کورونا فالج کے مریضوں کی صحت یابی کے امکانات کم کرتا ہے، تحقیق

ویب ڈیسک  ہفتہ 30 جولائ 2022
(فائل: فوٹو)

(فائل: فوٹو)

نیو جرسی: ایک نئی تحقیق میں معلوم ہوا ہے کہ فالج کے وہ مریض جو کورونا میں مبتلا ہوتے ہیں ان کےفالج سے صحتیابی کے امکانات بہت کم ہوتے ہیں۔

امریکا کے محققین نے یورپ اور شمالی امریکا کے فالج کے مریضوں کے دو گروہوں کا مطالعہ کیا۔ ان گروہوں میں سے ایک کورونا سے متاثر تھا جبکہ دوسرا کورونا سے متاثر نہیں تھا۔ تحقیق میں معلوم ہوا کہ کورونا سے متاثرہ گروپ نسبتاً عمر میں چھوٹا تھا اور ان میں دماغ کی شریان پھٹنے کے خطرات بھی کم تھے، پھر بھی ان کی شرح اموات زیادہ تھی۔

تھامس جیفرسن یونیورسٹی میں نیورولوجیکل سرجری کے پروفیسر پاسکل جیبور کی رہنمائی میں کی جانے والی تحقیق میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ کووڈ کے شکار گروپ کو 2.5 گُنا زیادہ ناساز گار نتائج اور فالج کے بعد صحتیابی میں مشکلات کا سامنا تھا۔

پاسکل جیبور کا کہنا تھا کہ کووڈ کے متعلق ابھی بہت کچھ ہے جو ہمیں جاننے کی ضرورت ہے بالخصوص اس کے کم عمر مریضوں پر اثرات۔ کووڈ کے شکار کسی فرد پر فالج کے اثرات تشویش ناک ہیں اور ہمیں اس پر تحقیق اور اس کے علاج کی تلاش جاری رکھنی ہوگی۔

فالج، خون کی گردش میں اچانک خلل پڑنا، ایک پیچیدہ مسئلہ ہے جس کے متعدد اسباب ہیں۔قلبی مسائل، کولیسٹرول کی وجہ سے بند شریانیں یا نشہ آور اشیاء کا استعمال اس بیماری کا سبب ہوسکتا ہے۔ معمولی فالج اکثر مستقل نقصان نہیں پہنچاتے ہیں اور 24 گھنٹوں خود ہی ٹھیک ہی ہوسکتے ہیں جبکہ فالج کا غیر معمولی دورہ تباہ کن ہوسکتاہے۔

اس تحقیق میں 575 ایکیوٹ لارج ویسیل اوکلژن کے مریضوں کے ڈیٹا کا جائزہ لیا گیا۔ ان میں 194 کووڈ سے متاثر مریض تھےجبکہ 381 ایسے مریض تھے جن کو کورونا نہیں تھا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔