عوام دوست حاکموں سے مسلسل محرومی

محمد سعید آرائیں  جمعرات 18 اگست 2022
m_saeedarain@hotmail.com

[email protected]

1958کے مارشل لا دور میں اپنے شعور میں آنے کے بعد جنرل ایوب خان سے عمران خان تک کی حکومتوں کے 64 سالوں میں تین جنرلوں اور متعدد وزرائے اعظم کی حکومتوں کو دیکھنے کے بعد اس نتیجے پر باآسانی پہنچا جاسکتا ہے کہ ملک کی کوئی ایک بھی حکومت عوام دوست نہیں تھی۔

اس دوران دو تہائی اکثریت کے حامل وزیر اعظم بھٹو سے وزیر اعظم نواز شریف اور پہلی بار گیارہ چھوٹی بڑی جماعتوں کی موجودہ شہباز شریف کی وسیع کابینہ پر مشتمل موجودہ حکومت نے تو شدید ترین مہنگائی کا ریکارڈ قائم کردیا ہے اور ثابت کردیا ہے کہ 64 سالوں میں اب تک کی حکومتوں میں کوئی ایک بھی حکومت عوام دوست ثابت نہیں ہوئی حالانکہ سویلین حکومتیں دعویٰ ہی عوامی ہونے کا کرتی آئی ہیں مگر ان میں حقیقی طور پر کوئی ایک بھی عوام کا خیال رکھنے والی نہیں آئی اور سب نے ثابت کیا ہے کہ وہ سب ایک ہی جیسی تھیں۔

صدر جنرل محمد ایوب کا دور واحد دور تھا جس میں ملاوٹ کو واقعی جرم سمجھا گیا اور حکومت کے خوف سے ہزاروں ٹن مضر صحت کھانے کی اشیا ضایع کی گئی تھیں۔ دکانداروں کو اپنی دکانوں پر رنگ و روغن کرا کے صاف ستھرے ماحول میں کاروبار کرنے کا پابند بنایا گیا تھا۔ اس وقت دکانوں کے لیے شاپ ایکٹ بھی نافذ تھا جو اب متروک ہو چکا ہے اور دکانوں کے کوئی اوقات مقرر ہیں اور نہ ہفتے میں کوئی دکاندار چھٹی کرتا ہے بلکہ بعض علاقوں میں ہوٹل 24 گھنٹے کھلے رہتے ہیں صرف ہفتے میں گوشت کی دکانیں ناغہ کرتی ہیں۔

اب ملاوٹ سے پاک اشیائے خوردنی، دودھ، دہی اور چائے تک کا خالص ہونے کا تصور ختم ہو چکا ہے اور ملاوٹ زدہ اشیا کا معیار چیک کرنے اور ملک میں مہنگائی پر کنٹرول کرنے والے سرکاری ادارے تو موجود ہیں مگرکوئی اپنی ذمے داری پوری نہیں کر رہا ۔

ملک میں پہلے بیورو آف سپلائی اینڈ پرائس ہوتا تھا ، جس کا ہر صوبے میں ڈی جی ہوتا تھا جو اضلاع کے دورے کرکے عملے کو متحرک رکھتا تھا اور ہر شہر میں مارکیٹ کمیٹیاں بھی اسی بیورو کے ماتحت ہوتی تھیں۔ جنرل مشرف سے قبل ہر ضلع کا ڈپٹی کمشنر ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ، اسسٹنٹ کمشنر ایس ڈی ایم اور مختار کاروں و تحصیل داروں کو فرسٹ کلاس مجسٹریٹ کے اختیارات حاصل ہوتے تھے اور ہر ڈویژن کا کمشنر ان معاملات پر نظر رکھتا تھا۔

ضلع انتظامیہ مہنگائی پر عام طور پر اور رمضان المبارک میں خاص طور پر نظر رکھتی تھی اور سرکاری افسروں کے علاوہ تاجروں، صحافیوں اور معززین شہر پر مشتمل کمیٹیوں کے ڈپٹی کمشنر اجلاس منعقد کرتے تھے اور میونسپل کمیٹیوں میں ہیلتھ آفیسر اور بلدیہ عظمیٰ میں ڈائریکٹ ہیلتھ اور میونسپل مجسٹریٹ ہوتے تھے جو مہنگائی اور ملاوٹی اشیا پر نظر رکھتے اور ذخیرہ اندوزوں، ناجائز منافع خوروں اور ملاوٹ کرنے والے اداروں اور دکانداروں پر نظر رکھتے تھے۔

اب کھلا دودھ اور پیک دودھ، گھی، تیل، مسالہ جات تو کیا پینے کا پانی اور سبزیاں اور پھل تک خالص نہیں ملتے۔  گندے پانی سے سبزیاں کاشت ہو رہی ہیں۔ پھلوں کو مصنوعی طور پر پکایا ہی نہیں جاتا بلکہ اب پھلوں میں مصنوعی مٹھاس شامل کی جا رہی ہے۔

ایک جنرل ایوب کی حکومت تھی جس میں چار آنے چینی پر فی کلو بڑھے تھے تو ملک میں ہنگامے شروع ہوگئے تھے اور آج حکومت پورے سو روپے لیٹر پٹرولیم مصنوعات پر بڑھائے مگر مجبور عوام سڑکوں پر آ کر احتجاج کرنے کی پوزیشن میں نہیں رہے ہیں اور اپنا جائز حق مانگنے کے لیے سڑکوں پر آنے والے اساتذہ، خواتین اور مہنگائی میں تنخواہ بڑھانے کا مطالبہ کرنے والے سرکاری ملازم حاکموں کے قریب جائیں تو ان پر شیلنگ اور لاٹھی چارج ہوتا ہے اور یہ لوگ یہ احتجاج بھی اس لیے کر لیتے ہیں کہ ان کی یونین ہوتی ہیں جب کہ عام لوگوں کی کوئی یونین نہیں ہوتی اور وہ حکومت کے رحم و کرم پر ہوتے ہیں۔

چینی کے کارخانے، گھی کی فیکٹری، فلور ملیں، مسالہ بنانے والے ادارے، چاول، گندم کاشت کرنے والوں کی زمینیں، پبلک ٹرانسپورٹ اکثر طور پر عوام کے منتخب ہونے والے نمایندے جو زمیندار اور صنعت کار ہوتے ہیں یہ لوگ عوام کو ریلیف فراہم کرنے پر یقین ہی نہیں رکھتے بلکہ عوام کے ووٹوں سے منتخب ہو کر اسمبلیوں میں عوام کی نمایندگی کے یہ دعویدار حاکم بن کر عوام دشمن بن جاتے ہیں اور انھیں اپنے ووٹروں کا کوئی احساس نہیں رہتا بلکہ یہ اپنے سرکاری عہدے صرف اور صرف اپنے ذاتی و مالی مفادات کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

ہر حکومت میں چہرے وہی ہوتے ہیں نظام پرانا ہی رہتا ہے جو 75 سالوں میں نہیں بدلا اور نہ ہی بدلنے کی امید ہے۔ ووٹ مانگتے وقت انھیں عوام یاد آتے ضرور ہیں مگر ووٹ لینے کے لیے عوام کو سنہرے خواب دکھاتے ہیں جھوٹے وعدے کرتے ہیں اور ووٹ لے کر غائب ہو جاتے ہیں کیونکہ حقیقی طور پر کوئی بھی عوام سے مخلص ہے نہ ہی اسے عوام کا کوئی خیال ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔