پاک افغان تجارت بڑھانے کیلیے کسٹم ڈیوٹی کم رکھنے پر اتفاق

احتشام مفتی  بدھ 6 جولائ 2022
بارڈر مشترکہ مارکیٹ کے قیام پر بھی دونوں جانب سے تجاویز، دیگر مسائل پر بھی مشاورت۔ فوٹو : فائل

بارڈر مشترکہ مارکیٹ کے قیام پر بھی دونوں جانب سے تجاویز، دیگر مسائل پر بھی مشاورت۔ فوٹو : فائل

کراچی: پاکستان اور افغانستان کے درمیان باہمی تجارت کے حجم میں اضافے کیلیے کسٹم ڈیوٹی کی شرح کم سے کم رکھنے پر اتفاق ہوگیا۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان باہمی تجارت کے حجم میں اضافے کیلیے دونوں ممالک میں کسٹم ڈیوٹی کی شرح کم سے کم رکھنے اور چمن باب دوستی کو 24 گھنٹے باربرداری کے لیے کھلا رکھنے پر اتفاق ہوگیا۔ یہ باہمی اتفاق پاک افغان جوائنٹ چیمبر آف کامرس کے تحت چمن میں منعقدہ اجلاس میں ہوا جس کی صدارت جوائنٹ چیمبر کے سینئیر نائب صدر نیاز محمد خان خلجی نے کی۔

اجلاس میں افغانستان سے جوائنٹ چمبر آف کامرس کے نمائندے اور تاجرنمائندوں نے بھی خصوصی شرکت کی۔ اجلاس میں دونوں ممالک کے مصنوعات میں کسٹم ڈیوٹی کم سے کم رکھنے کی تجویز دی گئی تاکہ باہمی تجارت میں مزید اضافہ ممکن ہو۔ اجلاس میں باب دوستی کو 24 گھنٹے تجارت کیلیے کھلا رکھنے پر اتفاق کیاگیا۔

مزید برآں بارڈر مشترکہ مارکیٹ کے قیام پر بھی دونوں جانب سے تجاویز دی گئیں تاکہ افغانستان کے ساتھ کاروبار کرنے والے تاجروں کا کاروبار مکمل قانونی ہوسکے۔ اجلاس میں باہمی تجارت کیلیے دوسرا گیٹ کھلوانے کی غرض سے پاکستان اور افغانستان کی حکومتوں کو ٹھوس سفارش کرنے پر اتفاق کیا گیا تاکہ بارڈر پر ٹریفک کراسنگ سہل ہوسکے۔

افغانستان کی جانب سے پاکستان آنے والے تازہ پھلوں کی محکمہ کسٹم اور این ایل سی میں سست رفتار پراسیسنگ اور دوران ترسیل مختلف علاقوں میں غیر قانونی یونینز کے نام پر فی ٹرک11000روپے کی غیرقانونی وصولیوں جیسے مسائل کا ذکر کرتے ہوئے ان کے سدباب کے لیے مشاورت کی گئی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔