عام پاکستانی کیا ٹیکس نہیں دیتا؟

سید عاصم محمود  پير 13 جون 2022
وطن عزیز میں حکمران طبقے کی تخلیق کردہ غلط تاثر کا حقائق کی روشنی میں تحقیقی جائزہ۔ فوٹو: فائل

وطن عزیز میں حکمران طبقے کی تخلیق کردہ غلط تاثر کا حقائق کی روشنی میں تحقیقی جائزہ۔ فوٹو: فائل

پٹرول، بجلی اور گیس کی قیمتوں میںحالیہ بڑا اضافہ ہوا تو بہت سے لوگ یہ کہتے سنے گئے کہ مہنگائی سے حکمران طبقے کو کوئی فرق نہیں پڑتا، اسے تو ہمارے پیسوں سے خریدا گیا ایندھن مفت ہی ملے گا۔کیا یہ دعوی درست ہے؟

دوسری جانب پچھلے چند عشروں سے حکمران طبقے نے یہ بیانیہ متعارف کرا رکھا ہے کہ پاکستانی عوام ٹیکس نہیں دیتے۔کیا یہ بات بھی درست ہے؟حقائق دیکھے جائیں تو احساس ہوتا ہے کہ حکمران طبقے کا دعوی غلط ہے۔سچ یہ ہے کہ عام پاکستانی کھانا کھاتے، کپڑے پہنتے،سفر کرتے اور دن بھر سبھی معمول کی سرگرمیاں انجام دیتے ہوئے کوئی نہ کوئی ٹیکس حکومت کو ادا کرتا ہے۔

حقیقتاً پاکستانی عوام کے ٹیکس دینے کا ہی نتیجہ ہے کہ حکومت اپنے کام کر پاتی ہے۔اگر عام پاکستانی ٹیکس چور ہوتا تو حکومت کے لیے چلنا مشکل ہو جاتا۔گویا پاکستانی عوام کی وجہ ہی سے پاکستان قائم ودائم ہے۔گو قوم کو مہنگائی کا بوجھ برداشت کر کے اپنی قربانیوں کی بھاری قیمت چکانا پڑتی ہے۔

ٹیکسوں کی اقسام

دنیا بھر کی حکومتیں اشیا کی خریدوفروخت اور خدمات (سروسیسز)پر ٹیکس لگاتی ہیں۔مقصد یہ ہے کہ حکومت چلانے کے لیے رقم مل سکے۔ٹیکسوں کی دو بنیادی اقسام ہیں: ڈائرکٹ (Direct) اور ان ڈائرکٹ (Indirect)۔ انکم ٹیکس ، کارپوریٹ ٹیکس اور پراپرٹی ٹیکس ڈائرکٹ ٹیکسوں کی نمایاں مثالیں ہیں۔کسٹمز ڈیوٹیاں، سنٹرل ایکسائز ڈیوٹیاں اور سیلز ٹیکس ان ڈائرکٹ ٹیکس ہیں۔ کسٹمز ڈیوٹیاں درآمدی سامان پہ لگتی ہیں۔سنٹرل ایکسائز ڈیوٹیاں برآمدی مال پہ لگتی ہیں۔سیلز ٹیکس اندرون ملک اشیاکی خریدوفرخت پہ لگایا جاتا ہے۔

انسان دوست ٹیکس نظام

ترقی یافتہ اور ٖفلاحی ممالک میں حکومتیں ڈائرکٹ ٹیکسوں سے زیادہ رقم حاصل کرتی ہیں۔بلکہ ان کی 75 فیصد آمدن ڈائرکٹ ٹیکسوں پہ مشتمل ہے۔یہ منصفانہ اور انسان دوست ٹیکس نظام ہے۔وجہ یہ کہ ان ملکوں میں جس شہری کی آمدن جتنی زیادہ ہو، وہ اتنا ہی زیادہ انکم ٹیکس یا کارپوریٹ ٹیکس دیتا ہے۔یوں حکومت امرا سے بیشتر رقم اکھٹی کرتی ہے اور کم آمدن والے شہریوں پر مالی بوجھ نہیں پڑتا۔ان ڈائرکٹ ٹیکس مگر امیر اور غریب کے مابین تمیز نہیں کرتے۔ایک ارب پتی بھی اتنے ہی ڈائرکٹ ٹیکس دے گا جتنے چند ہزار ڈالر ماہانہ کمانے والا غریب(مغربی معیار زندگی کے لحاظ سے)ادا کرتا ہے۔گویا ان ڈائرکٹ ٹیکس غیر منصفانہ ہیں مگر انھیں لگائے بغیر چارہ بھی نہیں۔تاہم فلاحی ممالک کی حکومتیں انھیں کم سے کم رکھنے کے جتن کرتی ہیں۔

الٹی گنگا بہہ رہی ہے

پاکستان میں الٹا حساب ہے…یہاں حکومت اپنی 75 فیصد آمدن شہریوں پہ ان ڈائرکٹ ٹیکسوں لگا کرحاصل کرتی ہے۔گویا ہمارا ٹیکس نظام غریب دشمن بلکہ خط ِغربت سے نیچے زندگی گذارتے ہم وطنوں کے لیے ظالمانہ ہے۔ایسے نظام نے اس لیے جنم لیا کہ حکمران طبقہ اور ٹیکس دینے والے امرا( تاجر، کاروباری،صنعت کار وغیرہ)ایک دوسرے پہ اعتماد نہیں کرتے۔حکمران طبقہ سمجھتا ہے کہ امرا ٹیکس چوری کرتے ہیں۔اور امرا کا کہنا ہے کہ ٹیکسوں کی ادا کردہ رقم کا بیشتر حصہ حکمران طبقہ(خصوصاً سیاست دان اور بیوروکریسی)کھا جاتا ہے۔اس ٹسل کا نتیجہ یہ نکلا کہ حکمران طبقے نے بتدریج ان ڈائرکٹ ٹیکس متعارف کرا دئیے تاکہ اپنی آمدن بڑھا سکے۔

بوجھ عوام الناس پہ

قبل ازیں بتایا گیا کہ ان ڈائرکٹ ٹیکس امیر اور غریب میں فرق نہیں کرتے…اس باعث پاکستان میں زیادہ ٹیکس ادا کرنے کا بوجھ امرا کے بجائے عوام الناس پہ پڑ گیا۔رفتہ رفتہ حکمران طبقہ نوع بہ نوع ان ڈائرکٹ ٹیکس لاگو کرنے لگا مثلاً ودہولڈنگ ٹیکس،ایڈوانسڈ انکم ٹیکس، ایف سی سرچارج، نیلم جہلم سرچارج وغیرہ تاکہ اس کی آمدن بڑھ جائے۔وفاقی سطح کے علاوہ صوبائی سطح پر بھی ان ڈائرکٹ ٹیکس متعارف کرائے گئے۔یوں پاکستان میں عوام مخالف ٹیکس نظام وجود میں آ گیا۔معنی یہ کہ ایک کلو سبزی یا دال خریدنے پہ بیس پچیس ہزار روپے کمانے والا پاکستانی اتنے ہی ٹیکس ادا کر رہا ہے جتنے ایک ارب پتی شہری ادا کرتا ہے۔ذرا سوچیے، اپنے مفادات پورے کرنے کی خاطر ہمارے حکمران طبقے نے عوام پہ کس قسم کا ظالمانہ ٹیکس نظام تھوپ ڈالا۔

مہنگائی بڑھانے کا اہم محرک

یہ غیر انسانی ٹیکس نظام پاکستان میں مہنگائی بڑھانے کا ایک اہم محرک بھی ہے۔اس امر کو ایک مثال سے سمجھیے۔فرض کیجیے کہ ایک پاکستانی کمپنی نے بیرون ملک سے دس من دال درآمد کی۔سب سے پہلے ٹرانسپورٹ کا خرچ بل میںلگا۔دال پھر پاکستان داخل ہوئی تو اس پہ کسٹمز ڈیوٹیاں لگ گئیں۔پھر متعلقہ اہل کاروں نے اگر رشوت لی تو وہ بھی دال کی قیمت میں شامل ہو گئی۔پھر ٹرانسپورٹ اور ذخیرہ کرنے کے اخراجات شامل ہوئے۔پھراپنے انکم ٹیکس اور کارپوریٹ ٹیکس کا بیشتر حصّہ بھی کمپنی مالک نے دال کی قیمت میں شامل کیا۔دیگر وفاقی اور صوبائی ٹیکس بھی بل کا حصہ بنے۔ان تمام اخراجات کی وجہ سے ایک سو روپے کلو دال کی قیمت دو سو روپے جا پہنچتی ہے۔اس کے بعد ہول سیلر اور دکان دار بھی اپنا منافع ڈالتے ہیں۔یوں خدا خدا کر کے دال عام آدمی تک پہنچے تو وہ اُسے سوا تاڈھائی سو روپے فی کلو ملتی ہے۔یہ ہے ان ڈائرکٹ ٹیکس نظام اختیار کرنے کا عوام دشمن نتیجہ!

یہ صرف ایک مثال ہے ورنہ پاکستان درآمد کی گئی ہر شے ٹیکسوں کے جابرانہ نظام سے گذر کر پاکستانی عوام تک پہنچے تو کئی گنا مہنگی ہو جاتی ہے۔ہر قسم کی مقامی اشیا بھی ٹیکسوں کے کٹر نظام سے گذرنے کے باعث مہنگی ہوتی ہیں۔اکثر ذخیرہ اندوز اس چکر کو مذید گھمبیر بنا ڈالتے ہیں۔وہ ایک شے کا ذخیرہ کر مارکیٹ میں اس کی مقدار کم کر دیتے ہیں۔مقصد یہ کہ وہ زیادہ مہنگی فروخت ہو سکے اور کثیر منافع ان کے حصے میں آئے۔غرض پاکستانی حکمران طبقے کا وضع کردہ ٹیکس نظام وطن عزیز میں مہنگائی بڑھانے کا اہم مجرم ہے۔ہمارے ہاں مہنگائی تین وجوہ کی بنا پہ بڑھتی ہے: اول بہت زیادہ ٹیکس لگنا، دوم بجلی،گیس، پٹرول وڈیزل کی قیمت میں اضافہ اور سوم روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر بڑھ جانا۔

سارا تام جھام عوام کے دم سے

سچ یہ ہے کہ ایک عام شہری روٹی کھاتے، کپڑا خریدتے، موبائل پہ کال کرتے، بس یا موٹر سائیکل پر سفر کرتے ،پانی پیتے حتی کہ دوران نیند بھی (پنکھے کی ہوا لیتے)ٹیکس ادا کرتا ہے۔عام آدمی جو بھی خدمات یا شے حاصل کرے، وہ اسے ٹیکس دے کر ہی ملتی ہے۔پھر ہمارے حکمران کس منہ سے دعوی کرتے ہیں کہ پاکستانی قوم ٹیکس نہیں دیتی ؟جناب والا، حکمران طبقے کو جو مراعات و سہولیات میّسر ہیں اور وہ جس قسم کی پُرآسائش زندگی گذار رہا ہے…یہ سارا تام جھام عوام کے دئیے گئے ٹیکسوں کی رقم ہی سے ممکن ہوتا ہے۔وہ کیسے؟اس کی داستان درج ذیل ہے۔

ہوا یہ کہ جب حکمران طبقے کو ٹیکسوں سے مطلوبہ رقم نہ ملی تو وہ مقامی و عالمی مالیاتی اداروں سے قرض لینے لگاتاکہ حکومتی اخراجات پورے ہو سکیں۔اس نے امیر ممالک خصوصاً امریکا، برطانیہ، کینیڈا، فرانس وغیرہ سے امداد بھی لی۔یہ امداد یہ کہہ کر لی گئی کہ عوام کی فلاح وبہبود کے منصوبوں پہ خرچ ہو گی۔شروع میں قرضوں اور امداد کی رقم سے عوام دوست منصوبے بنے بھی مگر رفتہ رفتہ اس ’’اوپر کی آمدن‘‘ سے حکمران طبقہ پھلنے پھولنے لگا۔اس نے خود کو مراعات یافتہ بنا لیا اور اپنے آپ کو ان گنت سہولیات دے ڈالیں۔

بتدریج حکمران طبقے نے اپنا معیار زندگی بلند رکھنے کی خاطر قرضوں اور امداد کی رقم کو استعمال کرنا اپنا وتیرہ بنا لیا۔عوام کے منصوبے گئے بھاڑ میں!

 سراسر بے انصافی

آج یہ عالم ہے کہ سرکاری خزانے سے لاکھوں روپے ماہانہ لینے والے ارکان اسمبلی، وزیر مشیر، سرکاری افسر، ججوں وغیرہ کو مفت پٹرول، بجلی، گیس، رہائش، سیکورٹی، فضائی ٹکٹ وغیرہ ملتا ہے۔وہ مختلف اقسام کی مراعات وسہولیات سے مستفید ہوتے ہیں۔جبکہ پچیس ہزار روپے کمانے والا ایک عام پاکستانی ہر قسم کا ٹیکس ادا کرتا ہے۔یہ سراسر بے انصافی ہے۔اس نے غیرمنصفانہ ٹیکس نظام کی بدولت ہی جنم لیا۔(شہباز شریف حکومت نے سرکاری پٹرول کے استعمال پر کٹوتی کی ہے مگر یہ اقدام ناکافی ہے۔)بیرون ممالک بھی اعلی عہدوں پہ فائز شخصیات کو بعض مراعات ملتی ہیں مگر وہاں کم آمدنی والے طبقے کو زیادہ حکومتی امداد دی جاتی ہے۔

پاکستانی حکمران طبقہ بھی عوام کو مختلف اقسام کی مدد المعروف بہ سبسڈی دیتا ہے مگر صرف اس لیے کہ اپنی کرسی بچا سکے۔عوام اس کے خلاف احتجاج نہ کریں ۔مثلاً پی ٹی آئی حکومت پونے چار سال تک ٹیکسوں کی شرح میں اضافہ کرتی رہی، نئے ٹیکس لگائے، ایندھن کی قیمت بڑھاتی رہی اور سبسڈیاں کم کر دیں۔اس چلن نے مہنگائی بڑھا دی اور معاشرتی ڈھانچے کو نقصان پہنچایا۔ مگر جب دیکھا کہ کرسی خطرے میں ہے تو پٹرول سستا کر دیا ، گو حکومت پھر بھی نہ بچ سکی۔

قرض کی پیتے تھے مے!

سب سے بڑی خرابی یہ ہو چکی کہ اب ہمارے حکمران طبقے کے اللّے تللّے اور فضول خرچیاں قرضوں کی رقم سے پوری ہو رہی ہیں۔پچھلے چالیس سال کے دوران کھربوں روپے ایسے منصوبوں پہ ضائع کر دئیے گئے جو عوام کے کام نہ آئے۔نتیجہ یہ نکلا کہ آج سٹیٹ بینک پاکستان کی رو سے پاک وطن 52 ہزار ارب روپے کا مقروض ہے۔اس بھاری قرض کی وجہ سے ہر پاکستانی بچہ پیدا ہوتے ہی ڈھائی لاکھ روپے کا مقروض ہو جاتا ہے۔یہ بھاری قرضہ کس نے اتارنا ہے؟حکمران طبقے نے کہ جس نے اپنی کوتاہیوں اور فضول خرچیوں سے یہ قرض ملک وقوم پہ چڑھایا یا عوام نے جس کا اس جرم وگناہ میں کوئی کردار نہیں؟

دن دیہاڑے ڈاکا

صورت حال سے واضح ہے کہ ہمارا حکمران طبقہ بدستور مراعات وسہولیات سے مستفید ہونے میں مصروف ہے۔عوام کے لیے منصوبے بن رہے ہیں تو اپنے مفادات کی تکمیل بھی جاری ہے۔مگر حسب معمول سارے اخراجات اٹھانے اور قرض وسود دینے کا بوجھ عام پاکستانی پہ ڈال دیا جاتا ہے۔اخباری خبریں ہیں کہ بجٹ 2022-23ء میں عوام پہ بارہ سو ارب روپے کے نئے ٹیکس لگ سکتے ہیں تاکہ بجٹ خسارہ پورا ہو سکے۔یہ تو وہی بات ہے کہ کسی گاؤں میں ڈاکو حملہ آور ہوئے، وہاں لوٹ مار کی، پھر دعوت ِشیراز اڑائی، موج میلہ کیا اور اس ساری غنڈہ گردی کا خرچ گاؤں کے بیچارے غریب باسیوں کو برداشت کرنا پڑا۔

پاکستان کے حکمران طبقے کی بے حسی و سنگ دلی ملاحظہ فرمائیے کہ جب بھی حکومتی آمدن بڑھانے کا فیصلہ ہو تو وہ خود کو حاصل مراعات وسہولیات کم نہیں کرتا ،اسے جو ’’مفتے‘‘حاصل ہیں، ختم نہیں ہوتے بلکہ ٹیکسوں کی شرح بڑھا یا نئے ٹیکس لگا کر آمدن بڑھانے کا سارا بوجھ عوام پہ ڈال دیتا ہے جو پہلے ہی مہنگائی کے ہاتھوں ادھ موئے ہوتے ہیں۔یہ سراسر زیادتی ہے۔

 قرض کی دلدل میں

قارئین کو یاد ہو گا کہ اگست 2018 ء میں پی ٹی آئی حکومت آئی تو چند ہفتوں میں ملک میں مہنگائی کی لہر نے جنم لیا۔کھانے پینے کی چیزیں ہوں یا عام استعمال کی اشیا، ہر شے مہنگی ہو گئی۔بنیادی وجہ یہ کہ حکومت نے ٹیکسوں کی شرح بڑھا دی اور نئے ٹیکس بھی لگائے۔پی ٹی آئی رہنماؤں کا دعوی ہے کہ ایسا اس لیے کیا گیا تاکہ حکومتی آمدن بڑھا کر قرضے اتارے جا سکیں اور غریبوں کے لیے منصوبے بنیں۔حکومت نے غریبوں کی فلاح کے منصوبے ضرور بنائے مگر وہ قرضے نہ اتار سکی،الٹا ملک وقوم پہ مذید بیس ہزار ارب روپے کے قرضے چڑھا دئیے۔پاکستان کی تاریخ میں کسی حکومت نے اتنے زیادہ قرضے نہیں لیے تھے حالانکہ ٹیکسوں سے حاصل شدہ آمدن بھی بڑھ گئی۔گویا پی ٹی آئی نے ریاست کو قرض کی دلدل میں مذید دھنسا دیا۔

شیطانی چکر

قرضوں کا بوجھ بھی مہنگائی پیدا کر پاکستانی قوم کوحواس باختہ کر رہا ہے۔قرضے وسود ادا کرنے کی خاطر حکومت ٹیکس شرح بڑھاتی اور نئے لگاتی ہے اور یوں مہنگائی میں اضافہ ہوتا ہے۔گویا ایک ایسا شیطانی چکر چل پڑا ہے جس سے نکلنے کا راستہ دکھائی نہیں دیتا۔یہ چکر صرف اسی وقت ختم ہو سکتا ہے جب حکمران طبقہ اپنی مراعات وسہولیات کا خاتمہ کرے، جیب کے مطابق خرچ کرے اور امیر پاکستانی طبقہ اپنے حصے کے ٹیکس ایمان داری سے ادا کرنے لگے اور حکمران طبقہ بھی اسے دیانت داری سے استعمال کرے۔

قرض لینے کی تاریخ

سٹیٹ بینک کی رپورٹوں کے مطابق 1971ء میں پاکستان پہ چڑھا کل (پبلک یا نیشنل)قرضہ صرف ’’پچاس ارب دس کروڑ روپے‘‘ تھا۔یہ جان کر بہت حیرت ہوتی ہے کیونکہ محض پچاس برس میں وہ آسمان پہ جا پہنچا ہے۔اس میں غیرملکی قرضہ 30 ارب 30 کروڑ اور ملکی قرضہ 17 ارب 80 کروڑ روپے تھا۔جب ذوالفقار علی بھٹو حکومت کا 1977ء میں خاتمہ ہوا تو کل قرضہ چھیاسی ارب تیس کروڑ تک پہنچ گیا۔

1988ء میں ضیاالحق حکومت ختم ہوئی تو پاکستان پہ کل 630 ارب روپے قرض چڑھ چکا تھا۔اس میں 331 ارب روپے غیرملکی قرض تھا۔پھر جمہوری حکومتوں کا دور شروع ہوا جو 1999ء تک جاری رہا۔اس دوران ریاست پہ کل قرضہ 1442ارب روپے جا پہنچا۔پھر فوجی وسول حکومت کا مرکب 2008ء تک چلا۔اس کے دور میں کل قرض 6400ارب روپے ہو گیا۔پھر جمہوری دور کا آغاز ہوا۔پی پی پی حکومت 2013 ء میں ختم ہوئی تو اس نے کل قرضہ 15334ارب روپے تک پہنچا دیا۔اکتوبر 2018ء میں ن لیگی حکومت کا خاتمہ ہوا تو کل قرض 29 ہزار ارب ک ہندسہ پار کر چکا تھا۔پی ٹی آئی دور میں یہ عدد 52 ہزار ارب سے پار کر گیا۔

عوامی ترقیاتی منصوبے

سٹیٹ بینک کی سالانہ رپورٹوں کے مطابق 1981-82ء کے مالی سال وفاقی حکومت کا کل خرچ 63 ارب 60 کروڑ روپے رہا۔اس میں سے صرف’’ 3.9 فیصد ‘‘رقم قرضے اتارنے اور سود دینے میں خرچ ہوئی۔جبکہ عوامی ترقیاتی منصوبوں پہ’’ 68.7 ‘‘فیصد رقم خرچ کی گئی۔گویا جنرل ضیا الحق حکومت عوام کی فلاح وبہبود پہ کثیر رقم خرچ کر رہی تھی۔تاہم آنے والے برسوں میں یہ شرح گھٹتی چلی گئی۔آج یہ حال ہے کہ پاکستانی حکومت اپنی آمدن میں سے 40 تا 45فیصد رقم قرضوں اور سود پہ خرچ کر رہی ہے۔

بقیہ ساٹھ تا پچپن فیصد رقم میں سے بڑا حصہ صرف چار شعبوں…دفاع، حکومت چلانے، پنشنوں اور سبسڈیوں پہ لگ جاتا ہے۔چناں چہ عوامی ترقیاتی منصوبوں کے لیے بہ مشکل تین چار فیصد رقم بچتی ہے۔یہی وجہ ہے، پاکستان میں نہ نئے اسپتال بن رہے ہیں اور نہ نئے اسکول۔ صفائی کی حالت خراب ہے اور سڑکوں کی بھی۔ سبسڈیوں سے انھیں لینے والوں کو ضرور فائدہ پہنچتا ہے مگر ان کے نقصان بھی ہیں۔مثلاً لینے والے بیٹھ کر کھانے کے عادی ہو جاتے ہیں اور کام کاج نہیں کرتے۔ نکمے و کام چور ہر کر انھیں مانگنے کی عادت پڑ جاتی ہے۔

عام آدمی ٹیکسوں تلے

اُدھر اشیا کی خرید وفروخت اور سروسسز فراہم کرنے والوں نے اپنا وتیرہ بنا لیا ہے کہ جب حکومت ان پہ لگے ٹیکسوں کی شرح بڑھاتی یا نئے ٹیکس لگاتی ہے تو وہ اپنی مصنوعات اور خدمات کے نرخ بڑھا دیتے ہیں۔یوں ٹیکسوں کی اضافی رقم لامحالہ عوام ہی کو دینا پڑتی ہے۔اس چلن کا نتیجہ ہے کہ امیر تو امیر تر ہو رہے ہیں جبکہ عام آدمی ٹیکسوں کے بوجھ تلے پس چکا۔

ٹیکس کا منصفانہ اسلامی نظام

یہ نہایت ضروری ہے کہ پاکستان کا ٹیکس نظام ڈائرکٹ ٹیکسوں پہ استوار کیا جائے تاکہ منصفانہ ہو سکے۔موجودہ نظام تو عوام دشمن ہے جس نے نہ صرف مہنگائی کے جابر چکر کو جنم دیا بلکہ ملک وقوم پہ بھاری قرضے بھی چڑھا دئیے۔ستم ظریفی کہ پاکستان اسلامی ریاست ہے مگر یہاں کا ٹیکس سسٹم سراسر غیراسلامی ۔اسلامی قوانین کی رو سے ریاست ’’صرف ایک ٹیکس‘‘…زکوۃ عوام پہ لاگو کر سکتی ہے۔اس کو بھی صرف امرا سے لیا جاتا اور جس کی شرح بھی بہت کم ہے یعنی 2.5فیصد۔یہ سال کی کل آمدن پہ لاگو ہوتا ہے۔

جب بعد میں اسلامی حکومت کے اخراجات بڑھ گئے تو فقہا نے فتوی دیاکہ وہ دفاع، عوام کی فلاح بہبود، عوامی ترقیاتی منصوبوں اور قومی معیشت طاقتور بنانے کے لیے نئے ٹیکس لگا سکتی ہے۔چناں چہ حضرت عمر فاروقؓ کے دور میں ’’عشر ‘‘اور ’’خراج‘‘کے نئے ٹیکس متعارف ہوئے۔عشر کی دو اقسام ہیں:زرعی ٹیکس جو بارانی زمین پر 10 فیصد اور غیر بارانی زمین پہ 5 فیصد ہے۔دوسرا ’’کسٹم ڈیوٹی‘‘ جس کی شرح 10 فیصد تھی۔’’خراج‘‘ٹیکس غیر مسلم ماتحت علاقوں سے لیا جاتا۔ ’’جزیہ‘‘ ٹیکس بھی غیرمسلموں پہ لگا جوصرف امرا سے لیا جاتا۔

گویا اسلامی حکومت میں سیلز ٹیکس، ایکسائز ڈیوٹیاں ، ودہولڈنگ ٹیکس حتی کہ انکم ٹیکس کا وجود نہ تھا۔لیکن دور جدید کی اسلامی حکومتوں نے مغربی ممالک کی دیکھا دیکھی اپنے ہاں بھی مختلف ٹیکس عوام پہ ٹھونس دئیے۔ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ زیادہ ٹیکسوں کی وجہ سے ایک ملک کی معیشت ترقی نہیں کر پاتی۔یہی صورت حال ہم پاکستان میں دیکھ رہے ہیں ۔حکمران طبقے نے اسے نہایت غلط قسم کے ٹیکس سسٹم میں جکڑ دیا ہے۔

رقم کا مختلف استعمال

دلچسپ بات یہ کہ سبھی ترقی یافتہ مغربی ممالک خصوصاً اسکینڈے نیوین ملکوں میں بھی ٹیکسوں کی شرح کافی زیادہ ہے۔مگر وہاں ٹیکسوں سے حاصل کردہ رقم کا استعمال پاکستان سے بالکل مختلف ہے۔پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں تو حکومتیں اپنی بقا اور حکمران طبقے کی مراعات وسہولیات بحال رکھنے کے لیے ٹیکس لیتی ہیں۔مغربی ممالک میں ٹیکسوں کی رقم عوام کی فلاح وبہبود کرنے والے منصوبوں پہ لگتی ہے۔کچھ رقم حکومت چلانے پر بھی صرف ہوتی ہے۔یہ ہے پاکستان جیسے ترقی پذیر ملکوں اور ترقی یافتہ ملکوں کے ٹیکس نظام کا بنیادی فرق!

دوسرا بڑا فرق یہی کہ ترقی پذیر ممالک میں سیلز ٹیکس کو چھوڑ کر بقیہ ٹیکس آمدن کے لحاظ سے لگتے ہیں۔مطلب یہ کہ جو شہری جتنا زیادہ کمائے گا ، وہ اتنا ہی زیادہ ٹیکس دے گا۔چناں چہ اس طریقے سے بیشتر رقم امرا سے حاصل کی جاتی ہے اور کم آمدن والوں پہ بار نہیں پڑتا۔حکومتیں پھر اس رقم کے ذریعے عوام کو مفت تعلیم ،مفت علاج اور دیگر سہولتیں فراہم کرتی ہیں۔مثلاً جو بیروزگار ہیں، انھیں ماہانہ گذارا الاؤنس ملتا ہے۔ جس غریب کے پاس گھر نہیں،اسے مفت رہائش دی جاتی ہے۔

شہری ہنسی خوشی ٹیکس دیتے ہیں

غرض ترقی یافتہ ملکوں میں کوئی شہری کسے بھی مسئلے میںگرفتار ہو جائے تو حکومت اس کی بھرپور مدد کرتی ہے، پاکستانی گورنمنٹ کی طرح اسے بے یارومددگار نہیں چھوڑتی۔اسی لیے مغربی ممالک میں شہری ہنسی خوشی زیادہ ٹیکس دیتے ہیں کیونکہ انھیں علم ہے کہ ان کی دی گئی رقم عوام کی فلاح وبہبود پہ خرچ ہو گی۔ایک مغربی ملک، فن لینڈ کے ٹیکس نظام کا جائزہ لیجیے۔فن لینڈ میں جو لوگ سب سے زیادہ کمائی کرتے ہیں، وہ اپنی سالانہ آمدن کا ’’60 فیصد ‘‘حصہ بطور انکم ٹیکس حکومت کے حوالے کر تے ہیں۔ان سے جو کم کمائی کرتے ہیں، وہ بھی اپنی آمدن کا’’42 فیصد‘‘حصہ حکومت کو دیتے ہیں۔جبکہ جو شہری کم کماتے ہیں، ان پہ انکم ٹیکس لاگو نہیں ہوتا۔اسی طرح کمپنیوں پر بھی کارپوریٹ ٹیکس اور سیلز ٹیکس کی شرح کافی بلند ہے یعنی 44 فیصد(24 فیصد سیلز ٹیکس اور 20 فیصد کارپوریٹ ٹیکس)

امیر ہونے کا مفہوم

فن لینڈ کے ٹیکس نظام کی ایک خاصیت یہ ہے کہ وہ محض ارب پتی یا کروڑ پتی کو دولت مند نہیں سمجھتا بلکہ مملکت میں اگر کوئی شہری سالانہ ایک لاکھ یورو کما رہا ہے تو وہ بھی امیر سمجھا جائے گا۔گویا فن لینڈ میں امیر ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس کی کم ازکم 42 فیصد سالانہ آمدن سرکاری خزانے میں پہنچ جائے گی۔جبکہ پاکستان میں کئی لوگ ایک لاکھ روپے ماہانہ کماتے ہیں مگر انھیں امرا نہیں متوسط طبقے میں شمار کیا جاتا ہے۔(اگرچہ پاکستانی لحاظ سے فن لینڈ کی لکھ پتی کروڑ پتی ہوا کیونکہ اس کی سالانہ آمدن سوا دو کروڑ روپے بنتی ہے۔)

شہریوں کی اکثریت ایمان دار

فن لینڈ کے شہری مگر بخوشی اپنی آمدن کا کثیر حصہ حکومت کو دے ڈالتے ہیں کیونکہ انھیں علم ہے کہ یہ رقم سیاست دانوں، سرکاری افسروں، جرنیلوں، ججوں وغیرہ پہ نہیں عام آدمی کی فلاح وبہبود پر خرچ ہو گی۔مغربی ممالک میں بھی ٹیکس چور موجود ہیں ۔وہ مختلف طریقوں سے ٹیکس چوری کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔مگر وہاں شہریوں کی اکثریت ایمان داری سے اپنے حصے کے ٹیکس ادا کرتی ہے۔ وجہ یہی کہ شہری جانتے ہیں، ٹیکسوں کی ادا کردہ رقم سے انہی کی بہتری و ترقی کے منصوبے بنیں گے۔گویا وہاں عوام کو حکمران طبقے پر اعتماد ہے۔اور یہی اعتماد شہریوں کو خوشی واطمینان فراہم کرتا ہے۔خصوصاً اسکینڈے نیوین ممالک کے شہری اسی لیے دنیا بھر میں سب سے زیادہ خوش وخرم تصّور ہوتے ہیں۔اس خوبی نے اسی لیے جنم لیا کہ شہریوں کو اپنی حکومتوں پہ بھروسا ہے۔ہر فریق کو علم ہے کہ دوسرا اسے دھوکا نہیں دے گا۔

تقریباً سبھی مغربی ممالک میں ہر شہری کو پنشن ملتی ہے ، چاہے وہ سرکاری ملازم ہو یا نہیں۔طریق کار یہ ہے کہ ہر شہری دوران ملازمت اپنی تنخواہ کا مخصوص حصہ سرکاری پنشن اسکیم میں جمع کراتا ہے۔پنشن کم یا زیادہ ہونے کا دارومدار قدرتاً اس کی تنخواہ پر ہے۔تنخواہ زیادہ ہو تو پنشن بھی زیادہ ہوتی ہے۔تاہم کم از کم پنشن بھی اتنی ضرور ملتی ہے کہ ایک جوڑا اپنی باقی ماندہ زندگی آرام وسکون سے گذار سکے۔اسے ضروریات زندگی حاصل کرتے ہوئے مالی مسائل درپیش نہیں ہوتے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔