کتے بلیوں کے ’درآمدی کھانے‘ اور عوام کی چائے!

رضوان طاہر مبین  اتوار 10 جولائ 2022
احسن اقبال نے عوام کو چائے کا ایک کپ کم کرنے کا مشورہ دیا تھا، فوٹو: فائل

احسن اقبال نے عوام کو چائے کا ایک کپ کم کرنے کا مشورہ دیا تھا، فوٹو: فائل

 کراچی: وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے 14 جون 2022ءکو قوم سے چائے کی ایک ایک، دو، دو پیالیاں کم کرنے کا کہہ کر گویا چائے کی پیالی میں طوفان اٹھا دیا۔ عوام کی جانب سے شدید ردعمل آیا، تو وہیں حیلے بہانوں اور اگر، مگر کر کے اپنی اپنی جماعتوں کے راگ الاپنے والے لیکھک میں سے نواز لیگ والے بھی سامنے آئے، کہنے لگے کہ دیکھیے، ایک اتنی مناسب اور اچھی بات کا کیسے بتنگڑ بنا دیا۔

ارے بھئی کیوں نہ بنائیں، بات صرف اس بیان کی نہیں، حکومت کے پورے مزاج کی ہے۔ ابھی مئی 2022ءمیں جب خالی خزانے کی بقا کی خاطر بجا طور پر پُرتعیش چیزوں کی درآمد پر پابندی عائد کی گئی، تو اس میں پالتو جانوروں کتے، بلیوں کی ’درآمدی خوراک‘ بھی شامل تھی۔ اس پر چھے جون 2022ءکو ایک نجی ٹی وی کی سابق ’خبر خواں‘ اور حالیہ دنوں میں سیاسی مذاکروں کی میزبانی کرنے والی معروف خاتون غریدہ فاروقی صاحبہ نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ’ٹوئٹر‘ پر وزیراعظم شہباز شریف سے گریہ فرمایا کہ ”پابندی کو دو ہفتے ہونے کو ہیں، وزیراعظم ’بے زبانوں کی آواز سن لیجیے!“

یہاں یقیناً آپ محو حیرت ہوں گے، کہ جس دیس میں عام انسان بھوک سے مر رہے ہیں، کرپٹ حکم رانوں اور بااثر حلقوں کی لوٹا ماری کے سبب قومی خزانہ خالی ہے، ملک کا دیوالیہ نکلنے کا سانحہ سر پر ہے۔ ملک چلانے کو کہیں سے قرضہ نہیں مل رہا، ایسے میں ’صحافت‘ کے شعبے میں موجود یہ خاتون کیسے ’جانوروں‘ کے لیے درآمدی اشیا کی طلب جیسے ”اہم ترین“ مسئلے پر آہ وزاری میں مصروف ہیں۔۔۔

Gharedah twitter 1

مگر بات ابھی ختم نہیں ہوئی۔ جنابہ غریدہ فاروقی کی اس ’دل دوز‘ فریاد کو ’ملکہ‘ معاف کیجیے گا، محترمہ مریم نواز نے فوراً اُچک لیا، کیوں کہ وہ ہماری مورثی سیاست کے ”اصولوں“ کے تحت حکم راں جماعت کی ایک ’شہزادی‘ ہی کی سی حیثیت رکھتی ہیں اور اپنے والد نواز شریف کے بعد ’نواز لیگ‘ کا ’مستقبل‘ تصور کی جاتی ہیں، انھی کے چچا اب وزیراعظم پاکستان ہیں، سو انھوں نے محترمہ غریدہ فاروقی کی اس فریاد کو اپنے ’ٹوئٹر‘ پر نہ صرف چپکایا، بلکہ وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسمعیل صاحب کو متوجہ کرتے ہوئے یہ ’شاہی فرمان‘ بھی جاری فرمایا کہ اس اہم ترین معاملے کو فوری دیکھا جاوے! (یہ ذرا سی بھی مذاق کی بات نہیں، ہم نے ’ٹوئٹر‘ پر خود اس کی تصدیق کی ہے) اس حکم پر ”فریادی“ نے ’شہزادی‘ کی ’رحم دلی‘ کا شکریہ ادا کیا، جس پر ’شہزادی‘ نے کمال عاجزی سے لکھا کہ ”غریدہ، یہ تو میری ذمہ داری ہے!“

اب آجائیے اس واقعے کے پورے آٹھ دن بعد وفاقی وزیر احسن اقبال کے عوام کو چائے کم کرنے کے بھاشن اور اس پر ہونے والی باتوں پر احسن اقبال کی بات واقعی غلط نہیں، لیکن یہ بات تو وہ حاکم کرے، جو پہلے خود خرچے کم کرکے سادہ ہو کر دکھائے، ایک طرف ’نواز لیگ‘ کی شاہ زادی مریم نواز کتے بلیوں کی ’امپورٹڈ غذا‘ غم میں ہلکان ہوئے جاتی ہیں، تو دوسری طرف ان کا وزیر سخت گرمی میں سوٹڈ بوٹڈ کھڑے ہو کر عوام کو نصیحت کرتا ہے کہ ایک، ایک دو دو چائے کم کر دو، بچت ہوگی۔۔۔!

Gharedah twitter 2

ارے ہوگی سرکار، ضرور ہوگی! لیکن پہلی بات تو یہ ’غیر عوامی‘ بات کرنے والے سمجھ لیں کہ یہاں چائے عیاشی بالکل نہیں۔۔۔! یہ اس ملک کے نچلے اور محنت کش طبقے کا ایک ایسا مشروب ہے کہ جس سے وہ بے چارے اپنی دن بھر کی تھکان اتار لیتے ہیں، دُہری اور تہری ملازمتیں کرنے والے متوسط طبقے کے افراد جب نیند بھگانا چاہتے ہیں، اپنے دماغ کو چاق وچوبند کرنا چاہتے ہیں تو اس ایک پیالی چائے کے سہارے وہ کچھ دیر کو مزید توانائی پا لیتے ہیں۔۔۔! اور سنیں گے؟ یہاں کتنے ہی فاقے مارے تو ایک پیالی چائے پیٹ میں ڈال کر معدے کا دھیان کھانے سے بٹانے کی کوشش بھی کرتے ہیں۔۔۔! اس لیے جان لیجیے کہ عوام کو چائے کی ’عیاشیوں‘ کا ایسا کوئی شوق نہیں اور یقیناً ایسا کرنے والے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے شہری، ملک کے پرتعیش طبقے کے درآمدی غذائیں کھانے والے کتے بلیوں سے کم ازکم ہزار گنا افضل ہیں۔ جن کتے بلیوں کے لیے خالی خزانے میں بھی اتنی زیادہ اہمیت ہے کہ قوم کو دو وقت کے کھانے کے لالے پڑ رہے ہیں، لیکن حکم راں جماعت کی نائب صدر اپنے وزیر خزانہ کو حکم دیتی ہیں کہ باہر ملک سے پالتو کتے بلیوں کے کھانا منگوانے کے لیے کچھ انتظام ہو۔۔۔!

یہ نام نہاد جمہوریت کے نام پر ہم پر مسلسل مسلط حکم راں اشرافیہ کی اصلیت ہے کہ وہ ہمیشہ عوام کا خون نچوڑتے ہیں، کبھی ”قرض اتارو ملک سنوارو“ جیسے انقلابی التباس کے پیچھے لگا کر کہ قوم کے لیے سب واری واری جاتے ہیں کہ چلو کسی نے تو پتے کی بات کی کہ ملک کا قرضہ اترے گا تو ہم ترقی کریں گے۔۔۔! لیکن یہاں صرف سیاست دانوں، بیوروکریسی، جرنیلوں، ججوں اور ان کا ساتھ دینے والے نام نہاد صحافیوں ہی کی ”ترقی“ ہوئی۔ جب 50 ہزار تنخواہ لینے والا صحافی 50 لاکھ کی گاڑی میں سے اترتا ہے، تو پھر دنیا دیکھتی ہے کہ آخر یہ ’خبریں‘ دینے کے اس سادہ اور نہایت کٹھن سے پیشے میں ایسا کون سا ہُن برس رہا ہے اور دوسری طرف ہم جیسے ”ناکام صحافی“ ہیں کہ اسی صحافت میں 10، 10برس کھپا کر آج بھی وہی ہر مہینے اپنے دفتر سے ملنے والی محدود سی تنخواہ کے انتظار میں سوکھتے رہتے ہیں، اور زندگی کے کسی بھی ہنگامی اور غیر معمولی اخراجات کے لیے ہر بار مشقتوں کے نت نئے پاپڑ بیلنے ہیں!!

اگر دیکھا جائے، تو وفاقی وزیر احسن اقبال نے اپنے وزیراعظم شہباز شریف ہی کی سوچ کی پیروی کی ہے، جنھوں نے کچھ دن قبل ارشاد فرمایا تھا کہ انھوں نے دوسرے ممالک کے حکم رانوں سے کہا کہ ”میں آیا ہوں، تو آپ یہ سمجھیں گے کہ میں مانگنے آگیا، میں مانگنے نہیں آیا، لیکن مجبوری ہے، جس طرح 75 سالوں میں آپ نے ہمارا ہاتھ بٹایا ہے، کچھ عرصے اور ہاتھ بٹالیں، میں وعدہ کرتا ہوں کہ ہم پوری قوم مل کر دن رات محنت کریں گے، پسینا گرائیں گے اور اپنے پاﺅں پر کھڑے ہوں گے۔۔۔“

معزز ’منتخب‘ وزیراعظم کا یہ بیان دیکھیے، تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ شاید اس ملک میں سارا مسئلہ ہی عوام کی ’ہڈ حرامی‘ کا ہے، جب کہ سارے حکم راں اور راہ نما ملک کے غم میں ہلکان ہیں، مگر قوم ہے سارا سار دن گھر پر پڑی اینڈھتی رہتی ہے، کوئی کام کاج ہی نہیں کرتی کہ ملک چلے۔۔۔؟؟ اب جہاں وزیراعظم کے منصب پر فائز شخص ایسی باتیں کرتا ہو، وہاں اس کے وزیر احسن اقبال اور اس کی بھتیجی اور اس کی سیاسی جماعت کی نائب صدارت پر فائز خاتون یہ سب کیوں نہ کرے۔۔۔

ہم احسن اقبال صاحب، سے بہ صد احترام یہ عرض کرنا چاہیں گے کہ آپ حاکم ہیں، عوام ملک کے لیے چائے کیا، پانی پینا بھی کم کر دے، لیکن پہلے خود اپنی سطح پر اخراجات گھٹائیے، اور قوم کو دکھائیے کہ آپ اورآپ کا درجن بھر جماعتوں کا اتحاد محض اپنے مقدموں میں سہولت پانے اور انھیں ختم کرانے نہیں آیا، بلکہ آپ اس بار واقعی کچھ کرنا چاہتے ہیں، ورنہ اس ملک میں پون صدی سے عوام ہی بار بار دھوکا کھاتے آئے ہیں۔۔۔ اب یہ سلسلہ ختم ہونا چاہیے!

 

 

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔