پاکستان کرکٹ میں بغاوت نہیں ہونی چاہیے

سلیم خالق  جمعرات 11 اگست 2022
’’اعزازی‘‘ آفیشلز بے پناہ مراعات پا سکتے ہیں تو کھلاڑیوں کو بھی شایان شان معاوضے دیں۔ فوٹو: فائل

’’اعزازی‘‘ آفیشلز بے پناہ مراعات پا سکتے ہیں تو کھلاڑیوں کو بھی شایان شان معاوضے دیں۔ فوٹو: فائل

کئی برس پہلے کی بات ہے جب میں کرکٹ میگزین ’’اخبار وطن‘‘ کا ایڈیٹر تھا، تب کسی بھی کرکٹر کا انٹرویو کرتا اس کی بات شروع ہوتی ملک اور قوم کیلیے کھیل رہا ہوں، پھر اختتام بھی ایسے ہوتا کہ ملک اور قوم کیلیے ایسا کیا، میں سوچتا کہ یہ کھلاڑی کتنے محب الوطن ہیں، مگر بعد میں ان میں سے کئی کے ’’کارنامے‘‘ سامنے آئے تو کانوں کو ہاتھ لگا لیے۔

مجھے احساس ہوا کہ اصل چیز پیسہ ہے، میں یہ نہیں کہتا کہ تمام کھلاڑی ایسے تھے مگر کئی کا مقصد صرف دولت کمانا ہی تھا، نائنٹیز کے کئی اسٹارز اسی وجہ سے میچ فکسنگ میں بھی ملوث ہوئے، یہ وقت کا ستم ہے کہ ہم آج بھی انھیں ہیرو کا درجہ دینے پر مجبور ہیں، خیراس وقت کرکٹ میں موجودہ دور جتنا پیسہ نہیں تھا، کھلاڑیوں کے پاس آپشنز کی بھی کمی تھی، قومی ٹیم کو چھوڑ دیتے تو کہاں سے کھیلتے، اب ایسا نہیں رہا، موجودہ کرکٹرز لیگز سے ہی چند ماہ میں کئی برسوں کے برابر رقم کما سکتے ہیں۔

پاکستان میں ہمیشہ سے یہ ہوتا چلا آیا ہے کہ پی سی بی کھلاڑیوں کو کوڈ آف کنڈکٹ سے ڈرا کر کنٹرول کر لیتا تھا، گوکہ شعیب اختر جیسے بعض کھلاڑی اس کی پروا نہیں کرتے تھے مگر بیشتر کو کوئی اعلیٰ عہدیدار ذرا سی بھی آنکھیں دکھاتا تو وہ سہم جاتا،موجودہ ٹیم کے ساتھ بھی کچھ عرصے قبل تک ایسا ہی تھا،زیادہ تر اسٹارز سیدھے سادھے بچے تھے جنھیں بورڈ جو کہے وہی کرتے، مگر اب وقت بدل رہا ہے، پاکستان ٹیم اور کھلاڑیوں کی عالمی رینکنگ بہتر کارکردگی کی گواہ ہے،کئی کرکٹرز سپراسٹارز بن گئے اور دنیا بھر میں انھیں پسند کیا جاتا ہے،لیگز میں بھی بڑی ڈیمانڈ ہے۔

یہاں کوئی پلیئرز ایسوسی ایشن تو موجود نہیں مگر کھلاڑیوں کے اپنے ایجنٹس ہیں، ان میں سے بعض کا تو اتنا اثرورسوخ ہے کہ مرضی کے کرکٹرز کو بھی ٹیم میں شامل کرا سکیں، ماضی میں جب سینٹرل کنٹریکٹ کی ’’کتاب‘‘ کھلاڑیوں کو ملتی تو دستخط کیلیے چند منٹ دیے جاتے،معصوم کھلاڑی صرف معاوضوں والا صفحہ دیکھتے اور دستخط کر دیتے، انھیں بعد میں علم ہوتا کہ سوائے باتھ روم جانے کے ہر کام کی بورڈ سے اجازت لینا ضروری ہے، اب ایجنٹنس نے انھیں ہوشیار بنا دیا اور وہ اپنے حقوق سے آگاہ ہیں،اسی لیے تاحال کئی نے دستخط نہیں کیے۔

ایسا نہیں ہے کہ انکار کر دیں گے مگر اچھی طرح مطالعے کے بعد ہی اسے قبول کریں گے، آپ کوئی عام ملازمت بھی کر رہے ہوں، اگر دیکھیں کہ آپ سے کم صلاحیت کا حامل جس کا اپنے شعبے میں خاص کنٹری بیوشن بھی نہیں مگر وہ زیادہ کما رہا ہو تو احساس محرومی تو ہوتا ہی ہے،پاکستانی کرکٹرز کے پاس محدود مواقع ہیں، آئی پی ایل میں انھیں بلایا نہیں جاتا، دیگر لیگز اتنا معاوضہ نہیں دیتیں۔

ایسے میں یو اے ای لیگ آئی جس نے بابر اعظم، محمد رضوان، شاہین شاہ آفریدی، شاداب خان و دیگر کو پْرکشش آفرز کیں، بعض کو تو 12 سے15 کروڑ روپے دینے کا بھی کہا گیا لیکن پاکستان ٹیم کی مصروفیات کو جواز بنا کر پی سی بی نے اجازت دینے سے منع کر دیا، بگ بیش میں بھی اب تک کوئی پاکستانی شامل نہیں ہو سکا، یوں ٹاپ کرکٹرز کو کروڑوں کا نقصان ہوگا، بورڈ نے لیگز سے روکنے پر زرتلافی دینے کی جو پالیسی بنائی اس کا اطلاق صرف آف سیزن میں ہوتا ہے۔

عملی طور پر یہ پالیسی فضول ہے کیونکہ آف سیزن میں تو شاید کیریبئین لیگ ہی ہوتی ہے جس میں ویسے ہی صف اول کے پاکستانی کرکٹرز نہیں جاتے،اس سال توپلیئرز کو روک لیا لیکن ایسا کب تک چلے گا؟ نیوزی لینڈ کے ٹرینٹ بولٹ نے بورڈ کا کنٹریکٹ ٹھکرا دیا، اب وہ مخصوص سیریز ہی کھیلیں گے، ان کی توجہ لیگز پر ہی ہوگی،مستقبل میں پاکستانی کرکٹرز بھی ایسا کر سکتے ہیں،ان کو روکنے کیلیے کیا کچھ ہو رہا ہے؟

آئی پی ایل فرنچائز مالکان نے جنوبی افریقہ اور یو اے ای لیگ کی بیشتر ٹیمیں خرید لی ہیں، کیریبیئن لیگ میں بھی وہ موجود ہیں، اب سوچا یہ جا رہا ہے کہ کھلاڑیوں سے سال بھر کا معاوضہ کر لیا جائے، اگر ایسا ہوا تو وہ تین سال کا معاوضہ ایک برس میں ہی کما لیں گے، ایسے میں کون اپنے ملک کیلیے کھیلے گا؟

تب تو فٹبال کی طرح لیگز اور صرف عالمی ایونٹس ہی ہوا کریں گے، خیر یہ تو آئی سی سی اور بورڈز کا مسئلہ ہے،پاکستانی تو آئی پی ایل نہیں کھیلتے، البتہ ہم دیگر لیگز سے کب تک اپنے کھلاڑیوں کو روک پائیں گے، پی ایس ایل فرنچائزز جب خود چند کروڑ روپے کما رہی ہیں تو وہ کیسے پلیئرز کو زیادہ معاوضہ دیں گی، یا تو فنانشل ماڈل بدلیں یا فیس کم کر کے کھلاڑیوں کو زیادہ رقوم دیں،پی سی بی کے پاس اربوں روپے کرکٹرز کی وجہ سے ہی ہیں، انھیں جائز حصہ دیں،جب بورڈ حکام بھاری تنخواہیں وصول کر سکتے ہیں۔

’’اعزازی‘‘ آفیشلز بے پناہ مراعات پا سکتے ہیں تو کھلاڑیوں کو بھی شایان شان معاوضے دیں،باری باری لیگز کیلیے بھی ریلیز کریں، کمرشل معاہدے آزادی سے کرنے دیں تاکہ احساس محرومی کم ہو، چیئرمین پی سی بی رمیز راجہ بھی معاملے کی سنگینی کو سمجھیں، انگلینڈ سے واپس آنے کے بعدانھیں کھلاڑیوں سے ملاقات کر کے تحفظات معلوم کرنے چاہئیں ، سابق اسٹارز سے مل کر مسئلے کا حل سوچیں، وہ خود سابق کرکٹر رہے ہیں اور معاملے سے بااحسن انداز سے نمٹ سکتے ہیں۔

اگر ایسا کیا تب ہی مستقبل میں حالات ٹھیک رہیں گے، زورزبردستی سے معاملے کو ٹھنڈا کرنا چاہا تو وہ وقت دور نہیں جب کوئی فٹنس مسائل تو کوئی کسی اور وجہ سے صرف ٹی ٹوئنٹی کیلیے دستیابی ظاہر کرے گا، انتظار صرف اس وقت تک کاہے جب کوئی سینٹرل کنٹریکٹ لینے سے انکار کرے، کسی ایک کرکٹر نے ایسا کیا تو یہ سلسلہ نہیں رک سکے گا، معاملے کی سنگینی کو سمجھیں،پاکستان کرکٹ میں بغاوت زیادہ دور نہیں لگتی، ایسا ہونے سے روکیں ورنہ پلیئرز کو قصوروار قرار نہ دیجیے گا۔

(نوٹ: آپ ٹویٹر پر مجھے @saleemkhaliq پر فالو کر سکتے ہیں)

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔