عمران خان کا لانگ مارچ روکے جانے کے خلاف سپریم کورٹ جانے کا اعلان

ویب ڈیسک  ہفتہ 28 مئ 2022
(فوٹو : فائل)

(فوٹو : فائل)

 پشاور: تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے لانگ مارچ روکے جانے پر حکومت کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا اعلان کردیا۔

اس بات کا اعلان انہوں نے پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ ان کے ساتھ شاہ محمود قریشی، یاسمین راشد، حماد اظہر اور دیگر رہنما بھی موجود تھے۔

عمران خان نے کہا کہ ہمیں سپریم کورٹ نے لانگ مارچ کی اجازت دی اس کے باوجود حکومت نے ہمارے لانگ مارچ کو روکا اور توہین عدالت کی جس کے خلاف میں پیر کو سپریم کورٹ میں پٹیشن دائر کروں گا۔

انہوں نے کہا کہ جو کچھ لانگ مارچ میں ہمارے ساتھ ہوا ہم اس کےلیے تیار نہیں تھے، حکومت نے ہمارے پُرامن احتجاج پر تشدد کیا، ڈنڈے برسائے، شیلنگ کی، گھروں پر چھاپے مارے، حکومت نے جیسے حربے آزمائے ان کے خلاف ہر فورم پر آواز بلند کریں گے، پیر کو ہم سپریم کورٹ سے پوچھیں گے کہ لانگ مارچ میں دوبارہ پکڑ دھکڑ ہوگی؟ سپریم کورٹ بتادے یہ دوبارہ ملک بند کردیں گے؟ ادب سے کہنا چاہتا ہوں کہ یہ امتحان عدلیہ کا بھی ہے۔

عمران خان نے کہا کہ ہماری جماعت میں کوئی شدت پسند ونگ نہیں یہ لوگ اب ہمارے اوپر کیسز بنائیں گے، ہمیں اندازہ نہیں تھا کہ یہ لوگ لانگ مارچ کے خلاف ظلم کرنے پر اتر آئیں گے، میں اب کی بار پوری تیاری کے ساتھ آؤں گا، چھ دن کے بعد اعلان کروں گا کہ اسلام آباد مارچ کے لیے کب روانہ ہوں گے۔

ملک تباہ ہورہا ہے اور ادارے تماشا دیکھ رہے ہیں

سابق وزیراعظم نے کہا کہ ایک پاکستانی ہونے کے ناطے کہنا چاہتا ہوں کہ ملک تباہی کی جانب گامزن ہے اور ادارے چپ کرکے تماشا دیکھ رہے ہیں، ملک بچانا صرف ہماری ذمہ داری نہیں ہے، اداروں کی ذمہ داری ہے کہ ملک بچائیں۔

نیب اور انتخابات ترمیمی بلز چیلنج کرنے کا اعلان

انہوں نے نیب ترمیمی بل اور الیکشن ایکٹ ترمیمی بل کو بھی عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا اور کہا ہے کہ اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ جیسے بنیادی حق سے محروم کرنا ناانصافی ہے، فیصلے کے خلاف عدالت سے رجوع کریں گے جب کہ اپنی کرپشن چھپانے کے لیے انہوں نے نیب کے قوانین میں ترمیم کی۔

انہوں نے کہا کہ ہم اپنے پرامن لانگ مارچ پر تشدد ہونے پر آئی جی اسلام آباد، سی سی پی او، ڈی آئی جی کے خلاف ایف آئی آرز درج کرائیں گے، تشدد کرنے والے پولیس والوں کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کریں گے تاکہ عوام کو پتا چلے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔