لوگ پاکستان کو کیوں چھوڑ رہے ہیں!

علی احمد ڈھلوں  جمعـء 1 جولائ 2022
ali.dhillon@ymail.com

[email protected]

جب آپ کے گھر میں غیر یقینی ہو، بدامنی ہو، لاقانونیت ہو، کوئی سسٹم نہ ہو، کہیں انصاف نہ مل رہا ہو، اقربا پروری ہو اور پھر کہیں سے بہتری کی کوئی اُمید بھی نظر نہ آرہی ہو تو پھر آپ گھر چھوڑنے والوں کو کیسے روک سکتے ہیں؟ یہی حالات پاکستان کے نظر آرہے ہیں، یہاں تو پہلے ہی اشرافیہ بیرون ملک رہتی ہے اور جو رہے سہے سرمایہ کار اور کاروباری حضرات ہیں وہ بھی دوسرے ممالک میں شفٹ ہو رہے ہیں، اور آپ جانے والوں کو قانونی اور اخلاقی طور پر روک بھی نہیں سکتے، کیوں کہ ہر کسی کو حق حاصل ہے کہ وہ اپنے اور اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کے لیے ہر وہ اقدام کرے جو اُس کے لیے ضروری ہو۔

خطے کے دیگر ممالک شہریت کے لیے نت نئے ’’پیکیجز‘‘ متعارف کروا رہے ہیں، سرمایہ دار پاکستانیوں کو اپنی طرف راغب کر رہے ہیں۔ آج کل آپ نے پاکستان میں ترکی میں سرمایہ کاری کے اشتہارات تو دیکھے ہی ہوں گے، وہ پاکستانیوں کے لیے خصوصی پیکیجز متعارف کروا رہے ہیں، گزشتہ چند سالوں میں ترکی نے جس انداز میں پاکستان میں اپنا Influenceپیدا کیا ہے اُس کی مثال نہیں ملتی۔ جیسے ہی انڈین ڈراموں پر پابندی لگی، ترک فلم اور ڈرامہ انڈسٹری نے پاکستان میں اپنی جگہ بنانا شروع کر دی، اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے یہ عمل سرکاری سطح پر بھی ہونے لگا۔ جس کا اثر یہ ہوا کہ 90فیصد پاکستانی سلطنت عثمانیہ سے روشناس ہوگئے۔

اسے ہم ثقافتی یلغار بھی کہہ سکتے ہیں۔ ترک کلچر کے پاکستان میں آنے کی وجہ سے آج ہر پاکستانی ترکی جانے کی خواہش رکھتا ہے، جس سے ناصرف ترکی کی سیاحت کو فروغ ملا بلکہ گزشتہ چند سالوں میں ڈھائی لاکھ پاکستانیوں نے وہاں مستقل سکونت بھی اختیار کی۔ ترکی نے پاکستانیوں کو یہ سہولت فراہم کردی ہے کہ جو عمرہ کی ادائیگی کے لیے سعودی عرب کا ویزہ لگوائے، اُس کے لیے ترکی کا ایک ماہ کا ویزہ فری ہوگا۔ ان کے ایسا کرنے سے گزشتہ3 سالوںمیں53لاکھ پاکستانیوں نے ترکی کا دورہ کیا۔

آپ یو اے ای کو دیکھ لیں، اس نے غیر ملکیوں کو شہریت دینے کا فیصلہ کردیا ہے۔ یو اے ای نے دنیا بھر کی اشرافیہ کو راغب کرنے کے لیے نئی اسکیمیں متعارف کروائی ہیں۔ متحدہ عرب امارات کی شہریت حاصل کرنے والے اپنی اصل شہریت بھی برقرار رکھ سکتے ہیں۔ ان اسکیموں سے دنیا بھر کے امرا نے فائدہ اٹھایا ہے جس میں بھارتی پہلے نمبر پر ہیں جب کہ پاکستانی دوسرے نمبر پر نظر آرہے ہیں۔

آپ بنگلہ دیش ہی کو دیکھ لیں، پہلے ہی ہماری آدھی سے زائد ٹیکسٹائل انڈسٹری بنگلہ دیش منتقل ہو چکی ہے یعنی پاکستان کی ٹیکسٹائل برآمدات محض 7ارب ڈالر جب کہ بنگلہ دیش کی 34ارب ڈالر ہو چکی ہیں، اگر ہم رقبہ، آبادی، وسائل اور معیشت کے لحاظ سے پاکستان کا موازنہ بنگلہ دیش سے کریں تو اس کی ٹیکسٹائل برآمدات بھی 34 ارب ڈالرز سے زیادہ ہے۔ فی الوقت بنگلہ دیش نے ایسا کوئی پیکیج اناؤنس تو نہیں کیا مگر اُس نے پاکستان میں انرجی کرائسز کو دیکھتے ہوئے سرمایہ کاروں کے لیے بجلی کے نرخ پاکستان سے آدھے، بلاتعطل اور مفت پانی کی فراہمی اور پٹرولیم مصنوعات پر بھی سبسڈی کا اعلان کیا ہے۔

اس دنیا میں کہیں مذہب کی جنگ نہیں، کہیں قوموں کی جنگیں نہیں۔ آپ کو ہر طرف مفادات کا ٹکراؤ نظر آئے گا، اگر آپ کے مفادات ٹکرا رہے ہیں تو عیسائیوں کی آپس میں عالمی جنگ ہو سکتی ہے، اگر آپ کے مفادات ٹکرا رہے ہیں تو عرب جنگ بھی ہوسکتی ہے۔ آج آپ پاکستانیوں کی ترکی یا چین یا بنگلہ دیش یا یو اے ای میں جانے پر پابندی لگا دیں پھر دیکھیے گا کہ یہ دوست ممالک آپ کے ساتھ کیسا تعلق رکھتے ہیں! خیر دوسری طرف پاکستان میں سیاسی و معاشی عدم استحکام کی وجہ سے لوگ ملک چھوڑنے کو ترجیح دیتے ہوئے دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں اپنا سرمایہ لگا رہے ہیں۔

پاکستانی اشرافیہ اور صاحبِ حیثیت طبقہ ان حالات میں ممکنہ ڈیفالٹ کے خطرے کے پیش نظر، انصاف نہ ملنے کی وجہ سے، اداروں کے اوپر سے اعتماد اُٹھ جانے کی وجہ سے اور روپے کی گرتی ہوئی قدر کے باعث اپنا سرمایہ بیرون ملک منتقل کرکے غیر ملکی شہریت کے حصول کے لیے کوشاں ہے۔ پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری نہ ہونے کے برابر ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ ایسے اقدامات کرے جس سے پاکستانی سرمایہ کاروں اور اشرافیہ کا اعتماد بحال ہو اور وہ بیرون ملک سرمایہ کاری کرنے یا غیر ملکی شہریت حاصل کرنے کے بجائے اپنے ملک میں رہنے اور سرمایہ کاری کو ترجیح دیں۔ آج پاکستان میں صرف وہی رہ رہا ہے ،جس کے پاس بیرون ملک جانے کے وسائل نہیں ہیں، ورنہ تو ٹیلنٹڈ افراد یہاں سے زندہ بھاگ جانے کو ترجیح دے رہے ہیں!

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔