بائیو انرجی: توانائی کا بہتر متبادل ذریعہ

حافظ احمد الرحمٰن  ہفتہ 11 جون 2022
بائیو انرجی پاکستان کی بجلی کی ضروریات کو پورا کرسکتی ہے۔ (فوٹو: فائل)

بائیو انرجی پاکستان کی بجلی کی ضروریات کو پورا کرسکتی ہے۔ (فوٹو: فائل)

فضلے سے توانائی پیدا کرنے سے نہ صرف زیادہ سے زیادہ فضلہ کو زمین میں ٹھکانے لگانے (جو کہ ماحولیا تی آلودگی کا باعث بنتا ہے) سے بچا جاسکتا ہے بلکہ اسے توانائی کے متبادل ذریعے کے طور پر بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ پاکستان میں اس ذریعے کو استعمال کرکے بجلی بنانے کے بہت مواقع ہیں۔ اس طر ح سے پید ہونے والی انرجی کو بائیو انرجی (بائیوماس سے پیدا شدہ توانائی) کہا جاتا ہے، جو کہ قابل تجدید توانائی فراہم کرنے کا ایک اہم وسیلہ ہے۔ فوسل فیول کی نسبت بائیو انرجی سے بجلی پیدا کرنا ماحولیاتی لحاظ سے بہتر متبادل ہے۔

بائیو انرجی پیدا کرنے کا ایک ذریعہ شوگر ملوں میں استعمال ہونے والے گنے کا فضلہ ہے۔ پاکستانی شوگر ملیں پہلے ہی اس طریقے سے بجلی بنارہی ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس طرح سے پیدا ہونے والی بجلی میں اضافہ کیا جائے۔ بائیو انرجی پاکستان کی بجلی کی ضروریات کو پورا کرسکتی ہے اور موجودہ شارٹ فال کو کم کرسکتی ہے۔

لیکن اس سلسلے میں کچھ مسائل ہیں جن کا سدباب کرنا ضروری ہے۔ شوگر ملیں اپنے مالی وسائل سے تو بجلی پیدا کررہی ہیں لیکن اگر بات کی جائے بینکوں سے قرض لے کر ایسے منصوبے لگانے کی تو اس سلسلے میں بہتری کی گنجائش ہے۔ بینکوں سے شوگر ملوں کو قرض کی فراہمی بہتر بنائی جاسکتی ہے تاکہ چھوٹے اور درمیانے درجے کی شوگر ملوں کو بھی اس طریقے سے بجلی پیدا کرنے کی ترغیب دی جاسکے۔

چند مسائل جو چھوٹے کارخانوں کے ان منصوبوں کےلیے فنانسنگ مشکل بنا دیتے ہیں، درج ذیل ہیں۔

1۔ کیونکہ فوسل فیول کے مقابلے میں بائیوانرجی کے منصوبوں کی قیمت ڈیڑھ گنا زیادہ ہے، چھوٹے کارخانوں کےلیے اس طرح کے منصونے کی اپنے وسائل سے فنانسنگ مشکل ہے۔

2۔ چھوٹے کارخانوں کےلیے بینکوں کی قرضوں کی شرائط پورا کرنا آسان نہیں۔

3۔ ان پراجیکٹس میں بینک کی سرمایہ کاری کا رسک زیادہ ہوتا ہے فوسل فیول کے منصوبوں کے مقابلے میں۔ بینکوں میں اس طرح کے منصوبوں کے تجزیہ اور فیزیبلیٹی پرکھنے کی مہارت کی بھی کمی ہے۔

چھوٹے کارخانہ داروں کو قرضہ جات کی فراہمی میں سہولت پیدا کرنے کےلیے حکومت مندرجہ ذیل اقدامات اٹھا سکتی ہے۔

1۔ قابل تجدید توانائی سے متعلق بینکوں میں شعور میں اضافہ۔ بائیو انرجی اور دوسرے قابل تجدید توانائی کے منصوبوں کی افادیت، ان کے ماحولیاتی، سماجی اور معاشی فوائد کی اہمیت اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔ اسٹیٹ بینک کی گرین بینکنگ گائیڈلائن کی بینکوں میں ترویج، بینکوں کے شعور کو بڑھانے اور قابل تجویز توانائی کے منصوبوں میں ان کو سرمایہ کاری کی طرف راغب کرسکتی ہیں۔

2۔ چھوٹے کارخانوں کےلیے خصوصی قرضوں کی اسکیم جاری کی جاسکتی ہے، جیسا کہ گارنٹی اسکیم، جو ان کارخانوں کی قرضہ جات تک رسائی بڑھا سکتی ہے۔

3۔ بینکوں کی تکنیکی استعداد کو بڑھانے کےلیے، جو ان منصوبوں کی پرکھ کےلیے ضروری ہے، تربیتی ورکشاپس اور اقدامات کے ذریعے مزید بڑھایا جاسکتا ہے۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

 

حافظ احمد الرحمٰن

حافظ احمد الرحمٰن

بلاگر ایک جرمن ماحولیاتی ادارے سے منسلک ہیں اور پائیدار ترقی کے مختلف منصوبوں میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔