اعصاب کو ٹھنڈا کرکے درد ختم کرنے والا برقی پیوند

ویب ڈیسک  اتوار 3 جولائ 2022
تصویر میں پتلی پٹی جیسا ایک پیوند نمایاں ہے جو بدن کے اندر رہ کر اعصاب کو واقعی سرد کرکے تکلیف کا احساس کم کرتا ہے۔ فوٹو: نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی

تصویر میں پتلی پٹی جیسا ایک پیوند نمایاں ہے جو بدن کے اندر رہ کر اعصاب کو واقعی سرد کرکے تکلیف کا احساس کم کرتا ہے۔ فوٹو: نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی

الینوئے: سائنسدانوں نے درد کم کرنے کا ایک انوکھا طریقہ وضع کیا ہے۔ انہوں نے ازخود گھل کر ختم ہونے والا ایک بایوڈگریڈیبل امپلانٹ (پیوند) بنایا ہے جو بدن کے اندر نسیجوں اور اعصاب کو دس درجے سینٹی گریڈ تک سرد کرکے درد کو کم کرسکتا ہے۔

چوہوں پر آزمائش کے دوران قابلِ حل پیوند کے دماغ تک جانے والے درد کے سگنل کو کمزور کیا اور یوں ان کی تکلیف کم ہوئی۔ اس کی سب سے اچھی بات یہ ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ یہ جسم میں گھل کر ختم ہو جاتا ہے۔ حقیقت میں یہ ایک خردمائع (مائیکروفلوئڈ) اور برقی نظام ہے جو اپنے عمل کے دوران رگوں اور شریانوں کا درجہ حرارت بھی نوٹ کرتا ہے۔

دیکھنے میں یہ ایک لچکدار پٹی ہے جس میں چھوٹی نالیاں بنی ہیں جن کے اندر کیمیائی اجزا بہتے رہتے ہیں۔ عام زندگی میں درد اور چوٹ کی صورت میں برف رگڑنے سے درد کم ہوتا ہے اور اسی عمل کو سائنسدانوں نے جسم کے اندر آزمانے کا فیصلہ کیا ہے۔

یہ آلہ اندر جاکر دس درجے سینٹی گریڈ تک درجہ حرارت کم کرسکتا ہے جس سے دماغ کے درد کے برقی سگنل کم ہوتے جاتے ہیں۔ موافق مٹیریئل سے تیار پیوند مکمل طور پر جسم میں ہی گھل جاتا ہے۔

اگرچہ ہمارے پاس درد کش ادویہ موجود ہیں لیکن ان کے مضر اثرات ہوتے ہیں اور وہ اپنی افادیت کھودیتی ہیں۔ درد کم کرنے کے لیے برف کا ٹکور بھی مفید ہے لیکن اسے ہربار استعمال کرنے سے جلد متاثر ہوسکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی کے جان راجرز اور ان کے ساتھیوں نے یہ پیوند بنایا ہے۔

پیوند کی باریک نالیوں میں بے ضرر نائٹروجن گیس اور پرفلوروپینٹین (پی ایف پی) بھرا گیا ہے جو الگ الگ بہتی ہیں اور آگے چل کر دونوں مل جاتی ہیں۔ ایک مقام پر پی ایف پی اڑجاتی ہے اورعملِ تبخیر سے ٹھنڈک پیدا ہوتی ہے۔ اس کا ایک سرا کسی رگ کے گرد لپیٹا جاسکتا ہے اور دوسرے سرے پر پمپ ہوتا ہے جو دونوں اجزا اندر داخل کرتا رہتا ہے۔

چھ ماہ بعد پٹی والا پیوند گھل کر ختم ہوجاتا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔