پنجاب میں 5 کروڑ پچاس لاکھ گھرانوں کو مفت بجلی دی جائے گی، وزیر اطلاعات

ویب ڈیسک  بدھ 6 جولائ 2022
(فوٹو: فائل)

(فوٹو: فائل)

 اسلام آباد: وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ پنجاب حکومت نے عوام کے لیے بجٹ 2022 میں روشن گھرانہ پروگرام شامل کیا تو عوام کو ریلیف دینے پر پی ٹی آئی کو اعتراض ہورہا ہے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مریم اونگزیب کا کہنا تھا کہ سابق دور میں کرپشن، چوری کرنے والوں کو اب عوام کو ریلیف ملنے پر تکلیف ہورہی ہے کیونکہ وہ قوم کو اسی کرب و اذیت میں مبتلا رکھنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب میں 100 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والوں کو بجلی کی قیمت سے استثنیٰ حاصل ہوگا، اس مد میں 100 بلین کا مجموعی بجٹ مختص کیا گیا ہے جس سے 43 لاکھ لوگ گرمیوں میں اور 87 لاکھ افراد سردیوں میں مستفید ہوں گے۔

وزیراطلاعات کا کہنا تھا کہ پانچ کروڑ 50 لاکھ اس ریلیف اسکیم میں آتے ہیں، سو یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والوں کے لئے پنجاب حکومت نے بجٹ میں روشن گھرانہ سکیم کے تحت یہ اسکیم متعارف کروائی، بجٹ دستاویز اس بات کی گواہ ہے کہ پنجاب حکومت نے 2022ء کے بجٹ میں یہ اسکیم شامل کی اور اس کے لئے فنڈ مختص کیا۔

انہوں نے کہا کہ سابق حکومت چار سال تک اپنی نالائقی، نااہلی اور چوری کے ذریعے ڈاکے ڈالتی رہی، جسے سے ملکی معیشت اور عوام کے روزگار کو تباہ کیا گیا، بزدار حکومت نے عوام کو کسی قسم کا ریلیف نہیں دیا۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ عمران خان کی حکومت ایک کروڑ نوکری اور پچاس لاکھ گھر کا خواب عوام کو دے کر بھاگ گئی، انہوں نے نوے دن میں کرپشن کے خاتمہ کا خواب دیا لیکن خود تاریخی ڈاکے ڈالے، کوئی شعبہ ایسا نہیں جس میں چوری، ڈاکوؤں، ہیروں اور جواہرات کی خریداری کی داستانیں نہ ہوں۔

اُن کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان چار سال تک ملک پر مسلط رہے، یہ وہی وزیراعظم تھا جو کہتا تھا کہ ڈالر کے نرخ اسے ٹی وی سے پتہ چلتے ہیں، عمران خان کہتے تھے کہ مہنگائی کم کرنا ان کا کام نہیں، وہ آلو، پیاز اور ٹماٹر کے ریٹ دیکھنے نہیں آئے اور آج  وہی شخص مہنگائی پر لیکچر دے رہا ہے جو خود مہنگائی کا ذمہ دار ہے۔

مریم اونگزیب کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان نے ماسٹر مائنڈ بشریٰ بی بی کی ہدایت پر بیرونی سازش کی بیانیہ گھڑا اور مخالفین کو غدار قرار دلوایا، عمران خان کا رویہ یہ ہے کہ کوئی ان پر الزامات لگائے یا کرپشن ثابت کرے تو وہ اسے غداری کے ساتھ جوڑتے ہیں، پہلے بھی انہوں نے سیاسی مخالفین کو سزائے موت کی چکیوں میں ڈالا، زبان بندی کی، بہنوں اور بیٹیوں کو جیلوں میں ڈالا، عمران خان کی وہی سوچ اور رویہ آج بھی جاری ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔