ڈبویا مجھ کو ہونے نے

سعد اللہ جان برق  اتوار 29 مئ 2022
barq@email.com

[email protected]

کیا کمال کی سچائی بیان کی ہے مرشد نے کہ دنیا کی ساری مصیبتوں کی جڑ یہی’’ہونا‘‘ہے، اگر دنیا میں ’’ہونا‘‘نہ ہوتا تو کچھ بھی نہ ہوتا بلکہ اگر یہ مصیبتوں کی پٹاری بھی نہ ہوتی تو اور بھی اچھا ہوتا۔ بلکہ ایک پنجابی مٹیار کی طرح۔نہ کدیہ جواں ہوندی نکی جئی رہندی میں۔

بشیر بدر نے تو کاغذ کی کشتی اور بارش کا پانی مانگا لیکن ہمارے خیال میں وہ کاغذ کی کشتی بارش کا پانی تو ایک طرف اگر بارش بلکہ بادل بلکہ بھاپ اور سمندر بھی نہ ہوتے اور بھی اچھا ہوتا وہی مگس کو باغ میں جانے نہ دینا والی بات ہے کہ ’’ہونے‘‘سے پھر ہونے کا ایک پورا سلسلہ چل پڑتا ہے۔مثلًا میانوالی یا لاہور میں اگر ایکبچہ پیدا نہ ہوتا، پھر وہ کرکٹ نہ کھیلتا تو دنیا کتنی ہونیوں اور انہونیوں سے بچ جاتی۔

اگر میاں نوازشریف نہ ہوتا، پھر سیاست میں نہ آتا اور ضیاء الحق کی نظرکرم نہ ہوتی تو آج عدم اعتماد اور نہ جانے کیا کیا بھی نہ ہوتا۔اس لیے’’ڈبویا مجھ کو ہونے نے‘‘اگر دنیا میں یہ کم بخت روپیہ نہ ہوتا۔تو انسان کتنی ہونہوں ان ہونیوں سے حفظ وامان میں ہوتا ۔اگر باباجی ڈیموں والی سرکار نہ ہوتے،کینیڈا اور برطانیہ میں یوں یوں نہ ہوتا، ماڈل ٹاون نہ ہوتا، کنٹینر نہ ہوتے، دھرنے نہ ہوتے۔

مطلب یہ کہ  سارے’’گل‘‘اسی ایک ہونے نے کھلائے ہوئے ہیں۔اگر قائداعظم بیمار نہ ہوتے،اگر خواجہ ناظم  گورنر نہ بنتا۔پھر اگر ایک گونگا بہرا مفلوج گورنر جنرل نہ ہوتا، انگریزوں کا ایک لاڈلہ بظاہر بنگالی  بیوروکریٹ سکندر مرزا گورنر جنرل پھر صدر اور پھر کچھ بھی نہ ہوتا، تو آج ٹماٹر دوسو روپے کلو نہ ہوتے۔

اگر ایوب خان جنرل نہ بنتا تو صدر بھی نہ ہوتا اور بنیادی جمہوریت نہ ہوتی تو آج عمران خان خود کو امریکا کے ہاتھوں شہید نہ کراتا نہ محمود خان ہوتا اور نہ اس کے معاون برائے۔۔۔۔ محمدعلی سیف ہوتا۔اگر ریڈکلف ایوارڈ نہ ہوتا یا اگر ماونٹ بیٹن ایک لکیر ڈال کر گورداس پور کو ادھر نہ کرتا تو نہ کشمیر میں اتنا خون بہتا نہ چندے کا دھندہ ہوتا اور نہ ہی روپیہ پائی سے بھی کم ہوتا۔

نہ تھا کچھ تو خدا تھا ،کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا
ڈبویا مجھ کو ’’ ہونے‘‘ نے نہ ہوتا میں تو کیا ہوتا

ایک شوہرنامدار کی چپل مار بیوی نے ایک دن شوہر سے کہا کہ تم کسی کام کے نہیں۔اس پر شوہر نے کہا، میں نہ ہوتا تو تم آج اموشنل اتیاچار کس پر کرتی، گدھے کی سواری کس پر کرتی۔ذرا سوچیے اگر مقتول نہ ہوتے تو قاتل کہاں سے آتے۔خود کو قتل کرتے۔ہم کو دعائیں دو ہمیں  قاتل بنادیا۔اگر ووٹ نہ ہوتا تو اربوں کروڑوں کے نوٹ کہاں سے آتے۔

ایک روز ہم ایک بیل گاڑی میں بازار سے آرہے تھے، اس زمانے میںاکثر لوگ قریبی بازار سودا سلف کے لیے جاتے تو کچھ لوگ بیل گاڑی بھی لے کر آجاتے اور پھر اس پر گوناگوں کا ایک جمگھٹا سوار ہوکر واپس آتا،طرح طرح کی باتیں ہوتیں، ایک بزرگ نے اپنے بیٹے کا رونا روتے ہوئے کہا، میں تواس سے تنگ آگیا،کبھی ہاتھ پیر تڑوا کر آتا ہے ،کبھی کسی کے ساتھ جھگڑا کر کے شکایت لاتا ہے، کبھی گھر میں کوئی چیز توڑ کر نقصان کرتا ہے۔ابھی اس نے اپنی ٹانگ تڑوائی ہے، چار سو روپے خرچ کروا ڈالے ہیں۔

حیران ہوں میں اس کم بخت کا کروں کیا۔ اس کے سامنے بیٹھے ہوئے دوسرے بزرگ نے کہا،میں بتاؤں کہ اس کا کیا کرنا ہے، سارے غم سارے مسئلے سارے دکھ دور ہوجائیں گے۔اس بزرگ نے کہا، ہاں بتاؤ۔دوسرے بزرگ نے کہا، اسے مارڈالو، نہ رہے بانس نہ بجے بانسری۔بیٹے والے نے غصے میںکہا، یہ کیا مشورہ ہے؟ مشورے والے نے کہا، سب سے بہتر مشورہ یہی ہے ورنہ کل یہ چوری کرے گا ، ڈاکے ڈالے گا، ہوسکتا ہے کسی کو قتل کرے اور پھر لوگ بدلہ لیتے ہوئے اسے یا تمہیں مار ڈالیں، اس لیے بہتر یہی ہے کہ اسی سے چھٹکارا پالو۔

زمانے بھر کے غم اور ایک یہ ’’غم‘‘
یہ غم ہوگا تو کتنے غم نہ ہوں گے

بلکہ یہ غم نہ ہوگا تو سوچو کتنے غم نہ ہوں گے اور یہ سب’’ہونے‘‘کا شاخسانہ ہے۔سوچیے اگر ایک عمران نہ ہوتا یا باباجی ڈیموں والی سرکار نہ ہوتا، ایوب خان نہ ہوتا، بھٹو نہ ہوتا ضیاء الحق نہ ہوتا نواز شریف نہ ہوتا بلکہ یہ سبزقدم مسلم لیگ ہی نہ ہوتی تو یہ باقی کی کونپلیں بھی اس سے نہ پھوٹتیں۔

فراغت کس قدر رہتی مجھے تشویش مرہم سے
بہم گر صلح کرتے یارہ ہائے دل نمک دان پر

بلکہ اگر دل والا ہی نہ ہوتا تو کیا اچھا ہوتا۔ آپ پاکستان کی تاریخ پر نظر ڈالیں، ساری بلائیں ’’ہونے‘‘سے پیدا ہوتی رہی ہیں، کوئی ایک چھوٹی سی مثال دے دیجیے جب نہ ہونے سے کوئی مصیبت آئی ہو۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔