کورونا وائرس اور ڈیمینشیا میں ممکنہ تعلق کا انکشاف

ویب ڈیسک  منگل 21 جون 2022
آسٹریلیا  میں ہونے والی نئی تحقیق کے مطابق کووڈ-19 اور ڈیمینشیا نامی اعصابی بیماری کے درمیان ممکنہ طور پر ایک تعلق ہو سکتاہے

آسٹریلیا میں ہونے والی نئی تحقیق کے مطابق کووڈ-19 اور ڈیمینشیا نامی اعصابی بیماری کے درمیان ممکنہ طور پر ایک تعلق ہو سکتاہے

میلبرن: لوگ جب کورونا وائرس کے صحت پر پڑنے والے طویل مدتی اثرات کے متعلق سوچتے ہیں تو اکثر افراد کا خیال طویل مدت تک کورونا کا شکار رہنے کی جانب جاتا ہے۔تاہم، آسٹریلیا کی لا ٹروب یونیورسٹی میں ہونےوالی نئی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ کووڈ-19 اور ڈیمینشیا نامی اعصابی بیماری درمیان ممکنہ طور پر ایک خطرناک تعلق پایا گیا ہے۔

لا ٹروب یونیورسٹی میں کی گئی تحقیق میں بتایا گیا کہ کووڈ-19 کی وجہ سے بننے والے  پروٹین ایسے مرکبات میں ڈھل سکتے ہیں جو الزائمر کے بیماری میں پائے جاتے ہیں۔

مزید یہ کہ تحقیق کرنے والے سائنس دانوں نے بتایا کہ یہ بیماری کچھ مسلسل اعصابی علامات، جیسے کہ یادداشت کا دھندلا جانا وغیرہ، کو مدد دیتی ہے۔یعنی طویل عرصہ کووڈ میں مبتلا رہنے والے مریضوں میں الزائمر کی علامات سامنے آسکتی ہیں۔

تحقیق کے رہنما محقق نِک رینلڈز کادریافت ہونے والے ایمِلائڈ پلیکس کے متعلق کا کہنا تھا کہ قصہ مختصر یہ ہے کہ یہ ایمِلائڈ پلیکس دماغی خلیوں کے لیے بہت خطرناک ہوتے ہیں اور یہ اندازہ لگایا گیا ہے کہ یہ کووڈ پروٹین مرکبات کورونا میں اعصابی بیماری کی علامات کا سبب بن سکتے ہیں جن کو ہم یادداشت کا دھندلا جانا کہتے ہیں۔

قابلِ فکر بات یہ ہے کہ الزائمر کی بیماری جیسی علامات کا سبب بننے کے ساتھ کووڈ-19 طویل المعیاد میں الزائمر کے خطرات کو بڑھا سکتا ہے۔

تاہم، یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ معاملہ یہی ہے کیوں فی الحال طویل مدت کا ایسا کوئی ڈیٹا میسر نہیں جس سے اس بات کی تصدیق ہو۔ دوسری جانب اس قسم کے ممکنہ تعلق کا انکشاف کرنے والی یہ پہلی تحقیق ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔