ساتھ کھیلنے والے بہن بھائی بڑے ہو کر کیسے لڑنے لگتے ہیں؟

رضوان طاہر مبین  اتوار 17 جولائ 2022
فوٹو: فائل

فوٹو: فائل

 کراچی: یہ چھٹی والا دن تھا، دوپہر کے بعد گلی میں کچھ ’کھٹ پٹ‘ سنائی دی، ایسا معلوم ہوا کہ جیسے کسی کے ہاں کوئی جھگڑا وگڑا ہو رہا ہے۔ ارے، یہ کیا؟ یہ تو مرحوم حاجی صاحب کے گھر سے آوازیں آرہی ہیں۔

حاجی صاحب کا دو سال پہلے انتقال ہوا، اب دو چھوٹے بیٹے یہاں رہتے ہیں۔ اس وقت ان کی بہن اپنے شوہر کے ساتھ آئی ہوئی ہے اور والد کے گھر میں سے اپنے حصے کا مطالبہ کر رہی ہے۔ بھائی اس حوالے سے کچھ تامل اور کوئی عذر رکھتے ہیں، جس کی بنا پر اب آوازیں اونچی ہو رہی ہیں، بات پاس پڑوس کے گھروں تک پہنچ رہی ہے، گلی میں بھی لوگ جمع ہو رہے ہیںجو باہر نہیں آئے، وہ اپنی کھڑکی اور برآمدوں سے ’تماشا‘ دیکھنے میں محو ہیں، جیسے کوئی ’منچ‘ لگا ہوا ہو اور اس پر کوئی ’ڈراما‘ دکھایا جا رہا ہو، یا پھر کسی پردے پر کسی نوٹنکی کا کوئی منظر ہو۔

باتیں بھی تو وہی گھریلو جھگڑے کی ہیں، اس لیے کم ہی دل ہیں، جو اس پر افسوس کر رہے ہیں، ان میں سے بھی کچھ ہی ہیں، جو گھر کی بات گھر میں کرنے کا مشورہ دے رہے ہیں، چار دیواری کی بات کو چار دیواری ہی میں حل کرنے کے لیے کہہ رہے ہیں، لیکن فریقین بہت برہم ہیں، اختلافات زیادہ ہیں، دلوں میں فاصلے بڑھے ہوئے ہیں، اس لیے نہ سمجھانے والے کی بات میں نرمائی ہے اور نہ سمجھنے والے کو اعتبار۔۔۔

اب ذرا یہ دیکھیے، یہ تو حد ہی ہوگئی! بھائی تھانے سے پولیس کو لے آیا ہے کہ میری بہن گھر پر قبضہ کر کے بیٹھ رہی ہے، اسے باہر نکالو۔ بہن کہتی ہے کہ ایسے کیسے؟ یہ تو میرے باپ کا گھر ہے! پولیس اہل کار کا مشورہ بھی یہی ہے کہ آپ گھر میں ہی یہ معاملہ حل کریں، حل نہیں ہوتا، تو عدالت چلے جاﺅ، ورنہ ہم ایسے کیسے تمھاری بہن کو باہر نکال سکتے ہیں۔

یہ سارا منظر اپنے گھر کی کھڑکی سے اخلاص بھائی کی بیگم بھی دیکھ رہی ہیں، جس سے ان کا بھی جی کٹ رہا ہے کہ کیسی بری بات ہے، سارے میں تماشا لگا ہوا ہے۔ باہر ابھی معاملہ گرم ہے، آوازیں بدستور اونچی ہیں، بات تُو تڑاخ سے آگے نکلتی جا رہی ہے۔ وہ اپنے میاں کو ٹہوکا دیتی ہیں کہ آپ جائیے ناں، ذرا جا کر سمجھا دیجیے انھیں، کیوں اپنے گھر کا تماشا بنا رہے ہیں۔ مل بیٹھ کر بات کرلو۔

اہلیہ سے تحریک پاکر اخلاص صاحب اتوار کے اخبار کے پھیلے ہوئے صفحات سمیٹ کر اٹھتے ہیں، کھونٹی پر ٹنگا ہوا ململ کا کرتا اتار کر جھٹکتے ہیں اور ’ہاں، ہمم‘ کرتے ہوئے دونوں آستینوں میں بازو ڈال کر گلے میں سر ڈال کر کرتے کا دامن سیدھا کرتے ہوئے ڈیوڑھی کا کواڑ کھولتے ہیں اور بٹن لگاتے ہوئے باہر نکل آتے ہیں، جہاں آٹھ، دس لوگ مزید ہاتھ باندھے کھڑے سب کچھ دیکھ رہے ہیں۔ کچھ الگ کو کھڑے ہو کر چی مگوئیاں کر رہے ہیں، اکثر کے چہرے بتا رہے ہیں کہ انھیں کوئی غرض نہیں ہے، وہ تو بس تفریحاً گھر سے نکل کر آئے ہیں۔

اخلاص بھائی ’سلام علیک‘ کرتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں۔ پولیس والے جا چکے ہیں۔ حاجی صاحب کی بیٹی بھی اخلاص بھائی کو دیکھ کر ذرا مودب ہو جاتی ہے، اخلاص بھائی پہلے دونوں بھائیوں کی طرف دیکھتے ہوئے بات شروع کرتے ہیں کہ دیکھو اختلافات سبھی کے ہاں ہوتے ہیں، لیکن کسی بھی بات کو ایسے گھر سے باہر نہیں نکلنے دینا چاہیے۔ یہ اچھی بات نہیں ہے۔

”دیکھیے، انکل میں تو دو سال سے چپ ہی بیٹھی ہوئی تھی۔“ حاجی صاحب کی بیٹی بات کاٹ کر کہنے لگی، تو اخلاص صاحب اس گردن ہلا کر اس کی تائید کی اور پھر بھائیوں سے مخاطب رہتے ہیں اور انھیں یاد دلاتے ہوئے کہنے لگے کہ ابھی چند برس پہلے تک جب حاجی صاحب اور ان کی بیوی حیات تھیں، تو کیا یہ تصور کر سکتے تھے کہ تم بہن بھائی آپس میں ایسے لڑائی جھگڑا کرو؟ جواباً بھائی نے بہن کو قصوروار ٹھیرایا، تو اخلاص بھائی کہنے لگے کہ بہن سے اگر غلطی ہوئی بھی ہے، تو یہ بھائی کا کام ہوتا ہے کہ اس غلطی کو سنبھالے، یہ سگی بہن کو اپنے گھر سے نکالنے کے لیے تھانے کون سا بھائی جاتا ہے؟

تھوڑی دیر پہلے تک چڑھی ہوئی تیوری اور اونچی آواز اب شانت ہوگئی، باجو کے گھر سے ترچھے دروازے کی اوٹ سے خالہ پڑوسن نے بھی اخلاص صاحب کی تائید کی ’بھائی، ہم بھی یہی کہہ رہے ہیں کہ آج حاجی صاحب زندہ ہوتے تو کیا یہ ایسے ہی کرتے؟‘

ابھی جو بھائی اور بہن گلی کے کچھ صلح جُو افراد سے قابو میں نہیں آرہے تھے، وہ اب کافی حد تک اخلاص صاحب کی مُٹھی میں آ چکے تھے۔ اخلاص صاحب نے موقع دیکھا، تو حاجی صاحب کی بیٹی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میری سمجھ میں تو یہ نہیں آتا کہ کیسے بچپن میں ایک ہی دسترخوان پر ایک ہی رکابی سے کھانا کھانے والے، مل جل کر کھیلنے کودنے اور ساتھ بڑے ہونے والے اس طرح اپنا جی خراب کر لیتے ہیں؟ پھر حاجی صاحب کا بھرا پُرا گھر تو گلی بھر میں قابل رشک ہوا کرتا تھا، یہاں کیسے پورا خاندان مل جل کر رہتا تھا، عید اور بقرعید کے تہوار تو میل جول کا بہانہ ہوتے تھے، ورنہ یہاں تو سارا سال ہی تمام بہن بھائیوں اور ان کے بچوں کی رونق لگی رہتی تھی، گھر کے پاس سے گزرو تو چچا اور بھتیجے، بھتیجی، ماموں، بھانجے اور بھانجی وغیرہ کے ہنسنے کھیلنے کی آوازیں زندگی جینے کی خبر دے رہی ہوتی تھیں۔

اب کیسے چند دن میں ہی یہ نوبت آگئی ہے کہ اسی گھر سے جھگڑوں کی آوازیں باہر آنے لگی ہیں۔ وہ جو ساتھ ہنستے بولتے تھے، وہی بہن بھائی، اب اتنے اجنبی ہوگئے ہیں کہ ایک دوسرے کو اپنی بات تک نہیں سمجھا پا رہے، ایک دوسرے پر بھروسا اور ایک دوسرے کا احساس کرنے کی سکت کھو چکے ہیں! آخر ایک دوسرے کے لیے دلوں میں گنجائش اور ایثار کہاں غائب ہوگیا؟ یہ چند ٹکوں کا گھر اور تھوڑا سا روپیا پیسہ اتنا اہم ہے کہ اس کی خاطر خونی رشتوں میں میل آ جائے؟

اب گلی میں تماشے کی نیت سے جمع ہونے والے بھی سرگوشیاں چھوڑ کر ماحول کی سنجیدگی میں محو ہو چکے تھے، اِدھر بہن بھائیوں کے دل پر بھی ان باتوں کا اثر ہونے لگا تھا۔

’معاف کر دینا بچو! میں جذبات میں شاید کچھ زیادہ ہی کہہ گیا!‘ اخلاص صاحب نے اونچی آواز کو یکایک دھیما کر کے کہا، تو دونوں بھائیوں نے اخلاص صاحب کی کمر پر بازو حمائل کرتے ہوئے نہایت عاجزی سے کہا ’نہیں نہیں بڑے صاحب، آپ ہمارے لیے ہمارے والد کی جگہ ہیں، ہمارے بزرگ ہیں، بات بالکل ٹھیک کہی ہے آپ نے!‘

”بیٹا، مجھے نہیں، بس اپنے ماں باپ کو یاد کر کے ایک دوسرے سے محبت سے مل لیا کرو۔ ان کے دنیا سے جانے کے بعد ان کی یاد اور ان کے صدقہ ¿ جاریہ کا یہی بہترین ذریعہ ہے کہ ان کے ملنے جلنے والوں اور ان کی اولاد سے صلہ رحمی کی جائے، بہن بھائی ایک دوسرے کا خیال رکھیں، کسی بھی اختلاف کو اتنا نہ بڑھائیں کہ دل خراب ہوں۔۔۔ صرف اللہ کی رضا اور اپنے مرحوم ماں باپ سے محبت کی خاطر ایک دوسرے کو معاف کرو، ورنہ یاد رکھو، اولاد کی باہمی رنجشیں والدین کو دنیا سے جانے کے بعد بھی چین نہیں لینے دیتیں!“

 

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔