لاپتہ شہری کی بازیابی کیلئے حساس اور قانون نافذ کرنیوالے اداروں کو نوٹس

ایکسپریس اردو  منگل 10 جولائ 2012
سندھ ہائیکورٹ نے کے ای ایس سی کی جانب سے میٹرز اضافی قرار دینے اورہٹانے کی دھمکی کے خلاف درخواست پر نوٹس جاری کردیے ۔ فوٹو ایکسپریس

سندھ ہائیکورٹ نے کے ای ایس سی کی جانب سے میٹرز اضافی قرار دینے اورہٹانے کی دھمکی کے خلاف درخواست پر نوٹس جاری کردیے ۔ فوٹو ایکسپریس

کراچی: سندھ ہائیکورٹ نے لاپتہ شہری کی بازیابی سے متعلق آئینی درخواست پر قانون نافذ کرنیوالے اور حساس اداروںکو نوٹس جاری کردیے، درخواست گزار نصرت دلدار نے درخواست میں وزارت داخلہ ، آئی ایس آئی ، انٹیلی جنس بیورو، سی آئی ڈی اور دیگر کو فریق بناتے ہوئے موقف اختیارکیا ہے اسکا بھائی ممتاز دلدار گذشتہ سال 22اپریل کو قریبی مسجد میں نماز پڑھنے گیا تھا لیکن گھر واپس نہیں آیا۔

درخواست گزار کے مطابق اس کے علم میں آیا کہ اس کے بھائی کو سی آئی ڈی نے تفتیش کے لیے تحویل میں لیا ہے تاہم بعد میں واضح ہوا کہ اسے انٹیلی جنس بیورو کے حوالے کردیا گیا ہے، درخواست گزار کے مطابق اسکے بھائی کا کسی سیاسی و مذہبی گروہ سے کوئی تعلق نہیں،انھوں نے اندیشہ ظاہر کیا ہے کہ ان کے بھائی کی زندگی خطرے میں ہے اس لیے عدالت عالیہ مدعاعلیہان کو ہدایت کرے کہ اس کے بھائی کو عدالت میں پیش کیا جائے اور کوئی الزام نہ ہونے کی صورت میں اسے رہا کردیا جائے ،

درخواست کے جواب میں سی آئی ڈی نے عدالت میں کمنٹس پیش کرتے ہوئے درخواست گزار کے بھائی کی گرفتاری سے لاعلمی کا اظہار کیا ہے جبکہ ہوم ڈپارٹمنٹ سندھ نے کمنٹس میں کہا ہے کہ تمام قانون نافذ کرنیوالے اداروں کو درخواست گزار کے بھائی کے کوائف کے بارے میں معلومات فراہم کرنے کی ہدایت کردی گئی ہے علاوہ ازیں سندھ ہائیکورٹ نے کے ای ایس سی کی جانب سے گھریلو صارفین کے اضافی میٹرز ہٹانے کے خلاف دائر درخواست پر کے ای ایس سی انتظامیہ اور دیگر کو30جولائی کیلیے نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا ہے،

جسٹس سیدحسن اظہر رضوی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے پیر کو درخواست کی سماعت کی،گلستان جوہر بلاک14کی رہائشی مسمات نجم النسا،شاہد علی اور زاہدعلی کی جانب سے دائر درخواست میں وزارت پانی و بجلی ،سی ای او کے ای ایس سی اور منیجر انسپیکشن اور دیگر کو فریق بناتے ہوئے کہا گیا ہے کہ وہ تین منزلہ مکان میں مختلف فلورز پر رہائش پذیر ہیں، مکان مالکہ مسمات نجم النسا کو کے ای ایس سی کی جانب سے 12مئی2012کو ایک نوٹس موصول ہوا جس میں کہا گیا ہے کہ آپ کے مکان میں بجلی کے تین میٹرز نصب ہیں جبکہ انسپکشن ٹیم کے مطابق وہاں تین میٹرز کی ضرورت نہیں،مستند الیکٹریشن کی مددسے ایک میٹر ہٹادیا جائے ،بصورت دیگر کے ای ایس سی یہ میٹر خود ہٹا دے گی اور ضمانت کی رقم و دیگراخراجات صارف سے وصول کیے جائیں گے،کے ای ایس سی کے پاس بغیر اطلاع بھی میٹر ہٹانے کا اختیار ہے

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔