زمینی ممالیوں کی نصف اقسام کے جسموں میں پلاسٹک کا انکشاف

ویب ڈیسک  جمعرات 7 جولائ 2022
برطانیہ میں چھوٹے ممالیوں کی نصف سے زائد انواع میں مائیکروپلاسٹک کے آثار ملے ہیں جن میں یورپی سہہ بھی شامل ہے۔ فوٹو: نیوسائنٹسٹ

برطانیہ میں چھوٹے ممالیوں کی نصف سے زائد انواع میں مائیکروپلاسٹک کے آثار ملے ہیں جن میں یورپی سہہ بھی شامل ہے۔ فوٹو: نیوسائنٹسٹ

 لندن: سمندری جانداروں اور خود انسانوں کے بعد اب زمین پر گھومنے والے چھوٹے ممالیوں کی نصف سے زائد انواع میں اب پلاسٹک کے آثار پائے گئے ہیں۔

برطانوی ماہرین نے مختلف مقامات پر مختلف غذائیں کھانے والے لاتعداد ممالیوں کا جائزہ لیا اور ان کی نصف سے زائد تعداد میں پلاسٹک کے ذرات ملے ہیں جو ان کے فضلے میں بھی خارج ہو رہے تھے۔

تحقیق سے وابستہ پروفیسر فیونا میتھیوز نے جامعہ سسیکس کے شعبہ ماحولیات کے تحت یہ اہم مطالعہ کیا ہے۔ ’جنگلی حیات کے فضلے سے معلوم ہوا ہے کہ پلاسٹک ایسے مقامات تک بھی پہنچ چکا ہے جو انسانوں سے دور ہے۔ جنگلوں میں موجود چھوٹے ممالیے بھی اس سے متاثر ہو رہے ہیں۔

برطانیہ میں سات مقامات سے چھوٹے ممالیوں کے فضلے کے کل 261 نمونے لیے گئے اور انفراریڈ مائیکرو اسکوپی سے ان کا جائزہ لیا گیا۔ اس طرح سات میں سے چار انواع میں پالیمر طرز کا پلاسٹک موجود تھا۔ ان میں یورپی خارپشت، کئی اقسام کے چوہے اور دیگر جاندار شامل تھے۔

دوسرے مطالعے میں شہری علاقوں کے پاس رہنے والے جانوروں میں مائیکروپلاسٹک کی غیرمعمولی مقدار دیکھی گئی خواہ وہ سبزہ خور، ہمہ خور تھے یا صرف گوشت خور ممالیے تھے۔ ماہرین نے اس رحجان پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ یورپی خارپشت کی تعداد برطانیہ میں تیزی سے کم ہورہی ہے۔

تاہم پلاسٹک سے جانوروں میں کمی کے تعلق پر مزید تحقیق اور ثبوت جمع کرنا باقی ہیں۔ دوسری جانب جاندار پلاسٹک کھارہے ہیں اور پرندے اسی پلاسٹک سے اپنے گھونسلے بنارہے ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔