دعا زہرا کو بیرون ملک جانے سے روکنے کیلیے درخواست دائر

ویب ڈیسک  منگل 5 جولائ 2022
دعا زہرا کی بازیابی کی نئی درخواست والد کی جانب سے دائر کی گئی ہے:فوٹو:فائل

دعا زہرا کی بازیابی کی نئی درخواست والد کی جانب سے دائر کی گئی ہے:فوٹو:فائل

 کراچی: دعا زہرہ کے والد نے بیٹی کو بیرون ملک سے جانے سے روکنے اور اپنی تحویل میں لینے کے لیے سندھ ہائی کورٹ میں ایک نئی درخواست دائر کردی۔

سندھ ہائی کورٹ میں دائر کردہ درخواست میں دعا زہرہ کے والد نے محکمہ داخلہ سندھ، آئی جی سندھ ، ایس ایچ او الفلاح ، ظہیر احمد اور دیگر کو فریق بناتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ دعا زہرا کو ملک سے باہر لے جانے سے روکا جائے اور ظہیر احمد کی غیر قانونی حراست سے نکال کر والدین کے حوالے کیا جائے۔

درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ اگر مغویہ کے ساتھ جنسی زیادتی ثابت ہوتو ملزم ظہیر کے خلاف کارروائی کی جائے۔

مزید پڑھیں: دعا زہرا کی عمر 15 سے 16 سال کے درمیان ہے، میڈیکل رپورٹ

درخواست میں کہا گیا ہے کہ نئے میڈیکل بورڈ کی رپورٹ کے مطابق دعا زہرا کی عمر 16 سال سے کم ثابت ہوچکی ہے، سنگل میڈیکل بورڈ نے ہڈیوں کے ٹیسٹ کے بعد عمر 17 سال کے قریب بتائی ہے، عدالت 14 سالہ کم عمر دعا زہرا کو اس غیرقانونی حراست سے بازیاب کراکے والدین کے حوالے کرنے کا حکم دے۔

درخواست کے مطابق پنجاب ریسٹرن میرج ایکٹ 2016ء کے مطابق شادی غیر قانونی ہے۔

واضح رہے کہ پولیس نے چھ جون کو دعا زہرا کو سندھ ہائی کورٹ میں پیش کیا تھا، سات مئی کو دعا زہرا کی بازیابی کی درخواست سندھ ہائی کورٹ میں دائر کی گئی تھی۔ بعد ازاں عدالت نے دعا زہرا کو اپنی مرضی سے کسی کے بھی ساتھ جانے کی اجازت دی تھی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔