بھارت کی تاریخ میں پہلی مرتبہ حکمراں جماعت میں کوئی مسلمان وزیر شامل نہیں

ویب ڈیسک  جمعرات 7 جولائ 2022
—فائل فوٹو

—فائل فوٹو

نئی دہلی:  

بھارت میں اقلیتی امور کے وزیر مختار عباس نقوی کی جانب سے استعفیٰ دینے کے بعد ملک کی تاریخ میں پہلی دیکھنے میں آیا جب حکمراں جماعت میں کوئی مسلمان پارلیمنٹرین نہیں ہے۔ 

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق مختار عباس نقوی نے محض ایک روز قبل استعفیٰ دیا جب ان کی بطور رکن پارلیمنٹ (ایم پی) مدت ختم ہونے والی تھی۔

64 سالہ سیاستدان وزیر اعظم نریندر مودی کی ہندو قوم پرست بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) میں واحد مسلم وزیر تھے جس کے تقریباً 400 ارکان پارلیمنٹ ہیں۔

مختار عباس نقوی کا استعفیٰ ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب بی جے پی کو 2014 میں اقتدار میں آنے کے بعد سے اقلیتی برادری خصوصاً مسلمانوں کے خلاف پرتشدد کے الزامات کا سامنا ہے۔

بھارت میں انڈونیشیا اور پاکستان کے بعد دنیا کی تیسری سب سے بڑی مسلم آبادی (200 ملین) بھارت میں آباد ہے۔ مختار نقوی عباس کی جگہ اداکارہ سے سیاستدان بنی 46 سالہ سمرتی ایرانی نے لی ہے۔

 

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔