیاست شروع کردی۔ (فوٹو: فائل)

اقتدار سے ہٹنے کے بعد آپ نے بھی وہی روایتی سیاست شروع کردی۔ (فوٹو: فائل)

آج کل جہاں دیکھو پاکستان کی سیاسی صورتحال اور مہنگائی ہی موضوع گفتگو ہوتی ہے۔ اور یہ گفتگو کرنے والے واضح طور پر دو دھڑوں میں تقسیم نظر آتے ہیں۔ ایک دھڑا عمران خان کے چاہنے والوں کا ہے تو دوسرا دھڑا عمران خان کے مخالفین کا۔ دونوں میں سے کون صحیح ہے کون غلط، اس پر بحث لاحاصل ہے کیونکہ یہ دونوں ہی دھڑے شدت پسندی میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ لیکن ان دو دھڑوں کے بیچ ایک تیسرا طبقہ پس رہا ہے، اور یہ وہ طبقہ ہے جسے عمران خان ’’جانور‘‘ سے تشبیہ دے چکے ہیں۔ جی ہاں وہ طبقہ ہم جیسے ’’نیوٹرلز‘‘ کا ہے، جو شدت پسندی سے ہٹ کر حقائق پر بات کرنا پسند کرتے ہیں، لیکن جب دیکھتے ہیں کہ سامنے دونوں دھڑوں میں سے کوئی ’’شدت پسند‘‘ ہے تو خاموشی میں ہی عافیت سمجھتے ہیں۔

اب کل ہی کی بات لے لیجئے۔ پشاور میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کسی صحافی نے کچھ سخت سوالات کر ڈالے اور عمران خان بجائے تحمل سے ان سوالات کا جواب دیتے، بات کو کہیں سے کہیں گھما کر غصے میں پریس کانفرنس ہی چھوڑ کر چلے گئے۔ کیا ایک ایسا لیڈر، جس کے لاکھوں فالوورز ہیں اور جو قوم کو حقیقی آزادی دلانے نکلا ہے، یہ رویہ زیب دیتا ہے؟ کیا عمران خان کو پوچھے گئے سوالات کے تشفی بخش جواب نہیں دینے چاہیے تھے؟ آخر پریس کانفرنس کا مقصد کیا ہوتا ہے، صرف اپنی بات اور نظریے کا پرچار کرنا اور سامنے والے کی نہ سننا؟

آخر وہ ایسے کون سے سخت سوالات تھے جس نے عمران خان کو اتنا سیخ پا کردیا؟ یا عمران خان کے پاس حقیقت میں ان سوالوں کا جواب تھا ہی نہیں؟ پہلے ان سوالات پر نظر ڈالتے ہیں۔ صحافی نے سوال کے نام پر جو تقریر کی وہ کچھ یوں تھی۔

’’اپنے وزیروں کی پرفارمنس کو اینالائز کریں۔ دیگر ڈپارٹمنٹ کا تو چھوڑ دیں ایک میڈیا کا سیکٹر ان سے نہیں سنبھالا جارہا… ایک تو مہربانی کریں اس طرف توجہ دیں۔ دوسری بات، ظاہر بات ہے آپ پختونخوا میں پاپولر لیڈر ہیں، خیبرپختونخوا میں آپ کے فالوورز کثیر تعداد میں ہیں جس میں کوئی شک نہیں۔ لوگ آپ کو ووٹ بھی دیتے ہیں، لوگ آپ کے ساتھ جاتے بھی ہیں۔ لیکن نہ لوگوں نے وزیراعظم ہاؤس کی دیواریں گرتی ہوئی دیکھیں۔ نہ لوگوں نے گورنر ہاؤسز کی دیواریں گرتے ہوئے دیکھیں۔ نہ لوگوں کے وزیراعلیٰ ہاؤس میں یونیورسٹیاں دیکھیں۔ نہ لوگوں نے پاکستان کو آزاد ہوتے ہوئے دیکھا، نہ چوروں کو لٹکتے ہوئے دیکھا۔ اب اگر آپ دوبارہ لوگوں کو انگیج کرکے اسلام آباد پر چڑھائی کرنے کےلیے جائیں گے۔ تو کون سا نیا نعرہ ہے؟
اور ایک بات خان صاحب! آپ کی ٹیموں نے یوٹیوبرز اور کی بورڈ واریئرز سے پاکستان فتح کرنے کی کوشش کی ماضی میں۔ پختونخوا کے ساتھیوں کو آپ لوگ بھلا چکے تھے ساڑھے تین سالہ وزیراعظم کے دور میں۔ یوٹیوبرز اور کی بورڈ واریئرز سے تو امریکا، یورپ اور نیٹو کے ممالک افغانستان فتح نہیں کرسکے، آپ اسلام آباد کیا فتح کریں گے؟ اور سر گلی گلی، کوچے کوچے میں لوگ آرمی جنرلز کو گالیاں دے رہے ہیں۔ یہ تربیت کس نے دی ہے؟ ٹویٹر پر یہ کون لوگ ہیں؟ یہ پی ٹی آئی کے لوگ ہیں؟
آپ اپنے ورکرز کو پاکستان کے اداروں بالخصوص آرمی اور جو عدلیہ ہے، اس کے حوالے سے کیا پیغام دیں گے؟ کہ جو آرمی جنرل کے حوالے سے… یہ پیغام آپ نے کہا تھا کہ کان میں پیغام پہنچادیں تو میرے خیال میں یہ پیغام ہر کان تک پہنچ چکا ہے، گالیاں پڑ رہی ہیں۔ تو اب عوام توقع کررہے ہیں کہ آپ اپنے ورکر کی تھوڑی سی تربیت کرلیں۔ آپ اپنی تحریک چلائیں، ان چوروں کے خلاف چلائیں، پاکستان کو فتح کریں۔ فتح کرکے آپ دوبارہ عوام کی خدمت کریں۔ لیکن یہ جو نفرت کی سیاست ہے، یہ جو غارت گروں کی سیاست ہے اس حوالے سے آپ اپنے ورکر کو پیغام دیں گے؟‘‘

ہم نہیں جانتے کہ یہ سوالات اس صحافی کے دل کی آواز تھے یا انھیں باقاعدہ یہ سوال کرنے کےلیے بھیجا گیا تھا۔ اگر دیکھا جائے تو یہ طویل سوال کرنے کا طریقہ کار بھی غلط تھا، مختصراً کارکردگی پر بات کی جاسکتی تھی کیونکہ اس مفصل سوال میں بہت سی باتیں ’’تنقید‘‘ کے انداز میں کی گئیں۔ لیکن اگر اجمالی جائزہ لیا جائے تو یہ سوالات یکسر غلط نہیں تھے۔ سابقہ وزیراعظم عمران خان نے ہی طبقاتی فرق کو ختم کرنے کی بات کرتے ہوئے وزیراعظم ہاؤس، وزیراعلیٰ ہاؤس کی دیواریں گرا کر اور ان عمارتوں کو تعلیمی اداروں میں تبدیل کرنے کی بات کی تھی۔ لیکن ساڑھے تین سالہ دورِ اقتدار میں آخر وہ کون سی رکاوٹ تھی جو وہ اپنی بات پر عمل نہ کرسکے؟ اگر کوئی مجبوری تھی تو عمران خان اس سوال کے جواب میں بیان کرسکتے تھے۔

کی بورڈ واریئرز اور یوٹیوبرز سے متعلق اور کارکنوں کی تربیت کا سوال بھی غلط نہیں ہے۔ ملک میں جو طوفانِ بدتمیزی برپا ہے وہ سب کے سامنے ہے۔ اگر یہ سب کرنے والے پی ٹی آئی سے تعلق نہیں رکھتے تو صحافی نے یہی تو کہا تھا کہ آپ اپنے کارکنوں کو کیا پیغام دینا چاہیں گے۔ کیا عمران خان جواب میں ایسے لوگوں سے کوئی تعلق نہ ہونے کی بات نہیں کرسکتے تھے؟ کیا وہ اپنے کارکنوں کو یہ ہدایت نہیں کرسکتے تھے کہ جو بھی اخلاقی گراوٹ کا شکار ہوگا اس کا پی ٹی آئی سے کوئی تعلق نہیں رہے گا؟

لیکن ان سوالوں کا جواب دینے کے بجائے بات کو گھما کر کرنا اور پھر غصے میں پریس کانفرنس ہی چھوڑ کر چلے جانا، یہ کیسا رویہ ہے۔ عمران خان نے لوگوں کو ایک امید دلائی تھی۔ یہ امید کہ پاکستان میں برسوں سے جاری دو پارٹیوں کا میوزیکل چیئر گیم اور باری باری حکومت میں آنے کا کھیل ختم ہوجائے گا۔ ایک تیسری بڑی جماعت جو تبدیلی کی خواہاں ہے وہ ملک میں ہوگی۔ کرپشن کا خاتمہ ہوجائے گا اور ایسے لوگ حکومت میں ہوں گے جو عوام کے حقیقی نمائندے ہوں گے۔ اور اسی امید پر قوم نے عمران خان کو ووٹ دیا تھا۔ لیکن عمران خان نے کیا کیا؟ وہ اپنے ٹیم میں ان ہی لوگوں، ان کی چہروں کو شامل کرتے چلے گئے جو اسی پرانے سسٹم کے پروردہ تھے اور ہر پارٹی میں اقتدار کا مزا چکھ چکے تھے۔ اگر یہ پرانے چہرے ہی اپنے ساتھ رکھنے تھے تو قبل از اقتدار کے وہ دعوے کہاں گئے کہ آپ کے پاس دو سو ماہرین کی ٹیم ہے؟ وہ کون سی ٹیم تھی؟ کیا ان ہی نااہل اور بدتہذہب لوگوں کی جو پہلے ہی پاکستان کی سیاست میں بدنام تھے، اور جو نئے نام سامنے بھی آئے تو ان کی بھی کون سا سیاسی اور اخلاقی تربیت کی گئی؟ یہ عذر نہ تراشیں کہ دوسری جماعتوں کی بھی غلطیاں ہیں، ماضی کی دہائی نہ دیجئے اور نہ ہی مخالف سیاسی جماعتوں کی خامیاں گنوائیے، بلکہ اپنے اندر کی خامیاں دور کرکے ایک مثال قائم کیجئے کہ دیکھو یہ ہے نیا پاکستان۔ اور یہ ہے وہ مثبت تبدیلی جس کے لیے پی ٹی آئی اقتدار میں آئی تھی۔

لیکن آپ نے کیا کیا؟ آپ اپنے ساڑھے تین سالہ اقتدار میں صرف ماضی کی سیاسی جماعتوں کی غلطیاں گنواتے رہے، انھیں پکڑنے کے دعوے کرتے رہے اور ان ہی کرپٹ لوگوں کو اپنے ساتھ شامل کرتے رہے۔ اقتدار سے ہٹنے کے بعد آپ نے بھی وہی روایتی سیاست شروع کردی۔ جذباتی نعروں اور عوام کی نفسیات سے کھیلنا شروع کردیا۔

ابھی دو دن پہلے ہی تو آپ کی ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں قاسم سوری آپ کو ’’اسلامی ٹچ‘‘ کا مشورہ دے رہے تھے، اور آپ نے فوراً اس مشورے پر عمل بھی کر ڈالا۔ اور اس دل نشین انداز میں پیرایہ کھینچا کہ لوگ واہ واہ کرنے لگے۔ آپ اب تک یہی تو کرتے آرہے ہیں، مذہب اسلام اور حب الوطنی کے نام پر قوم کے جذبات سے کھیل رہے ہیں۔ پھر آپ میں اور دوسرے سیاستدانوں میں فرق ہی کیا رہ گیا؟ کیا ہی بہتر نہ ہوتا کہ آپ خود کو ایک قابل تقلید مثال بنا کر پیش کرتے اور اپنے ورکرز کی ایسی اخلاقی اور سیاسی تربیت کرتے کہ صرف پاکستان میں ہی نہیں بلکہ دیگر ممالک کے لوگ بھی مان جاتے کہ عمران خان نے جس تبدیلی کے دعوے کیے تھے وہ اس میں کامیاب رہے۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

نورجہاں شیخ

نورجہاں شیخ

بلاگر کئی سال سے اپنے شہر کوٹ غلام محمد میں تعلیمی، سماجی اور فلاحی کاموں میں فعال ہیں۔ آج کل سیو ہیومین سوشل ویلفیئر آرگنائزیشن کی میرپورخاص میں ڈویژنل انچارج کی ذمے داریاں بھی نباہ رہی ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔