بنگلادیش؛ پٹرولیم مصنوعات میں 52 فیصد اضافے پر ہنگامے پھوٹ پڑے

ویب ڈیسک  اتوار 7 اگست 2022
بنگلادیش میں پٹرول کی قیمت 89 سے 135 ٹکا فی لٹر ہوگئی، فوٹو: ٹوئٹر

بنگلادیش میں پٹرول کی قیمت 89 سے 135 ٹکا فی لٹر ہوگئی، فوٹو: ٹوئٹر

ڈھاکا: بنگلادیش میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچنے کے بعد ہنگامے پھوٹ پڑے اور ہزاروں مظاہرین نے فیول اسٹیشنز کا گھیراؤ کرلیا۔ 

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق بنگلادیش کی حکومت نے پٹرول کی قیمت میں 51.7 فیصد اور ڈیزل کی قیمت میں 42.5 فیصد اضافے کا اعلان کیا ہے۔ پٹرول 89 ٹکا سے بڑھ کر 135 ٹکا ہوگیا جب کہ ڈیزل کی قیمت 114 ٹکا ہوگئی۔

وزارت پٹرولیم کا کہنا ہے کہ ریٹیل سطح پر قیمتوں میں تازہ ترین اضافہ تیل کی سرکاری تقسیم کار کمپنیوں پر سبسڈی کے بوجھ کو کم کرنے کے لیے ہے۔ ملک زیادہ سبسڈی کا متحمل نہیں ہوسکتا۔

یہ خبر پڑھیں : بنگلادیش نے آئی ایم ایف سے ساڑھے 4 ارب ڈالر قرض مانگ لیا

خیال رہے کہ بنگلادیش کی تاریخ میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں یہ بلند ترین اضافہ ہے۔ جس کے بعد ملک بھر میں ہنگامے پھوٹ پڑے اور ہزاروں مظاہرین نے فیول اسٹیشنز کا گھیراؤ کرلیا۔

مظاہرین نے اس اضافے کو بدترین مہنگائی لانے والی سونامی قرار دیتے ہوئے حکومت سے قیمتیں فی الفور کم کرنے کا مطالبہ کیا۔ کئی مقامات پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپ بھی ہوئی۔

بنگلادیش نے حال ہی میں 4 ارب ڈالر کے قرض کے لیے آئی ایم ایف میں درخواست جمع کرائی ہے۔

بنگلادیش کے وزیر خزانہ کا کہنا ہے کہ معیشت مستحکم ہے تاہم یوکرین روس جنگ کے بعد سے پٹرول مصنوعات کی قیمتوں تیزی سے اضافے اور ڈالر کی اونچی پرواز سے ادائیگیوں کے توازن میں مشکلات کا سامنا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔