پاکستانی کرکٹرز کی ایسوسی ایشن بننی چاہیے

سلیم خالق  اتوار 14 اگست 2022
اگر پاکستانی ٹیم ایشیا کپ جیت گئی تو وہ بورڈ سے بارگیننگ کی پوزیشن میں آ جائے گی۔ فوٹو : انٹرنیٹ

اگر پاکستانی ٹیم ایشیا کپ جیت گئی تو وہ بورڈ سے بارگیننگ کی پوزیشن میں آ جائے گی۔ فوٹو : انٹرنیٹ

ان کے چہرے پر اچانک پریشانی کے آثار نمایاں ہو گئے جیسے کوئی بات یاد آئی ہو، میں نے کہا کہ ویڈیو میں سر کے اوپر خالی جگہ زیادہ ہے اسے کم کرلیں،باقی سب کلیئر ہے، اس پر جواب ملا کہ مجھے ابھی خیال آیا کہ پی سی بی سے تو انٹرویو کی اجازت نہیں لی، آپ ریکارڈنگ کر لیں پھر میں گرین سگنل دوں تو چلا دیجئے گا۔

پاکستان کے لیے کئی ٹیسٹ اور ون ڈے میچز کھیلنے والے ایک کھلاڑی سے جب میں نے یہ الفاظ سنے تو تھوڑا افسوس ہوا کہ اتنی کرکٹ کھیلنے کے باوجود سابق کرکٹرز نوکری کی وجہ سے کتنے گھبرائے ہوئے رہتے ہیں، میں نے انھیں جواب دیا کہ مجھے لگا آپ نے وقت دینے سے پہلے اس حوالے سے بات کر لی ہوگی،خیر آپ پوچھ لیں میں تب تک انتظار کر لیتا ہوں،2 منٹ بعد انھوں نے جواب دیا کہ میڈیا ڈپارٹمنٹ کے عماد حمید نے کہا ہے کہ آپ سے کہوں کہ انھیں ای میل بھیجیں پھر بورڈ درخواست پر غور کرے گا۔

میں نے سابق کرکٹر کو مشکل میں ڈالنا درست نہیں سمجھا اور انٹرویو کینسل کر دیا، عماد ایک سابق صحافی ہیں، اچھی انگریزی اور بڑے لوگوں کی جلد قربت حاصل کرنے کی خوبی کے حامل ہیں، شاہد آفریدی کے قریب آ کر ایک پی ایس ایل فرنچائز سے منسلک ہوئے پھر نجم سیٹھی سے اتنی قربت حاصل کر لی کہ پی سی بی میں ملازمت مل گئی،اب وہ اونچی ہوائوں میں اڑ رہے ہیں، خیر ان کا قصور نہیں ادارے کا ماحول ہی ایسا ہے کہ ہر کوئی اپنے آپ کو طرم خان سمجھنے لگتا ہے۔

آپ سابق کرکٹرز کو چھوڑیں ان بیچاروں کی تو مجبوری ہے کہ اس عمر مین بورڈ کی نوکری چلی گئی تو کیا کریں گے،مگرموجودہ کھلاڑی بھی اس ماحول میں ڈرے سہمے رہتے ہیں کہ کہیں کچھ ایسا نہ ہو جائے کہ پی سی بی سے جواب طلبی کی ای میل آ جائے، چند روز قبل میں نے سینٹرل کنٹریکٹ میں موجود جرمانوں اور سزائوں کی خبر شائع کی، اس پر بہت سے لوگوں کا یہ کہنا تھا کہ سوائے واش روم جانے کے ہر کام کی بورڈ سے اجازت لینے کا پابند کر دیا گیا ہے۔

پی سی بی نے بھی بڑی دلچسپ تردید کی کہ یہ سب کچھ ہم نے نہیں معاہدے کا حصہ بنایا بلکہ کئی برسوں سے شامل ہے، سوال یہ نہیں کہ کس نے ایسا کیا تھا، اگر آپ کو بھی یہ سزائیں اور جرمانے ٹھیک نہیں لگتے تو ختم کر دیتے کون پوچھتا، ہمارے کرکٹرز کی بڑی تعداد انگریزی میں مہارت نہیں رکھتی،انھیں کون سا یہ زبان سیکھ کر اعلیٰ حکام کی خوشامد کر کے نوکری لینا ہوتی ہے، ان کا کام تو بیٹ یا گیند سے اپنی صلاحیتوں کا اظہار کرنا ہے۔

ماضی میں جب انھیں سینٹرل کنٹریکٹ کے کاغذات کا پلندہ ملتا تو وہ صرف معاوضوں والا صفحہ دیکھ کر دستخط کر دیتے، اب کرکٹرز سمجھدار ہو گئے ہیں، ان کے ایجنٹس اور پی ایس ایل کی ٹیموں نے اپنی اہمیت کا احساس دلانے میں اہم کردار ادا کیا،بابر اعظم، شاہین شاہ آفریدی، محمد رضوان اور شاداب خان اب بچے نہیں رہے، ان کو غیرملکی لیگز سے بھی بھاری رقوم کی آفرز ہو رہی ہیں، اگر کوئی یہ سمجھے کہ سزائوں سے ڈرا کر کام نکلوا لے گا تو یہ اس کی غلط فہمی ہے۔

ہمارے کرکٹرز کو ویسے ہی دنیا کے مقابلے میں بہت کم معاوضہ ملتا ہے، اب اگر لیگز کے مواقع بھی ان سے چھن جائیں تو وہ کیاکریں گے، معاہدے میں کئی ایسی چیزوں پر اعتراضات سامنے آئے، اگر آپ نے بورڈ کی اجازت سے ایک مشروب ساز ادارے کے ساتھ سال بھر کا معاہدہ کیا، مگر تین ماہ بعد اس کی حریف کمپنی سے پی سی بی کی ڈیل ہو گئی تو کرکٹر کو معاہدہ ختم کرنا ہوگا، یہ کہاں کا انصاف ہے، بعض کھلاڑیوں کے ایجنٹس یہ بھی شکایت کرتے ہیں کہ وہ جب کسی آفرکا بورڈ کو بتاتے ہیں تو بعض اوقات براہ راست وہی معاہدہ کر لیتا ہے۔

میں نے پہلے بھی ذکر کیا تھا کہ اگر موجودہ روش برقرار رہی تو پاکستان کرکٹ میں بڑے مسائل سامنے آ سکتے ہیں، گذشتہ دنوں خاصا بڑا بحران رہا، وہ تو پی سی بی کی خوش قسمتی ہے کہ فرینڈلی میڈیا ملا ہوا ہے، ہمیں واٹس ایپ پر بنی بنائی خبروں کا عادی بنا دیا گیا اور ہم تحقیقی صحافت سے دور ہو گئے ورنہ سینٹرل کنٹریکٹ کے حوالے سے تنازع ہیڈ لائنز میں شامل ہوتا، صرف 2 ہی صحافیوں کو اس حوالے سے حقائق کا علم تھا،اس بار تو طوفان ٹل گیا لیکن اگر کھلاڑی ڈٹ جاتے کہ جب تک مطالبات پورے نہیں ہوئے وہ کنٹریکٹ پر دستخط نہیں کریں گے تب کیا ہوتا؟

دنیا کو چاند پر پہنچے بھی برسوں بیت گئے اور ہم ابھی تک چھوٹی چھوٹی باتوں پر لڑ رہے ہیں، آپ کو اگر بھارت،آسٹریلیا اور انگلینڈ سے کرکٹ میں مقابلہ کرنا ہے تو اپنے کھلاڑیوں کو بھی ویسی ہی سہولتیں دینا ہوں گی، کرکٹ سے حاصل شدہ پیسہ کرکٹرز پر ہی خرچ ہونے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے، رمیز راجہ اب تک انگلینڈ میں چھٹیاں منا رہے ہیں، ان کی غیر موجودگی میں سی ای او فیصل حسنین نے معاملات بااحسن انداز میں سنبھالے لیکن اب واپسی کے بعد چیئرمین کو کوئی حکمت عملی تشکیل دینا ہوگی، ورلڈکپ سے قبل پھر کوئی تنازع سر اٹھا سکتا ہے۔

اگر پاکستانی ٹیم ایشیا کپ جیت گئی تو وہ بورڈ سے بارگیننگ کی پوزیشن میں آ جائے گی، بصورت دیگر معاملات جوں کے توں رہیں گے، ویسے اب کرکٹرز کو اپنی نمائندہ تنظیم بنانی چاہیے، مصباح الحق اور محمد حفیظ عہدے سنبھالنے کیلیے بہترین انتخاب ثابت ہو سکتے ہیں،ایجنٹس کو بورڈ لفٹ نہیں کراتا لیکن سابق اسٹارز کی بات ضرور سنے گا، ایسوسی ایشن نہ صرف سینٹرل کنٹریکٹ بلکہ کھلاڑیوں کی فلاح و بہبود کے دیگر کام بھی کر سکتی ہے، اس کے پاس اتنے فنڈز ہونے چاہیئں کہ ضرورت مند پلیئرز کی مدد بھی کر سکے۔

اگر موجودہ کھلاڑی کسی اسپانسر سے درخواست کریں تو وہ بھی انکار نہیں کرے گا،ابھی پلیئرز بہتر پوزیشن میں ہیں انھیں اس حوالے سے قدم اٹھانا چاہیے، بورڈ بھی راہ بھی رکاوٹ نہ ڈالے، ایسوسی ایشن سے اسے بھی فائدہ ہوگا،البتہ پاکستان کرکٹ کی روایات دیکھتے ہوئے لگتا نہیں ہے کہ ایسی کوئی کوشش کامیاب ہونے دی جائے،شاید ’’تقسیم کرو اور حکومت کرو‘‘ کی پالیسی ہی چلتی رہے گی۔

(نوٹ: آپ ٹویٹر پر مجھے @saleemkhaliq پر فالو کر سکتے ہیں)

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔