بھارت میں مسلم دشمنی کی نئی لہر، پنچایتوں کے ذریعے معاشی بائیکاٹ کے فیصلے

ویب ڈیسک  پير 4 جولائ 2022
پنچایت میں ہندو انتہا پسند تنظیموں کے ارکان نے شرکت کی

پنچایت میں ہندو انتہا پسند تنظیموں کے ارکان نے شرکت کی

نئی دہلی: بھارتی ریاست ہریانہ کے علاقے مانیسر میں ایک پنچایت نے مسلمان تاجروں کے معاشی بائیکاٹ کا اعلان کرتے ہوئے اس سلسلے میں باقاعدہ کمیٹیاں بنانے کی ہدایت کردی۔

’’ہندو سماج‘‘ کی نمائندگی کےنام پرہونے والی پنچایت میں انتہا پسند ہندو تنظیموں بجرنگ دل اور وشوا ہندو پریشد کے کارکنوں سمیت 200 سے زائد افراد شریک ہوئے۔ اس موقع پر پنچایت نے مقامی انتظامیہ کو الٹی میٹم دیتے ہوئے ہندوؤں کو علاقائی سطح پر کمیٹیاں تشکیل دے کر مسلمان دکان داروں اور تاجروں کا معاشی بائیکاٹ کرنے پر اُکسایا گیا ہے۔

پنچایت میں مانیسر کے علاوہ دیگر علاقوں سے بھی ہندوؤں نے شرکت کی، جنہوں نے مجسٹریٹ کو اپنے  مطالبات پر مبنی ایک یادداشت پیش کی۔

دوسری جانب ریاست گجرات کے ضلع بناس کانٹا کے ایک گاؤں میں پنچایت کی جانب سے جاری کیا گیا ایک خط وائرل ہو رہا ہے، جس میں مسلمانوں سے سامان نہ خریدنے کی اپیل کی گئی ہے۔ خط کے مطابق اگر کسی شخص نے مسلمانوں سے سامان خریدا تو اسے 5100 روپے کا جرمانہ ادا کرنا ہوگا۔خط پر سرپنچ کے دستخط اور مہر بھی لگی ہوئی ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔