مچھلیوں کے کچرے سے برقی آلات کے بنیادی اجزا بنانے میں کامیابی

ویب ڈیسک  جمعرات 4 اگست 2022
جاپانی ماہرین نے مچھلیوں کے چھلکے سے برقی آلات کا خام مال سی این او ایس بنانے کا کامیاب عملی مظاہرہ کیا ہے۔ فوٹو: فائل

جاپانی ماہرین نے مچھلیوں کے چھلکے سے برقی آلات کا خام مال سی این او ایس بنانے کا کامیاب عملی مظاہرہ کیا ہے۔ فوٹو: فائل

 ٹوکیو: جاپان میں ناگویا انسٹی آف ٹیکنالوجی کے ماہرین نے مچھلیوں کے بچے کچھے فضلے سے بلند معیار کی کاربن نینو انیئن (سی این او ایس) بنائی ہے جو ایل ای ڈی روشنیوں اور کیوایل ای ڈی ڈسپلے کی کم خرچ تیاری میں استعمال ہوسکتی ہیں۔

سی این او ایس کاربن پر مشتمل ایسے نینو مادے ہوتے ہیں جو کیمیائی طور پر مستحکم اور کم زہریلے ہوتے ہیں۔ ان میں شاندار برقی اور بصری خواص ہوتے ہیں۔ ان کی سطحی کا رقبہ وسیع ہوتا ہے اور برقی خواص کا حامل ہوتا ہے۔ لیکن انہیں بنانے کے لیے بہت پاپڑ بیلنے پڑتے تھے جن میں بلند درجہ حرارت اور ویکیوم درکار ہوتا ہے۔

گرین کیمسٹری جرنل میں شائع رپورٹ کے مطابق صرف دس سیکنڈ میں مچھلی کے فضلے سے سی این او ایس بنائے جا سکتے ہیں۔ بالخصوص مچھلیوں کے جلد کے چھلکے سے کاربن نینو مٹیریئل کی تیاری سیکنڈوں میں ممکن بنائی گئی۔ اس ضمن میں مائیکرویو پائرولائسِس کا کردار اہم ترین ہے۔

لیکن اب بھی سائنسداں اس کی پشت پر موجود اصل حقیقت کھوجنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ خیال ہے کہ مائیکروویو کے عمل میں مچھلیوں کے چھلکے حرارت جذب کرکے تیزی سے گرم ہوتے ہیں جس سے ’حرارتی انحطاط‘ یعنی تھرمل ڈی کمپوزیشن ہوجاتی ہے اور سی این او بننے لگتے ہیں۔ اس طرح پورے عمل میں دس سیکنڈ لگتے ہیں اور کسی نئے مادے یا مزید گرمی کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اس طرح سی این او کی تشکیل کا ایک نیا کم خرچ نسخہ ہمارے ہاتھ آگیا ہے۔

مچھلیوں سے بنے سی این او ایس سے نیلی روشنی بھی خارج ہوتے دیکھی گئی جن سے ڈسپلے اور ایل ای ڈی بنائی جاسکتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسے ایک اہم دریافت قرار دیا جارہا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔