75 سال بعد

جاوید قاضی  اتوار 14 اگست 2022
Jvqazi@gmail.com

[email protected]

آج سے پورے 75 سال پہلے اسی دن ہم نے آزادی پائی تھی۔ آزادی بھارت نے بھی پائی تھی، ہم دونوں ایک رات کی کوکھ سے پو پھٹنے پر آزاد ہوئے تھے۔ یہ آزادی ہم نے دراصل انگریز سامراج سے پائی تھی۔ کچھ چیزیں تھیں جو بٹوارے میں ادھوری رہ گئیں ، ان میں ایک کشمیر بھی تھا۔

پھرہم نے جو آزادی پائی ، اس آزادی سے بھی ایک اور آزادی نکلی ، مشرقی پاکستان کے لوگوں کی نظر سے جب کہ ہماری نظر سے ہم دو لخت ہوئے تھے۔ گاندھی کے لیے آج کی رات ہندوستان کا دو لخت ہونا تھا۔ مولانا آزاد کے لیے یہ ملک جناح نے نہیں نہرو اور ولبھ بھائی پٹیل کے بوئے ہوئے نفرتوں کے بیج کی پیداوار تھا، تو خود ہم نے جو آزادی پاکے مشرقی پاکستان کو محکوم کیا تھا، ان پر اردو زبان بحیثیت قومی زبان مسلط کی ، انھوں نے قبول نہیں کی اور یوں ، ایک طویل توڑ پھوڑ کے زمانے تھے، حکومت تھی کہ ٹھہرتی نہیں تھی، برسہا برس بیت گئے ہم آئین نہ دے پائے۔

گورنر غلام محمد قبضہ کر کے بیٹھ گئے ، وزیر اعظم مشکل سے ایک سال بھی نہ ٹھہرتا تھا۔ بنگالیوں نے پہلے ہی ریاستی انتخابات میں اسی پارٹی کو اپنی زمین سے اکھاڑ کے باہر پھینک دیا، جس پارٹی نے پاکستان بنایا تھا۔ میر غوث بخش بزنجو کی سوانح حیات جس کو بی ایم کٹی نے مرتب کیا ہے ، ضرور پڑھنی چاہیے ۔ کس طرح کمزور سیاسی اداروں نے پہلے سول بیوروکریسی کو مضبوط کیا اور پھر کس طرح سول بیوروکریسی سے اقتدار ملٹری بیوروکریسی کی طرف جھک جاتا ہے۔

پہلے ہی یہاں امرا طبقہ وہی تھا جسے انگریز سامراج نے اپنے مقاصد کے لیے پروان چڑھایا تھا، اس قسم کا طبقہ مشرقی پاکستان میں بھی تھا لیکن وہاں شہری اور زرعی مڈل کلاس بھی موجود تھی ہے، جن کا پہلا لیڈر شہید سہروردی یا شیر بنگا ل تھا پھر تیسرا لیڈر شیخ مجیب تھا۔وہ دراصل مغربی پاکستان کے شرفاء کے غلام بن گئے تھے اور مغربی پاکستان کے اقتدار پر قابض کالے انگریزوں کو مشرقی پاکستان میں سردار، وڈیرے نہیں ملے کہ وہاں تھے ہی نہیں۔

وہ یہاں سے آزادی لے اڑے ۔ ہماری اس وقت سول ملٹری اور ذوالفقار علی بھٹو اندر سے بہت خوش تھے چلو جی، اکثریت سے جان چھوٹ گئی۔ یہ بات تو ہماری کراچی ہائی کورٹ کے وکیل عزیز شیخ اپنی سوانح حیات میں لکھتے ہیں کہ یہاں کراچی ہائی کورٹ میں پریکٹس کرنے والے ایک جونیجو وکیل صاحب تھے جو تھائی لینڈ میں پاکستان کے سفیر بنے، وہاں بینکاک میں جب صدر ایوب دورے پر گئے تو ان سفیر صاحب سے کوئی قربت تھی ان کی اور ان سے پوچھ بیٹھے کہ ’’بنگالیوں سے کس طرح جان چھڑائی جائے؟‘‘

ہمیں آزادی تو ملی ، مگر ہم آزادی کے لائق نہ تھے۔ پتہ نہیں ا س ملک کو جنرل ایوب نے توڑا یا جنرل یحیی نے مگر ٹوٹ گیا۔ میرے والد مسلم لیگ سندھ کے صوبائی کمیٹی کے رکن تھے اور مسلم لیگ نوابشاہ کے ضلع صدر بھی تھے۔

وہ اپنی سوانح حیات میں لکھتے ہیں کہ صوبائی مسلم لیگ کے اجلاس میں جناح صاحب شریک ہوئے( یہ 1946 کے اسٹیٹ الیکشن کا زمانہ تھا) تو انھوں نے اٹھ کے جناح صاحب سے سوال کیا کہ’’ آپ سندھ میں وڈیروں کو مسلم لیگ کی ٹکٹ پر کھڑا کررہے ہیں جب کہ ورکر یا مڈل کلاس سے ایک کو بھی مسلم لیگ نے پارٹی ٹکٹ نہیں دیا‘‘ تو جناح صاحب تھوڑی بلند آواز سے ابا سے مخاطب ہوئے اور کہا’’تو کیا میں آپ کو پارٹی ٹکٹ پر کھڑا کروں‘‘بات تو سچ تھی مگر بات تھی رسوائی کی۔ وہ اس طرح کہ سندھ کی مسلم لیگ یا خود اتر پردیش والی یا پنجاب والی، سارے کے سارے نواب، وڈیرے، خان اور چوہدری تھے۔

ہمارے آزادی کو 75 سال گزر گئے ، نسلیں جوان ہوئیں، کتنے نشیب و فراز آئے ، سرد جنگ سے لے کر ، ہماری ہندوستان کے ساتھ تین جنگیں ہوئیں۔ ہم بحیثیت وفاق ، معیشت، اداروں کے حوالے سے مستحکم نہ ہوسکے ۔ ہم بین الاقوامی ایجنڈا میں فرنٹ لائن اسٹیٹ رہے، کبھی سوویت یونین کے خلاف ، کبھی جہادیوں کے پس منظر میں ۔ ہماری ریاست میں ایک سوچ پیدا ہوئی اور وہ ایک حقیقت بن کر اٹھی۔ ہم نے انتہا پسند سوچ کو تقویت دی، ہم نے اس انتہاپسند سوچ کو ریاست کی چھتری مہیا کیا، یہ انتہا پسند سوچ وفکر اور نظریات جمہوریت کو برداشت نہیں کرتے ، حکمران طبقے نے اسے آئین کو یرغمال بنانے کے لیے استعمال کیا تاکہ جو نظام کہن میں تبدیلی کی بات کرے، اسے نشان عبرت بناجاسکے۔ ہمارے شرفاء درباریوں کی باقیات ہیں ، آداب بجا لانا ان کے خمیر میں شامل ہے۔

ریاستی دانشوروں نے افسری بھی کی اور قلم کے ساتھ انتہاپسندی، تواہم پرستی کو پروان چڑھانے میں رہنما کردار ادا کیا، پھر انتہاپسند ذہن کو اخباری صحافت میں انجیکٹ کیا گیا، یوں پڑی لکھی مڈل کلاس بھی اسی رنگ میں رنگی گئی، یوں رپورٹرز، ایڈیٹرز اور کالم نگاروں کی ایک فوج تیار ہوئی جو فرسودہ سوچ کو پروان چڑھانے کے کام میں جت گئے۔ اب اس لشکر میں اینکرز اور تجزیہ کاروں کا تازہ دم بریگیڈ بھی شامل ہوگیا ہے۔ یہ سوچ اور ذہنیت وقت بدلنے پر اپنا بھیس بدلنے میں ماہر ہے اور اپنے جھوٹ کو بھی سچ بنانے میں بھی ماہر ہے۔ پھر ایسی ہوا چلی کہ بھٹو بھی اجنبی ٹھہرے مگر بیٹی نے کبھی فوج میں بغاوت پھیلانے کی بات نہ کی۔

75 سال بعد آج کے دن ہمیں سوچنا اور سمجھنا ہوگا، ایک عہد کرنے کا دن ہے۔ یہ ملک ہمیں بڑی قربانیوں کے بعد ملا ہے۔ آج بھی گیارہ اگست والی جناح کی تقریر کتنی معنی خیز ہے۔ کس طرح سے خود لیاقت علی خان نے وہ تحریر ریڈیو پاکستان کے ریکارڈ سے ہی غائب کروادی۔ یہ ملک کسی بھی لحاظ سے آمریتوں کے لیے نہیں بنا ہے۔ پاکستان بننے کے بعد جو دو اچھے کام ہوئے ان میں ایک 73 کا آئین تھا اور دوسر ااٹھارھویں ترمیم ہے۔ بدنصیبی سے اس میں سے جنرل ضیاء الحق کی آرٹیکل 63-62 میں کی ہوئی ترامیم ختم نہ کی گئیں ۔ خود آرٹیکل چھ کو وسیع کرکے ان لوگوں کو بھی ڈالا جو نظریہ ضرورت استعمال کرتے ہیں اور شب خوں کو قانونی قرار دیتے ہیں۔

خود آئین سپریم ہے اس کے بعد اگر کوئی اہم ہے تو وہ پارلیمنٹ ہے اور اگر آئین کی تشریح کرنی ہے تو یہ کام عدالت کا ہے مگر اس کا کام ہرگز یہ نہیں کہ وہ آئین کی تشریح کے بجائے خود آئین لکھنے بیٹھے۔ خود پارلیمنٹ بھی آئین میں ترامیم کے بہانے آئین کے بنیادی ڈھانچے کو چھیڑ نہیں سکتی ،اس ملک میں جو بھی جمہوری قوم پرست، سول سوسائٹی ورکر، انسانی حقوق کے متوالے ، وہ مذہبی پارٹیاں جو جمہوری جدوجہد کے ساتھ جڑی ہوئی ہیں ، حقوق نسواں کے متوالے ،شاگرد، استاد، وکیل سب پاکستان کے آئین کی بقا کی جنگ لڑیں اور یہی جنگ در اصل جناح کے پاکستان کی جنگ ہے۔ خان صاحب جس ڈگر چلے، وہ ایک بند گلی میں آکے ٹھہر گئی ہے۔

ریاست پاکستان پر حاوی لوگوں نے جو پالیسی بنائی ، اسی کے تحت ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں ہی برہان الدین ربانی اور گلبدین حکمت یار یہاں آئے تھے۔ بے نظیر کے دور میں نصیراﷲ بابر نے افغان طالبان کو طاقت بخشی ۔ نواز شریف کے دور میں اسامہ بن لادن کا یہاں اثر بڑھا ، خان صاحب بھی طالبان کے وکیل بنے رہے اور اب بھی ان کے خیالات میں تبدیلی نہیں آئی ۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن نے اپنی سیاسی راہ تبدیل کرلی ہے ، اگر کسی نے نہیں کی تو وہ خان صاحب ہے اور اگر وہ اپنی غلطی ٹھیک کرنا چاہیں تو موقع اب بھی ان کے پاس ہے۔

75 سال بعد آج کے دن ہمیں ایک موقع قدرت پھر عطا کررہی ہے۔ سوویت یونین 75 سال بعد ٹوٹ کے بکھر گیا تھا لیکن ہم ایک ایسے موڑ پر کھڑے ہیں جہاں سے ہمیں واپس لوٹنا ہوگا جناح کی گیارہ اگست کی تقریر کو پاکستان کے آئین اور اس میں بنیادی بات جو لکھی ہے اس طرف کہ یہ ملک ایک وفاق ہے۔ خود وفاقی اکائیوں کو اب لوکل باڈیز سسٹم کو یا دوسرے الفاظ میںآرٹیکل 140 کے تحت اداروں کو فعال کرنا ہوگا۔

آبادی کے لحاظ سے ہم دنیا کا پانچواں بڑا ملک ہیں۔ ہمیں اب معاشی حوالے سے دنیا کا پانچواں بڑا ملک بننا ہے۔ اس کے لیے راستہ وہی ہے جو قائد اعظم محمد علی کی گیارہ اگست کی تقریر میں ترتیب دیا ہوا ہے۔

یہ داغ داغ اجالا یہ شب گزیدہ سحر

وہ انتظار تھا جس کا یہ وہ سحر تو نہیں

(فیض احمد فیض)

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔