کراچی میں ڈکیتوں کا راج، مزاحمت پر ڈلیوری بوائے قتل، پولیس اہلکار سمیت کئی زخمی

اسٹاف رپورٹر  پير 1 اگست 2022
نارتھ کراچی اور مچھر کالونی میں ڈکیتی میں مزاحمت پر اے ایس آئی سمیت 2 افراد زخمی ہوئے۔ (فوٹو فائل)

نارتھ کراچی اور مچھر کالونی میں ڈکیتی میں مزاحمت پر اے ایس آئی سمیت 2 افراد زخمی ہوئے۔ (فوٹو فائل)

 کراچی: شہر قائد میں ڈکیتیوں کی وارداتوں میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے جب کہ لوٹ مار کے دوران مزاحمت پر فائرنگ کرنے کے واقعات بھی بڑھتے جا رہے ہیں، جس سے جرائم پیشہ افراد کی بے خوفی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ناکامی ظاہر ہوتی ہے۔

کراچی میں سپرہائی وے پر ڈاکوؤں نے لوٹ مار کی وارداتوں کے دوران فائرنگ کر کے آن لائن ڈلیوری رائیڈر کو قتل اور ایک شخص کو زخمی کردیا۔ اُدھر نارتھ کراچی اور مچھر کالونی میں ڈکیتی کی مختلف وارداتوں میں مزاحمت پر اے ایس آئی سمیت 2 افراد زخمی ہو گئے۔

ذرائع کے مطابق سپرہائی وے پر 48 گھنٹوں کے دوران ڈاکوؤں نے وارداتوں میں 2 افراد کی جان لے لی جب کہ 6 افراد کو فائرنگ کر کے زخمی کردیا۔ گلشن معمار کے علاقے سپرہائی وے افغان کٹ کے قریب اتوار اور پیر کی درمیانی شب تقریباً 4 بجے ڈاکوؤں نے لوٹ مار کے دوران مزاحمت کرنے پر فائرنگ کر کے ایک شخص کو جاں بحق کر دیا اور ،موقع سے فرار ہوگئے ۔

ترجمان کراچی پولیس کے مطابق مقتول کی شناخت 38 سالہ شہاب بہادر ولد شیر افضل خان کے نام سے کی گئی ، جو گلستان جوہر پہلوان گوٹھ کا رہائشی اور آن لائن ڈلیوری رائیڈر تھا ۔ ایس ایچ او گلشن معمار کے مطابق مقتول کے ورثا نہیں آئے، جس کے باعث لاش ضابطے کی کارروائی کے بعد سردخانے منتقل کر دی گئی ہے ۔

علاوہ ازیں سچل کے علاقے سپرہائی وے جمالی پل کے قریب ڈاکوؤں نے لوٹ مار کی واردات کے دوران مزاحمت کرنے پر فائرنگ کر کے ایک شخص کو زخمی کر دیا اور لوٹ مار کر کے فرار ہوگئے ۔ پولیس کے مطابق زخمی کی شناخت نور خان ولد انار گل کے نام سے ہوئی۔

دریں اثنا اتوار کی شب نارتھ کراچی سیکٹر فائیو سی ٹو میں ہیئر ڈریسر کی دکان پر نامعلوم مسلح افراد نے لوٹ مار کی واردات کے دوران مزاحمت کرنے پر فائرنگ کردی ، جس سے 40 سالہ اسسٹنٹ سب انسپکٹر (اے ایس آئی) عادل ولد محمود زخمی ہوگیا۔

ڈاکس کے علاقے مچھر کالونی میں بھی ڈکیتی کے ایک دوسری واردات کے دوران مزاحمت پر شہری زخمی ہوگیا۔ 20 سالہ عمران ولد ابوالکلام کو فوری طور پر سول اسپتال لے جایا گیا ۔ پولیس کے دونوں واقعات کی تحقیقات شروع کردی ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔