ناسا کا کیپ اسٹون سیٹلائٹ سے رابطہ بحال

ویب ڈیسک  جمعرات 7 جولائ 2022
(فوٹو: فائل)

(فوٹو: فائل)

واشنگٹن: امریکی خلائی ادارے ناسا نے بتایا ہے کہ چاند کے مدار کی تحقیق کے لیے بھیجا جانے والے اسپیس کرافٹ کا ادارے کے ساتھ رابطہ بحال ہوگیا ہے۔

بدھ کے روز خلائی ایجنسی کی جانب سے کہا کہ 3 کروڑ 27 لاکھ ڈالر کی لاگت سے بنائے گئے اسپیس کرافٹ سے پیر کے روز زمین کے مدار سے نکلنے کے بعد ایک کامیاب اور ایک جزوی رابطہ قائم ہوا جس کے بعد رابطہ ختم ہوگیا تھا۔

28 جون کو نیوزی لینڈ سے لانچ کیے جانے بعد یہ اسپیس کرافٹ تقریباً ایک ہفتے تک زمین کے گرد گھوما تھا۔

تقریباً 25 کلو گرام وزنی یہ مائیکرو ویو اوون جیسا سیٹلائٹ پہلا اسپیس کرافٹ ہوگا جو چاند کے گرد بیضوی مدار کی آزمائش کرے گا۔ یہ وہ مدار ہے جہاں ناسا اپنی گیٹ وے آؤٹ پوسٹ بھیجنا چاہتا ہے۔

گیٹ وے ایک ایسی جگہ کے طور پر کام آئے گا جہاں خلاء باز چاند کی سرزمین پر اترنے سے قبل رکیں گے۔

اس مدار میں زمین اور چاند کی کششِ ثقل متوازن ہے لہٰذا سیٹلائٹ یا اسپیس اسٹیشن کو زمین کے ساتھ مستقل رابطے میں رکھنے کے لیے معمولی حرکت کی ضرورت ہوتی ہے۔

 

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔