ایف بی آر ملازمین کو بجٹ ڈیوٹی پر انعامات دینے کی انکوائری کا فیصلہ

ارشاد انصاری  پير 4 جولائ 2022
محتسب نے یہ نوٹس ایک شہری کی شکایت پر لیا،شکایت کنندہ نے اس اقدام کو قومی خزانے پر دن دیہاڑے ڈکیتی قرار دیا تھا،ذرائع۔ فوٹو: فائل

محتسب نے یہ نوٹس ایک شہری کی شکایت پر لیا،شکایت کنندہ نے اس اقدام کو قومی خزانے پر دن دیہاڑے ڈکیتی قرار دیا تھا،ذرائع۔ فوٹو: فائل

اسلام آباد: وفاقی ٹیکس محتسب نے ایف بی آر کے 373 ملازمین کو بجٹ ڈیوٹی کے نام پر بغیر کسی قانونی مینڈیٹ کے ریوارڈ(انعامات) فراہم کرنے کی مبینہ منظوری دینے پر سیکریٹری ریونیو ڈویژن وچیئرمین ایف بی آر کیخلاف انکوائری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

وفاقی ٹیکس محتسب ڈاکٹر آصف جاہ نے ایف بی آر کے 373 ملازمین کو بجٹ ڈیوٹی کے نام پر بغیر کسی قانونی مینڈیٹ کے ریوارڈ(انعامات) فراہم کرنے کی مبینہ منظوری دینے پر سیکریٹری ریونیو ڈویژن وچیئرمین ایف بی آر کیخلاف انکوائری کرنے کا فیصلہ کیا ہے، سیکریٹری ریونیو ڈویژن اسلام آباد سے بدانتظامی کے الزامات کے حوالے سے 15 جولائی 2022 تک جواب طلب کرلیا ہے۔

ذرائع کاکہنا ہے کہ محتسب کی جانب سے یہ نوٹس ایک ٹیکس دہندہ شہری وحید شہزاد بٹ کی جانب سے چیئرمین ایف بی آر اور ایف بی آر کے دیگر عہدیداروں کے خلاف درج کرائی گئی شکایت کی بنیاد پر لیا گیا، شکایت کنندہ نے اس اقدام کو قومی خزانے پر دن دیہاڑے ڈکیتی کے مترادف قرار دیا تھا، ٹیکس دہندگان کی رقم سے انعامات دینے کے معاملے کی انکوائری کے لیے ایک اعلیٰ اختیاراتی انکوائری کمیٹی تشکیل دینے کی درخواست کی تھی۔

اس حوالے سے جب شکایت کنندہ وحید شہزاد سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ایف بی آر کے ونگز کے معائنے کے لیے ایف ٹی او کے اختیارات ٹیکس مشینری میں بدانتظامی اور بدعنوانی کو روکنے کے لیے ایک موثر ذریعہ ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔