قرابت دار یا کرائے دار؟

راضیہ سید  پير 13 جون 2022
آج کل مخلص رشتوں کی کوئی قدر نہیں۔ (فوٹو: فائل)

آج کل مخلص رشتوں کی کوئی قدر نہیں۔ (فوٹو: فائل)

نگینہ کا موڈ آج پھر خراب تھا۔ دن بھر بے دلی سے گھر کے کام نمٹائے اور بچوں کی بھی ڈانٹ ڈپٹ کی۔ شام کو شوہر کی دفتر سے واپسی پر روتے ہوئے سگے بہن بھائیوں کے درمیان لڑائی جھگڑے کا ماجرا بیان کیا۔ قصہ دراصل یہ تھا کہ چچا، تایا کے بچوں کی شادی آپس میں ہوگئی تھی اور یہ گھر جس کے چار پورشن تھے، ان دونوں مرحوم بھائیوں کی وارثت میں ان کی اولاد کو ملے تھے۔

خاندان میں چاروں بھائیوں کی شادیاں چار سگی بہنوں سے اس لیے کی گئی تھیں کہ اس طرح سے خاندان جڑا رہے گا اور ایک دوسرے میں محبت قائم رہے گی، لیکن سب اس کے برعکس ہی ہوا۔ کہاں ان سگے بھائیوں اور سگی بہنوں میں ساتھ جینے مرنے کے عہد وپیمان ہوا کرتے تھے، اور کہاں اب یہ وقت تھا کہ سب اپنے اپنے پورشنوں میں مقید ہوکر ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنا کر بیٹھے ہوئے تھے اور آپس کے جھگڑوں کی وجہ سے ایک دوسرے کی شکل تک دیکھنے کے روادار نہ تھے۔ نہ ہی وہ پہلے جیسا احترام تھا، نہ ہی رواداری، لحاظ اور مروت۔

بہنیں شوہروں کی وجہ سے آپس میں لڑتیں تو بھائی ایک دوسرے کو طعنے دیتے کہ شادی سے پہلے تو ہم بہت خوشحال زندگی بسر کر رہے تھے لیکن چاچا شفیق کی بیٹیوں سے شادی کے بعد پریشان حال ہیں۔

کبھی کوئی یوٹیلٹی بل زیادہ آجاتا تو ایک کہتا میں نے تو بجلی کم استعمال کی ہے۔ دوسرا کہتا کیا کریں مہنگائی بہت ہے لیکن سب کو برابربل دینا ہوگا۔ کوئی اپنی کم تنخواہ کا رونا روتا اور گھر کی کسی بھی ذمے داری سے دامن چھڑا لیتا۔

یہ سب صورتحال آج کی پیدا کردہ نہیں ہوتی بلکہ اس کی بنیاد بہت پہلے رکھ دی جاتی ہے۔ کئی مرتبہ وراثتی مکان فروخت نہیں ہوسکتا کیونکہ وہ مشترکہ پراپرٹی ہوتی ہے اور اس کے بیچنے کے بعد بھی فی بندہ اتنے پیسے نہیں آتے کہ کوئی بھی الگ اپنی چھت بناکر فیملی سیمت رہ سکے۔

والدین کی بھی یہ غلطی ہوتی ہے کہ وہ مرنے سے پہلے اپنی اولاد کے بارے میں درست تو کیا کوئی فیصلہ نہیں کرتے، جس کا خمیازہ اولاد کو بھگتنا پڑتا ہے۔ مکان، جائیداد، دکانیں یہ سب وجہ تنازعہ بن جاتی ہیں۔ سگی بہنوں میں باورچی خانے کے استعمال پر لڑائی ہوتی ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ خواتین مردوں کو بھی چھوٹے موٹے معاملات میں ملوث کرکے تنازعات کو جنم دیتی ہیں۔

بہن بھائیوں میں کسی ایک کا جھکاؤ کسی ایک ہی جانب ہوتا ہے۔ کوئی بہت تیز و طرار ہوتا ہے تو کوئی اپنے حق کےلیے بھی آواز بلند کرے تو اس کو خاموش کروا دیا جاتا ہے۔ منافقت کے اس دور میں سگے بہن بھائی آپ کو اپنے ساتھ کا یقین دلاتے ہیں لیکن مصیبت کی گھڑی میں وہ برادران یوسف ہی ثابت ہوتے ہیں۔

مشترکہ خاندانی نظام میں ایک منافق شخص ایسا ضرور ہوتا ہے جو یہ یقین دلاتا ہے کہ اس کی تمنا ہے کہ سب مل جل کر رہیں لیکن درحقیقت وہ تمام افراد کی جڑیں کاٹ رہا ہوتا ہے۔ جوائنٹ فیملی میں تمام تصفیہ طلب معاملات اکٹھے بیٹھ کر نمٹانے چاہئیں لیکن افسوس کہ ایسا نہیں ہوتا۔ صلح جو لوگ کم اور تماش بین زیادہ ہوتے ہیں۔ حتیٰ کہ بات چیت کے بجائے نوبت ہاتھا پائی اور اکثر اوقات تو قتل و غارت تک بھی پہنچ جاتی ہے۔

آج کل کیونکہ ذات برادری اور اچھے سے اچھے کی تلاش میں شادیاں بھی تاخیر سے ہوتی ہیں، اس سے کئی مرتبہ شوہر حضرات سے سمجھوتہ کرکے انھیں گھر داماد رکھ لیا جاتا ہے۔ اس سے مشکلات اور بھی بڑھ جاتی ہیں۔ ایک طرف سب اتفاق و اتحاد کے نعرے بلند کر رہے ہوتے ہیں تو دوسری طرف سب لوگ پورشن پورشن کھیل رہے ہوتے ہیں۔

منافق لوگ جب بیٹھک لگاتے ہیں تو کہتے ہیں کیا ہوا گھر تو ایک ہے، پورشن الگ ہیں اور مکان فروخت تو نہیں ہوا۔ لیکن درحقیقت دلوں میں فرق آجاتا ہے۔ گویا ایک طرح سے مکان فروخت نہیں ہوا ہوتا اس کے حصے کے پیسے نہیں لیے ہوتے لیکن ہوتا پھر بھی وہ تقسیم شدہ ہی ہے۔ جب دل ایک دوسرے سے الگ ہوجائیں تو ایک گھر میں سب قرابت دار کی طرح نہیں بلکہ کرائے دار کی مانند رہتے ہیں۔

عید، شب برأت یا دیگر تہواروں پر صرف رسمی سلام دعا ہی ہوتی ہے۔ دل رنج، حسد، کدورت اور بدلے سے بھرا ہوا ہوتا ہے۔ اگرچہ قرآن و احادیث میں رشتے داروں سے اچھا سلوک کرنے کی تاکید اور حکم دیا گیا ہے لیکن صلہ رحمی صرف ایک جانب سے ہی فرض نہیں ہے اور جو شخص اچھے رویے کے باوجود اپنی روش پر ڈٹا رہے، ناانصافی کرے تو اس کےلیے سخت وعید بھی ہے۔

لیکن صد افسوس کہ آج کل مخلص رشتوں کی کوئی قدر نہیں اور لوگ قرآن و احادیث کو اپنے مطلب کےلیے استعمال کرتے ہیں۔ دیکھا جائے تو ان سب مسائل کا حل اتفاق، مذاکرات، برداشت اور کسی کو بھی اپنی رائے کا اظہار کرنے کا موقع دینا، اس کی عزت کرنا ہے۔ منافقت سے گریز اور مل کر بھلائی کی طرف قدم اٹھانا ہے۔

مگر اس سب کی باوجود بھی حالات اگر کشیدہ رہیں اور لوگ آپ کی جانب سے صلہ رحمی کی کوشش کو نرمی سے تعبیر کریں اور آپ کو نقصان پہنچانے پر آمادہ ہوں تو کیچڑ میں پاؤں مارنے سے بہتر ہے کہ راستہ دیکھ کر چلا جائے اور وارثتی مکان میں قرابت داروں کے بجائے کرائے داروں کی طرح رہا جائے۔ اس طرح کے بائیکاٹ سے ایک مجروح انسان کی عزت نفس بھی بچ سکتی ہے اور آئندہ کےلیے جھگڑوں سے جان بھی چھوٹ سکتی ہے۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

راضیہ سید

راضیہ سید

بلاگر نے جامعہ پنجاب کے شعبہ سیاسیات سے ایم اے کیا ہوا ہے اور گزشتہ پندرہ سال سے شعبہ صحافت سے بطور پروڈیوسر، رپورٹر اور محقق وابستہ ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔