درآمدات پر پابندی غلط فیصلہ تھا، وزیر تجارت کا اعتراف

شہباز رانا  جمعرات 7 جولائ 2022
19 مئی کو وفاقی کابینہ نے 41 اشیا کی درآمد پر 2 ماہ کے لیے پابندی عائد کر دی تھی۔ فوٹو: فائل

19 مئی کو وفاقی کابینہ نے 41 اشیا کی درآمد پر 2 ماہ کے لیے پابندی عائد کر دی تھی۔ فوٹو: فائل

اسلام آباد: وفاقی وزیر تجارت سید نوید قمر نے کہا ہے کہ درآمدات پر پابندی غلط پالیسی فیصلہ تھا۔

وفاقی وزیر تجارت سید نوید قمر نے یہ اعتراف پالیسی ریسرچ انسٹیٹیوٹ آف مارکیٹ اکانومی ( پرائم ) کی جانب سے فریڈرچ نومین فاؤنڈیشن (ایف این ایف) پاکستان کے اشتراک سے منعقدہ تجارتی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ حال ہی میں ہم نے غلط سمت میں جاتے ہوئے درآمدات  پر پابندی عائد کردی مگر یہ قدم  انتہائی صورتحال میں اٹھایا گیا تھا۔ وزیرتجارت نے کہا کہ پابندی کی مدت  18جولائی کو ختم ہورہی ہے اور وہ اس میں توسیع کی مخالفت کریں گے، تاہم ان کا کہنا تھا کہ ہر چیز وزارت تجارت کے اختیار میں نہیں ہے۔

سیدنوید قمر کا کہنا تھا کہ  درآمدات پر  پابندی سے نقصان ہوا ہے اور  جلد یا بدیر  ہمیں پابندی کو ختم کرنا پڑے گا۔ 19  مئی کو وفاقی کابینہ نے  41 اشیاء کی درآمد پر دو ماہ کے لیے پابندی عائد کردی تھی۔

اس وقت اییکسپریس ٹریبیون نے رپورٹ کیا تھا کہ اب اس پابندی سے درآمداتی بل پر بمشکل 60کروڑ ڈالر کے مساوی  اثر پڑے گا۔ وفاقی  وزیرتجارت نے کہا کہ درآمدات پر پابندی کوئی دانشمندانہ فیصلہ نہیں  تھا مگر اس کا مقصد  درآمدات میں  وقتی طور پر کمی لانا تھا۔

وفاقی وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل درآمدات پر پابندی کے خلاف تھے  اور چاہتے تھے کہ  ریگولیٹری ڈیوٹی میں نمایاں اضافہ کردیا جائے۔ کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی  نے منگل کے روز  ان درآمدی اشیاء کی کلیئرنس کی اجازت دے دی تھی جو  30جون تک درآمد کی گئی ہوں۔

 

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔