فلسفہ قربانی اور ہمارے متشدد رویے

شہناز احد  ہفتہ 16 جولائ 2022
یہ سب جاہلانہ، قاتلانہ حرکات ہمارے سماج ہی میں کیوں ہوتی ہیں؟ (فوٹو: فائل)

یہ سب جاہلانہ، قاتلانہ حرکات ہمارے سماج ہی میں کیوں ہوتی ہیں؟ (فوٹو: فائل)

دن کا آغاز ایک کرم فرما کی بھیجی ہوئی اس ویڈیو سے ہوا ہے، جس میں بہادر آباد کی گلیوں میں ایک بپھرا ہوا بھینسا راہ میں آنے والی ہر شے کو روندتا ہوا ادھر سے ادھر دوڑ رہا ہے۔ ایک صاحب اس پر فائرنگ کا شوق پورا کررہے ہیں اور ویڈیو بنانے والے کمنٹری کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں
’’پیچھے کی ٹانگوں میں گولی لگی ہے اب گرجائے گا‘‘۔

بھینسا نہیں گرتا۔ فائرنگ کا سلسلہ ایک تواتر سے جاری رہتا ہے، گولیاں اس کے جسم کے مختلف حصوں پر لگ رہی ہیں، پیٹ پھٹ گیا ہے اور اندر کا مال ابل ابل کر سڑک پر گر رہا ہے۔ بھینسا اب بھی بھاگ رہا ہے۔ گلی میں خون کی دھار بہہ رہی ہے۔ بھاگتے بھاگتے بھینسا ویڈیو بنانے والے کی حد سے باہر نکل جاتا ہے۔

صبح کا آغاز اس خونیں ویڈیو کےساتھ ہونے کے بعد سے میرے دل پر کیا گزری یا گزر رہی ہے، اسے جانے دیجئے۔ آفت تو اس ایک سوال نے ڈھائی ہوئی ہے جو صبح سے میرے اندر کنڈلی مارے بیٹھا ہے اور تھوڑی تھوڑی دیر بعد سر اٹھا کر پوچھتا ہے ’’کیا یہ قربانی ہے؟ اگر ہے تو کیا جائز ہے؟‘‘

جس قربانی کےلیے جانور کی عمر، قد کاٹھ سے لے کر چال ڈھال تک کی وضاحت ہو اور جانور کو لٹانے، بٹھانے، کھلانے تک کی ہدایت دی گئی ہو اور باربار اس بات کا اعادہ کیا جائے کہ حکم قربانی دینے والے کو ہمارے گوشت اور خون بہا کی ضرورت نہیں۔ وہ تو ہمیں محبت اور صلۂ رحمی سکھانا چاہتا ہے۔ اس ہدایت کی روشنی میں ایک بے زبان جانور کو گولیوں سے چھلنی کرنے کے بعد ہم فلسفہ قربانی کے کس عہدے پر کھڑے ہیں؟

گزشتہ کئی برسوں سے قربانی کے نام پر وحشت زدگی کے یہ واقعات ایک تواتر سے ہورہے ہیں۔ سال گزشتہ بھی ایسے ہی بپھرے ہوئے جانوروں کو گولیوں سے چھلنی کردینے کی ویڈیوز سامنے آئی تھیں؟ کیا اِن بے زبان جانوروں کو قابو کرنے کا کوئی اور طریقہ نہیں تھا؟

وہ جو میرے اندر کنڈلی مارے بیٹھا ہے ناں، وہ ہر بار یہ بھی پوچھتا ہے کہ جب جانور سنبھالنے کی استعداد نہیں تو منوں، ٹنوں وزن کے جانور خریدتے کیوں ہیں؟ اس قربانی ہی کے نام پر ہر سال اناڑی قصائی اونٹوں اور گائیوں کا جو حشر کرتے ہیں وہ بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ کیا مالک کائنات نے قربانی کا اس لیے کہا ہے کہ ایک جیتے جاگتے وجود کو ہم بزور ڈنڈے، چھریاں، گولیاں مار کر پہلے ادھ موا کردیں اور پھر اللہ اکبر کہہ کر چھری پھیر دیں؟

مجھے پتہ ہے مالک کائنات ظالم نہیں، وہ تو قدم قدم پر محبت اور صلۂ رحمی کی ہدایت دیتا ہے۔ ایسے موقعوں پر میں اکثر یہ بھی سوچتی ہوں کہ یہ سب جاہلانہ، قاتلانہ حرکات ہمارے سماج ہی میں کیوں ہوتی ہیں؟

سعودی عرب، جہاں ہر سال لاکھوں جانور قربان کیے جاتے ہیں۔ ان کے اونٹ، بھینسے، بیل، گائیں بے قابو ہوکر کیوں نہیں بھاگتیں؟ ان کی سڑکیں، گلیاں خونِ قرباں سے لالوں لال کیوں نہیں ہوتیں؟ یہ سب ہمارے شہروں میں کیوں ہوتا ہے؟ بارش کا پانی اور خون قرباں ایک دوسرے کے گلے مل کر خون کے دریا کا منظر پیش کر رہے ہوتے ہیں۔ یہ خونیں منظر کسی اور اسلامی ملک میں دیکھنے کو کیوں نہیں ملتا؟ نہ ہی قربان جانوروں کی باقیات شاہراہوں، شاہراہوں گھومتی، مچلتی، سڑتی نظر آتی ہیں۔ ہم جو خود کو خادم رسول، عاشق رسول کہتے ہیں، ہماری گلیوں میں یہ باقیات کئی دنوں تک تعفن اٹھاتی رہتی ہیں اور ہم ٹخنے کھولے ان کے دائیں بائیں سے کود، کود کر نکل رہے ہوتے ہیں۔

وہ جو اندر کنڈلی مارے بیٹھا ہے ناں، اس نے ابھی ابھی یہ بھی پوچھا ہے کہ یہ بتاؤ فریضہ مذہب کی ادائیگی کے نام پر جانوروں کی جو بے حرمتی ہوتی ہے وہ تو اپنی جگہ ہے ہی ظالمانہ اقدام، لیکن یہ عین عید کے دن سعید آباد کے رہتے بستے گھر میں گھس کر چار معصوم بچوں کے سامنے ان کے والدین کو گولیوں سے بھون ڈالنا کیا ہے؟ اور گلشن اقبال کے بھرے پرے گھر میں چار بچوں کی ماں کی سانسوں کو گھونٹ ڈالنا، اس پر بھی دل شاد نہ ہو تو بعد ازاں اس کے جسم کو ٹکڑے ٹکڑے کرکے چولہے پر چڑھا دینا… یہ سب کیا ہے؟

کم بخت کو سوال کرنے کی تو اتنی عادت ہے ناں! اب بار بار یہ بھی پوچھ رہا ہے کہ تم کو اشرف المخلوق ہونے کا دعویٰ ہے، اتنی بڑی بڑی باتیں کرتے ہو، صلۂ رحمی اور حسن سلوک کے درس دیتے ہو لیکن دو معصوم بھوکے بچوں کو بنا اجازت فریج سے کھانا لینے کی پاداش میں مار مار کر ادھ موا کر دیتے ہو۔ ان میں سے ایک جو زیادہ غیرت مند تھا اس نے تو ’’تف‘‘ کہہ کر دنیا سے منہ ہی موڑ لیا۔

ابھی بات پوری بھی نہ ہوئی تھی کہ پھر سر اٹھایا اور پوچھا ’’یہ حیدرآباد اور اس کے گردونواح میں کیا ہورہا ہے؟‘‘

میں نے گھورتے ہوئے کہا ’’ہمارا کیا تعلق ہوٹل والوں اور گاہکوں کا جھگڑا ہے۔ ہوتا رہتا ہے۔‘‘ میری بات سن کر اس نے مسکراتے ہوئے سر کنڈل میں کرلیا۔ تب ہی ایک اور ویڈیو موصول ہوئی جس میں نوجوانوں کا ایک غول، ایک ہوٹل کے سامنے کھڑا، مالک ہوٹل کو فوری طور پر ہوٹل بند کرنے اور جگہ چھوڑنے کا مشورہ دے رہا ہے۔ اس سے قبل بھی ایک ویڈیو آئی تھی اس کا انداز زیادہ جارحانہ تھا۔

وہ جو میرے اندر کنڈلی مارے بیٹھا ہے، اس کو تو میں نے ڈانٹ ڈپٹ کر خاموش کردیا ہے۔ لیکن یہ سوال تو اپنی جگہ پھن اٹھائے کھڑا ہے کہ ہم کون ہیں؟

کیا میری طرح آپ سب لوگ بھی صبح و شام کے درمیان، سورج نکلتے، ڈوبتے، چاند تاروں کو چمکتے، ہوا کو سرسراتے اور بادلوں کو برستے دیکھ کر سوچتے ہیں کہ ہم کون ہیں؟

ہم کون ہیں؟ سے میری مراد اس کرۂ ارض پر آباد چلتی، پھرتی، جیتی، جاگتی ان تمام اقوام سے ہے جو کائنات کا حسن ہیں اور ان ہی کے دم سے کائنات آباد ہے۔

میں سوچتی ہوں اور خود سے سوال کرتی ہوں کہ قوموں کی اس رنگارنگی میں ہم کون ہیں؟ ہم ہی وہ حضرت انساں ہیں جس کےلیے یہ کائنات بنائی گئی ہے، یا ہم جانوروں کی مختلف اقسام میں سے کوئی قسم ہیں؟ یا درمیان کی کوئی شے ہیں؟ یا بنانے والے سے کوئی بھول چوک ہوگئی ہے اور اس کے نتیجے میں یہ آدھی ادھوری قوم کائنات میں اپنے رنگ دکھا رہی ہے۔

گزشتہ دو ہفتوں سے بے وقتی مون سون شروع ہونے کا شور پڑا ہے اور قبل از وقت شروع ہونے والے مون سون کے اثرات اور نتائج بھی پڑوسی ملکوں میں آبادیوں کے بہہ جانے، پلوں کے ٹوٹنے، مٹی کے تودے گرنے، سڑکوں کے غائب ہوجانے، بجلی، پانی اور غذائی اجناس کی قلت کی شکل میں عوام سے لے کر حکومت وقت، وزرا، فقرا سب دیکھ رہے تھے اور دیکھ رہے ہیں۔

لیکن من حیث القوم ہم نے کیا کیا؟

حکومت وقت، وزرا اور فقرا کو کرسیوں کے کھیل اور ہڈیوں پر لڑنے سے فرصت نہیں اور ہمیں بحیثیت عوام شعور نہیں۔

ایسے میں اگر سب سے زیادہ ٹیکس دینے والا اور حکومتوں کو پالنے والا آدھا کراچی بہہ جائے، پورا ٹھٹھہ غائب ہوجائے، بلوچستان کے پنجگور، گوادر، جعفرآباد، لسبیلہ اور بہت سے چھوٹے شہر صفحہ ہستی سے مٹ جائیں، جہلم دریا برد ہوجائے، گجرات، گوجرانوالہ نہ رہیں، پنڈی کو نالہ لئی نگل لے، اٹک، دیر، تخت بائی، مردان کو پہاڑی تودے چھپالیں تو حکومت وقت، ان کے وزرا، فقرا سمیت نہ کسی کا جگر پھٹے گا، نہ کلیجہ منہ کو آئے گا، نہ دل بند ہوگا۔ یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ ان میں سے کسی کی زندگی کا چاند سورج نہیں گہنائے گا۔

یہ بغلیں بجائیں گے اور گانے گائیں گے کہ ’’چلو پھر سے نئ بستیاں بسائیں اور کھائیں کمائیں‘‘۔

کوئی بتلاؤ کہ قوموں کی درجہ بندی میں ہم کون ہیں؟

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

شہناز احد

شہناز احد

بلاگر صحافتی و سماجی تنظیموں سے وابستہ اور کڈنی فاؤنڈیشن آف پاکستان کی عہدے دار ہیں۔ سماجی مسائل اور خاص طور پر صحتِ عامہ سے متعلق موضوعات پر لکھتی ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔