کورونا میں اضافے کو نہ روکا گیا تو سخت فیصلے کرنے پڑیں گے، وزیراعلیٰ سندھ

اسٹاف رپورٹر  جمعـء 1 جولائ 2022
صورتحال خطرناک نہیں لیکن تشویشناک ضرور ہے، مراد علی شاہ

صورتحال خطرناک نہیں لیکن تشویشناک ضرور ہے، مراد علی شاہ

 کراچی: وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ کوروناکیسز میں اضافے کا رجحان دیکھا گیا ہے جسے کنٹرول کرنے کی ضرورت ہے بصورت دیگر کچھ سخت فیصلے لینے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوگا۔

یہ بات انہوں نے جمعہ کو کورونا وائرس ٹاسک فورس کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی، انہوں نے صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے وزیراعلیٰ ہاؤس میں اجلاس طلب کر رکھا تھا۔

وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا گیا کہ 17 جون کو صوبے میں صرف 38 کیسز تھے جن کا تشخیصی تناسب 3.6 فیصد تھا اور اگلے روز 18 جون کو کیسز کی تعداد بڑھ کر 122 ہوگئی۔ اس میں 30 جون تک رپورٹ ہونے والے کیسز 377، 531 اور 465 سے بڑھتے چلے گئے۔

اس پر وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ صورتحال خطرناک نہیں بلکہ تشویشناک ضرور ہے، ہمیں بڑے پیمانے پر آگاہی کے ذریعے اس پر قابو پانے کی ضرورت ہے۔

گزشتہ ایک ہفتے (24-30 جون 2022) کے اعداد و شمار کے مطابق کراچی میں 30 جون کو سب سے زیادہ 19.76 فیصد کیسز، 29 جون کو 19.09 ، 28 جون کو 19.24 ، 27 جون کو 9.21 ، 26 جون کو 22.65 ، 25 جون کو 21.71 اور 24 جون کو 19.65 فیصد کیسز کا تناسب ہے۔

اسی مدت کے دوران حیدرآباد میں 24 جون کو 11.54 ، 25 جون کو 8.51 ، 26 جون کو 0.32 ، 27 کو 0.29 ، 28 جون کو 1.09 ، 29 جون کو 0.15 اور 30 جون کو 0.39 فیصد کیسز سامنے آئے۔

اس پر وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ مذکورہ ہفتے کے دوران کراچی میں کیسز کی شرح میں 19 سے 21 فیصد کے درمیان اضافہ ہوا جبکہ حیدرآباد میں کیسز کے رجحان میں کمی دیکھی گئی۔ کراچی میں کورونا کیسز کی ہفتہ وار اوسط 17.47 ، حیدرآباد میں 1.01 اور صوبے کے باقی حصوں میں 1.05 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے ،اس طرح مذکورہ ہفتے کے دوران صوبائی اوسط تناسب 7.66 فیصد رہا۔

وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا گیا کہ گزشتہ 30 دنوں کے دوران 6 اموات ہوئیں جن میں سے 5 مریض وینٹی لیٹرز پر اور ایک ہسپتالوں میں آف وینٹ پر تھا۔ مئی میں صوبے میں چار اموات ہوئیں۔ وزیر صحت ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو نے وزیراعلیٰ کو بتایا کہ اس وقت 4122 مریضوں میں سے صرف 63 ہسپتالوں میں ہیں جن میں سے 47 کی حالت تشویشناک ہے اورصرف چار مریضوں کو وینٹی لیٹرز پر منتقل کیا گیا ہے۔

اس پر وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اس کا مطلب ہے کہ ہسپتالوں پر دباؤ نہیں ہے۔ماہرین اور ٹاسک فورس کے ارکان کے مشورے پر وزیراعلیٰ سندھ نے صوبے کے لوگوں پر زور دیا کہ وہ ویکسین لگوائیں اور اگر وہ پہلے ہی ویکسین کر چکے ہیں تو انہیں بوسٹر شاٹس ضرور لگوائیں۔

انہوں نے کہا میں آپ (صوبے کے لوگوں) سے ماسک پہننے، سماجی دوری کو یقینی بنانے اور اپنے ہاتھ دھونے یا سینی ٹائز کرنے اور مصافحہ کرنے سے گریز کرنے کی درخواست کرتا ہوں اور اگر ان ایس او پیز کو رضاکارانہ طور پر اپنایا گیا تو صوبائی حکومت صورتحال پر قابو پا سکے گی بصورت دیگر سخت اقدامات اٹھائے جائیں گے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔