کوچۂ سخن

عارف عزیز  اتوار 26 جون 2022
فوٹو: فائل

فوٹو: فائل

غزل
جہاں پرندوں کے پر کھلے ہیں
وہیں مسافت کے ڈر کھلے ہیں
یہ ایک دستک کا معجزہ ہے
دیے فروزاں ہیں در کھلے ہیں
سلگنے لگتی ہے یہ بلوچن
کہیں جوبہنوں کے سر کھلے ہیں
ہماری آنکھیں ہیں دشتِ وحشت
ہماری روحوں میں تھر کھلے ہیں
دلوں میں تل بھر جگہ نہیں ہے
بڑی حویلی ہے، گھر کھلے ہیں
بھلا ہو غربت کا جس کے دم سے
مرے عزیزوں کے شر کھلے ہیں
اس اک نظر سے، نظر شناسو
دلوں پہ کیا کیا ہنر کھلے ہیں
چلو عزیزو عطا کے در تک
سنا ہے شام و سحر کھلے ہیں
(ایمان قیصرانی۔ ڈیرہ غازی خان)

۔۔۔
غزل
خواب میں وصل کا امکان بھی ہو سکتا ہے
وہ کسی شب مرا مہمان بھی ہوسکتا ہے
یار تو مجھ کو یہ پریوں کی کہانی نہ سنا
دل پری، پر مرا قربان بھی ہوسکتا ہے
یہ جو لہجہ ہے مرے پاس محبت کا میاں
یہ حوالہ مری پہچان بھی ہو سکتا ہے
اس لیے ہنستے ہوئے ملتا ہوں، اُس کو ہر بار
دیکھ کے دکھ میں، پریشان بھی ہوسکتا ہے
مجھ کو رہنے دے ابھی جھوٹ پہ قائم ،طارقؔ
میرے سچ سے ترا نقصان بھی ہوسکتا ہے
(طارق جاوید۔ کبیر والا)

۔۔۔
غزل
اچھا خواب دکھایا تم نے خواب دکھانے والوں میں
ایسی بات کہاں ہوتی تھی اس سے پہلے والوں میں
دروازے پر تالا ہو تو پھر بھی دستک دے دینا
نام تو شامل ہوجائے گا دستک دینے والوں میں
جو بھی شخص برا لگتا ہے صاف برا کہہ دیتے ہیں
یہ بھی اچھی بات ہے تجھ کو اچھا کہنے والوں میں
سرگوشی بھی کرنی ہو تو زور سے کرنا پڑتی ہے
کس نے آن بٹھایا مجھ کو اونچا سننے والوں میں
جتنے آنسو بہہ جاتے ہیں روزانہ اس دھرتی پر
دریا دوسرے نمبر پر آئے گا بہنے والوں میں
آدھے لوگ یہیں سے اپنے گھر کو واپس لوٹیں گے
آگے کی باتیں پہنچی ہیں پیچھے آنے والوں میں
(امن شہزادی۔ حافظ آباد)

۔۔۔
غزل
سراب زیست کا یکسر نشاں نہیں ہوگا
جلے گی روح تو بالکل دھواں نہیں ہوگا
یہ وقت اتنی اذیت سے سانس بھر رہا ہے
کہ ڈھل تو جائے گا لیکن جواں نہیں ہوگا
اجڑتے رہنے کی عادت کے بعد ہوگا یہ
کہ پیڑ ہوگا مگر آشیاں نہیں ہوگا
ثقیل ساعتیں بخشیں گی دائمی لکنت
یہ دریا سوکھا رہے گا، رواں نہیں ہوگا
سب اس یقین سے ہونی پہ تکیہ کرتے ہیں
کوئی بھی حادثہ اب نا گہاں نہیں ہوگا
کریں گے کیا جو جوانی میں نہ ملی دولت
ملیں گے پر تو ہمیں آسماں نہیں ہوگا
(ابو لویزا علی۔کراچی)

۔۔۔
غزل
اک منتظر شباب ہے جوبن کا منتظر
یعنی حسین خواب ہے جوبن کا منتظر
آنے لگی ہے عشق پہ میرے بہار جو
لگتا ہے اک سراب ہے جوبن کا منتظر
کھلنے کو بے قرار ہے گلشن میں تازہ گل
دیکھو عدو جناب ہے جوبن کا منتظر
دہکا ہوا سا رہتا ہے یادوں کی آنچ سے
سینے میں آفتاب ہے جوبن کا منتظر
آنکھوں میں پل رہا ہے جو اشکوں کے درمیاں
اک درد زیر آب ہے جوبن کا منتظر
توڑو نہ ڈال سے کبھی آدھی کھلی کلی
کھلتا ہوا گلاب ہے جوبن کا منتظر
لو جی مُعانؔ آپ نے پڑھ لی کتابِ عشق
آخر میں ہجر باب ہے جوبن کا منتظر
(عامرمُعان۔ؔ کوئٹہ)

۔۔۔
غزل
ڈوب جانے کا ڈر نہیں رکھتا
جو بھی ساحل پہ گھر نہیں رکھتا
کس طرح سیکھ پائے گا اس کو
دھیان جو کام پر نہیں رکھتا
لذتِ غم وہ خاک سمجھے گا
آنکھ اپنی جو تَر نہیں رکھتا
آہ جب نکلے عرش ہل جائے
کیا ستمگر خبر نہیں رکھتا
سوچ کر باندھ مجھ سے عہدِ وفا
میں کوئی مال و زَر نہیں رکھتا
پاس تیرے میں اڑ کے آ جاؤں
کیا کروں پَر مگر نہیں رکھتا
جس کو منزل عزیز ہو راحلؔ
بے نشاں وہ سفر نہیں رکھتا
(علی راحل۔ بورے والا)

۔۔۔
غزل
مجھے کاٹنی تھی ہنسی خوشی ترے بعد بھی
نمی آنکھ میں نہیں آ سکی ترے بعد بھی
تو ہوا نہیں تجھے مجھ سے دور کیا گیا
مرے ساتھ ہیں کئی سازشی ترے بعد بھی
مجھے روشنی کی طلب نہیں تھی اسی لیے
مرے پاس ہے وہی تیرگی ترے بعد بھی
یہ نصیب ہی تجھے مجھ سے چھین کے لے گیا
رہا زندگی کا ولن یہی ترے بعد بھی
ترے شہر کے کسی آدمی سے ملوں اگر
ترا پوچھتا ہوں کبھی کبھی ترے بعد بھی
(انس سلطان ۔ فیصل آباد)

۔۔۔
غزل
گھٹ کے جس میں سانس لیں وہ زندگانی کفر ہے
اور مقابل ظلم ہو تو بے زبانی کفر ہے
بارگاہِ عشق میں واجب ہے سجدہ ہجر کو
اور نصابِ وصل کی پوری کہانی کفر ہے
ہم نے توڑا پیاس کے تیشے سے لہروں کا غرور
جنگ دریاؤں سے ہو تو لفظ پانی کفر ہے
سر نِگوں ہو وہ بھی دہلیزِ ستم ایجاد پر
شہرِ مومن پر ستم کی راجدھانی کفر ہے
جس میں سو جائے ضمیر انساں کا گھوڑے بیچ کر
وہ بڑھاپا کفر ہے جی، وہ جوانی کفر ہے
با وضو لکھنا رباب اپنے تخیل کی غزل
ورنہ بحرِ خود کلامی کی روانی کفر ہے
(سیدہ رباب عابدی۔ گوجر خان)

۔۔۔
غزل
چار دن کی زندگی ہے کیا کریں
شوق اپنا شاعری ہے کیا کریں
عشق ہم کو تم سے گہرا ہے بہت
دل میں جاگی نغمگی ہے کیا کریں
بڑھ گئی ہر شے کی قیمت اب یہاں
اپنے دل میں بے بسی ہے کیا کریں
حسن تیرا دل پہ چھایا اے صنم
تم سے بے حد عاشقی ہے کیا کریں
جان دیتے ہیں تجھی پر دل سے ہم
پھر بھی تو اک اجنبی ہے کیا کریں
(احمد مسعود قریشی۔ملتان)

۔۔۔
غزل
ترے فریب کا دل میں ملال باقی ہے
سکون ِ قلب ابھی بہرحال باقی ہے
میں اپنے ہاتھ میں اِکا دبا کے بیٹھا ہوں
تمہارے ہوش اڑانے کی چال باقی ہے
کسی نے بار ہا دیکھا تو یہ گماں گزرا
ابھی جوان ہوں کچھ تو جمال باقی ہے
تمہارا عشق مجھے دشت میں لے آیا ہے
تمہارے ہجر کی وحشی دھمال باقی ہے
عجیب موت ملی ہے مجھے مروت میں
میں اس پہ مر مٹا ہوں انتقال باقی ہے
(انور محمد انور۔ سیالکوٹ)

۔۔۔
’’آنکھیں نم ہیں‘‘
نصب ہے گھرکے ماتھے پر جو
اُس تختی پر
کس چاہت سے نام ترا لکھوایا تھا
پیار بھرا وہ گھر تُو نے تو چھوڑ دیا
سب وعدوں کو سب قسموں کو توڑ دیا
اِس کا غم ہے گرچہ کم ہے
لیکن آخر غم تو غم ہے
مجھ کو چھوڑ کے جانے والی
اتنا تو بتلا دے نا
میرے دل کے دروازے پر
نام ترا جو لکھا ہے وہ کیسے مٹ پائے گا؟
اس کا مٹناکب تیرے یا میرے بس میں
یہ بھی پیار کی راہ میں جاناں ایک ستم ہے
دل کی خالی کُٹیا اب تو لگتا ہے
جب تک دل کی دھڑکن قائم
خالی ہے خالی ہی رہے گی
کوئی بھُولا بھٹکا راہی
اِس کُٹیا میں آیا بھی تو
تیرے نام کو دل دروازے پر
لکھا دیکھ کے بن دستک الٹے قدموں ہی
شاید واپس ہو جائے گا
جب سے میری سوچ میں یہ منظرآیاہے
سانس ہے مدھم آنکھیں نم ہیں
(شہزاد نیاز۔ کراچی)

کہتے ہیں جذبات کو تصور، تصور کو الفاظ مل جائیں تو شعر تخلیق ہوتا ہے اور یہ صفحہ آپ کے جذبات سے آراستہ تخلیقات سے سجایا جارہا ہے۔ آپ اپنی نظم ، غزل مع تصویر ہمیں درج ذیل پتے پر ارسال کرسکتے ہیں، معیاری تخلیقات اس صفحے کی زینت بنیں گی۔
صفحہ ’’کوچہ سخن ‘‘
عارف عزیز،روزنامہ ایکسپریس (سنڈے ایکسپریس) ، 5 ایکسپریس وے ، کورنگی روڈ ، کراچی

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔