رنگ روڈ اسکینڈل کی تحقیقات میں عمران خان کے ساتھی اثر انداز ہوئے، نئی رپورٹ

ویب ڈیسک  پير 4 جولائ 2022
67 صفحات پر مشتمل رپورٹ وزیراعظم شہباز شریف کو پیش کردی گئی (فوٹو فائل)

67 صفحات پر مشتمل رپورٹ وزیراعظم شہباز شریف کو پیش کردی گئی (فوٹو فائل)

 اسلام آباد: رنگ روڈ کی انکوائری کو بدنیتی پر مبنی قرار دے دیا گیا ہے۔ نئی رپورٹ کے مطابق سابقہ تحقیقات میں عمران خان کے قریبی ساتھیوں کا اثر رسوخ رہا۔

ایکسپریس نیوز کو حاصل ہونے والی راولپنڈی رنگ روڈ کی نئی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق سابق کمشنر سید گلزار حسین شاہ کی انکوائری رپورٹ بدنیتی پر مبنی تھی۔ نئی تحقیقات گریڈ 22 کے آفیسر ڈی جی سول سروس اکیڈمی عمر رسول نے کی، جنہیں سابق وزیر اعظم عمران خان نے گریڈ 22 میں ترقی دی تھی۔

نئی تیار کی گئی 67 صفحات پر مشتمل رپورٹ وزیراعظم شہباز شریف کو پیش کردی گئی، جس میں بتایا گیا ہے کہ نئی تحقیقات میں تمام شواہد دیکھے گئے اور 30 گواہوں کو سنا گیا اور تحقیقات کے دوران رنگ روڈ منصوبے میں کرپشن کے شواہد نہیں ملے جب کہ سابقہ تحقیقات میں عمران خان کے قریبی ساتھیوں کا اثر رسوخ رہا۔

نئی تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ سابق وزیراعلیٰ نے رنگ روڈ منصوبے کی الائنمنٹ ردوبدل کی منظوری دی تھی،  جس سے حکومت کو 30 ارب روپے کا نقصان ہوا۔ سابق وزیراعظم عمران خان نے گلزار حسین شاہ کی تحقیقات پر ایک اور انکوائری کرائی تھی۔ عمران خان نے گریڈ 22 کے آفیسر محمد علی شہزادہ کو تحقیقات سونپی تھی۔ محمد علی شہزادہ کی تحقیقات کو اس وقت کے سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ افضل لطیف نے درست قرار نہیں دیا تھا۔ اس وقت سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ افضل لطیف نے ڈی نووو تحقیقات کی تجویز دی تھی۔

نئی رپورٹ نے مطابق نئی حکومت میں اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے 20 اپریل 2022ء کو ڈی نووو تحقیقات کا نوٹیفکیشن جاری کیا۔ سید گلزار حسین شاہ کی تحقیقات میں سابق کمشنر محمد محمود کو سنے بغیر کارروائی عمل میں لائی گی۔ رپورٹ کے مطابق سابق کمشنر راولپنڈی محمد محمود کے خلاف کوئی گواہ بھی نہیں لایا گیا۔ سابق کمشنر راولپنڈی سید گلزار حسین شاہ نے خود سے ٹی او آر بنائے اور خود ہی تحقیقات کی۔

یہ پڑھیں : پنڈی رنگ روڈ اسکینڈل؛ سابق کمشنر سمیت 13 افسر بے گناہ قرار

سید گلزار شاہ نے اپنے ہی ٹی او آر پر رپورٹ بنائی جس پر اس وقت کے چیف سیکرٹری نے دستحط کیے۔ عمر رسول کی تحقیقات میں اس وقت کے چیف سیکرٹری پنجاب جواد رفیق بھی پیش ہوئے۔ سابق چیف سیکرٹری نے تحقیقات میں بتایا کہ ان پر دباؤ تھا اور دباؤ میں آکر گلزار حسین شاہ کی رپورٹ پر دستحط کیے۔

عمر رسول کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اُس وقت کے سابق کمشنر محمد محمود پر کوئی چارج فریم نہیں ہوتا۔ نئی تحقیقاتی رپورٹ میں سید گلزار شاہ کے خلاف تحقیقات کی سفارش کی گئی ہے جب کہ سابق چیف سیکرٹری جواد رفیق کے کردار کو مثبت قرار نہیں دیا گیا۔

عمر رسول نے رنگ روڈ منصوبے کو ایکنک کے غیر جانب دار بورڈ کے سامنے رکھنے کی سفارش بھی کی۔ پرنسپل سیکرٹری ڈاکٹر توقیر شاہ نے عمر رسول کی رپورٹ کو اسپیشل سیکرٹری کے ذریعے وزیراعظم کو بھیجنے کا کہا۔ اسپیشل سیکرٹری ہی نے وزیراعظم شہباز شریف کو بریف کیا۔ پرنسپل سیکرٹری ڈاکٹر توقیر شاہ کی آبائی زمینوں کا ذکر تھا، انہوں نے خود کو رپورٹ سے لاتعلق رکھا۔

تحقیقات کے مطابق وزیراعظم نے نئی رپورٹ کی روشنی میں کیپٹن ریٹائرڈ محمد محمود کو الزامات سے بری کرنے کے احکامات دیے۔ پرنسپل سیکرٹری ڈاکٹر توقیر شاہ کے خلاف 1882 تک کا ریکارڈ دیکھا گیا۔ تحقیقات میں پتا چلا کہ ڈاکٹر توقیر شاہ کی آبائی زمین ہے، ڈاکٹر توقیر شاہ نے کوئی زمین رنگ روڈ منصوبے کے لیے خریدی نہ ہی بیچی۔

پہلی تحقیقات کرنے والے گریڈ 21 کے سید گلزار حسین شاہ اور سابق چیف سیکرٹری جواد رفیق کے خلاف اسٹیبلشمنٹ کو لکھا گیا۔ وزیراعظم نے دونوں افسران کے کردار پر اسٹیبلشمنٹ کو لکھا کہ ان  افسران کے خلاف ایکشن ہونا چاہیے یا نہیں۔

وزیراعظم نے رنگ روڈ کو انتہائی اہمیت کا حامل منصوبہ قرار دیتے ہوئے رنگ روڈ کے مستقبل کا فوری فیصلہ کرنے کے لیے پنجاب حکومت کو خط لکھ دیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے عمر رسول کی رپورٹ کو پبلک کرنے کا حکم بھی دے دیا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔